’’ یوسفی کی طرزپہ خاک کے خاکوں کا خاکہ ‘‘

نوشین قمر

ینگ ویمن رائٹر فورم اسلام آباد چیپٹر

دو ماہ پہلے کی بات ہے کہ معافیہ کا خاکہ پڑھا اور اس سے تحریک لیتے ہوئے ایک اپنا خاکہ لکھ ڈالا ۔ ابھی اس کتاب کا محظ سرِ ورق ہی دیکھا تھا اور اس کے چند الفاظ ’’بنام عہد یوسفی ‘‘ذہن کے خالی خانوں میں کہیں کھو گئے تھے ۔ ابھی چند روز پہلے معلوم ہوا کہ ہمارا فورم اس کتاب کی رونمائی اور پذیرائی پر ایک تقریب منعقد کروا رہا ہے تو وہی عہدِ یوسفی خالی ڈبے میں ٹن ٹن کرنے لگا ۔ کئی دکانوں کی خاک چھانی مگر خاک سے بنے پتلوں کے خاکوں کا مجموعہ کہیں دستیاب نہ ہو سکا ۔ کتاب کی فراہمی محترمہ رابعہ بصری نے یقینی بنائی ۔ میری عادت ہے ۔ نہ جانے کیسی عادت ہے کہ اگر کوئی مرتبہ کتاب ہو تو اسے الٹا پڑھنا شروع کرتی ہوں سو اس بار بھی ایسا ہی کیا ۔ سمجھ نہ سکی کہ گُلہائے عقیدت کس بنا





پر پیش کیا گیا ہے سو اپنی اس روایت کو توڑتے ہوئے کتاب کو سیدھا پڑھنا شروع کیا ۔ مگر یہ کیا کہ’’ پس و پیش لفظ‘‘ بہ مشکل ہی پڑھا ہو گا کہ اسے پسِ پشت ڈالنے کو جی چاہا ۔ خدا کی پناہ اس تحریر نے میری اس خوش فہمی کو رد کر ڈالا کہ وہ جو خود پہ گماں کیے بیٹھے تھے کہ ہمیں اردو کی آ دھی الف آتی ہے اب لگنے لگا تھا کہ اس آدھی کو مزید آدھا کر لیا جائے ۔
بھلا ہو ( اندازِ زلیخائی ) کا کہ جس کی چھوٹی ی پر ہمزہ کے علاوہ اور کہیں ہمزہ تھا ہی نہیں ۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید محترم طارق صاحب کو صرف زلیخا کے ہی ہمزہ سے لگاؤ ہے یا پھر یوسفی صاحب کا کوئی اور ہی اندازِ تحریر ہے کہ جس کی طرز پر بڑی ے کو ہمزہ سے جدا کر ڈالا ہے ۔ پھر خیال آیا کہ شاید MS WORD پر tayping کی بدولت یہ غلطی سرزد ہوئی ہو گی کہ جو (ے) اور ہمزہ کے جوڑ سے پیدائشی بیر رکھتا ہے ۔ مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے یہ ہمزہ تو سرِ ورق سے ہی غائب تھا سو ہم اندازِ زلیخائی کی غلطی اسی پہ دھر دیتے ہیں ۔ اس تحریر کو پڑھ کر حوصلہ ملا اور کتاب مرتب کرنے کی اصل وجہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو کر سامنے آئی اور ایسے آئی کہ خاک کا سفر ’’ ہوئے جم کے ہم جو رسوا‘‘سے شروع ہوا تو اس نے ’’بطرزِ یوسفی‘‘ پرآ کر ہی دم لیا ۔یہاں یوسفی صاحب کا ایک جملہ ان تمام خواتین و حضرات پر صادر فرمایا کہ :
’’ مجھے اپنے بارے میں جتنا جھوٹ بولنا ہوتا ہے وہ میں خود بول لیتا ہوں ‘‘۔

تمام خاکساروں نے یوسفی صاحب کی اس بات کو ثابت کر دکھایاہے ۔ شاید خواتین کا لفظ میں غلطی سے لکھ بیٹھی اگر ان تمام کو نوخیز دوشیزائیں کہا جائے ( جو کہ ان میں سے ایک دو ہیں بھی سہی ) تو بے جا نہ ہو گا کہ ان کی ڈکشنری میں سولہ سے آگے کا کوئی ہندسہ وجود نہیں رکھتا ہے ۔ تو گویا ان کی عمریں آخری عمر میں بھی اتنی ہی ہوں گی ۔جہاں تک اس صنفِ نازک کی پسند کا ذکر آیا ہے وہاں چند نے تو ہاتھ کھینچ لیے مگر بیشتر کے لیے یوسفی صاحب ہی فرما تے ہیں کہ :
’’ہر لڑکی کو کسی نہ کسی طرح یہ باور کرا دو کہ وہ بے حد حسین ہے ۔اس کے بعد وہ
تمہارے بقیہ جھو ٹ بھی سچ مان لے گی ۔‘‘
دوسری جانب مرد حضرات کی اجتماعی پسند کی اگر بات کی جائے تو وہ صنفِ نازک کے سوا شاید ہی کچھ اور ہو ۔اور اس پسند کا ایسا اثر ہے کہ وہ بھی اپنی عمریں بتانے





سے گریز ہی برت گئے اور باتوں باتوں میں گول بھی کر گئے ۔ اور کیوں نہ کرتے کہ اپنے دفاع کے لیے وکلا کو بہت سے حربے آتے ہیں ۔ اور اس مجموعے کے چند خاکہ نگار وکیل بھی ہیں ۔یہ کمی نہ جانے مجھے کیوں کھٹکی کہ زیادہ تر خاکوں کا اختتام اچانک ہو گیا ۔ایک تشنگی باقی رہتی ہے کہ کوئی اختتامی جملہ ضرور ہوتا ۔اس سے میری مراد تاریخِ وفات کا لکھے جانا ہر گز نہیں ہے ۔
یہ بات چاہے محظ اتفاق ہے یا دانستہ کہ مستنصر حسین تارڑ صاحب ، جوش کی یادوں کی بارات کا ذکراور بھوسے کے ڈھیر سے سوئی کی تلاش بیشتر خاکوں کی زینت بنی ہے ،مگر مجھے اس کی معقول وجہ معلوم نہ ہو سکی ۔ ایک دفعہ تو یہ بھی گمان گزرا کہ کہیں کاپی پیسٹ کی عملی مشق کا مظاہرہ کیا گیا ہے ساتھ ہی دوسری جانب یہ بھی انکشاف ہوا کہ اگر ان تمام خاکوں میں سے چند ایک جملے اٹھا لیے جائیں تو تقریباََ میرا خاکہ بھی وجود میں آ سکتا ہے ۔
انکشافات کی دنیا کو ترک کرتے ہوئے حقیقی دنیا میں آتے ہیں اور بات کرتے ہیں کہ کس نے کیسے لکھنا شروع کیا ۔ بعض کا یہ کہنا ہے کہ انہیں لکھنا نہیں آتا تبھی ان کے خاکے ٹائپ شدہ حالت میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سب سے منفرد اور خوبصورت بات مجھے تاج رضوی صاحب کی لگی جو ’’ خود پہ جو ہنس سکے ‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’ اپنے وجود کے خاک ہو جانے کا خوف جب آواز دیتا ہے کہ لکھو اور میں لکھ دیتا ہوں۔‘‘
رضا شاہ جیلانی نے اگرچہ ’’ بلا عنوان ‘‘ لکھا ہے مگر ان کی اس بات میں ایک مکمل عنوان چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ پہلی تحریر چند سال کی عمر میں لکھی تھی ۔گو اماں کہتی ہیں کہ لکھا کیا تھا دیوار پہ آدھی ٹیڑھی
لکیریں کھینچی تھیں ۔اب واضح نہیں ہے کہ نثر تھی یا شاعری ۔‘‘
جہاں لکھنے کی بات آئی ہے وہیں تصانیف کا بھی ذکر کیے دیتے ہیں اکثر و بیشتر تو






باقاعدہ مصنف ہیں مگر جو میری نظر میں سب سے اچھوتے مصنف ہیں وہ جاوید مرزا صاحب ہیں جو ’’ خاکہ نگاری بہ اندازِ شخصی خواری ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے خود کو اسی دن مصنف مان لیا تھا جس دن انہوں نے اپنے نکاح نامے پہ دستخط کیے تھے اور یہی ان کی پہلی تصنیف تھی ۔ اگر نکاح نامے کا شمار تصانیف میں کیا جانے لگا ہے تو ہم بھی تازی تازی مصنفہ ہیں ۔’’ مرزا بانکے‘‘ کے عنوان سے ناصر صاحب نے جو خاکہ لکھا ہے وہ میری سمجھ سے بلکل باہر تھا اس کے محظ سو ڈالر ہی میرے پلے پڑے ۔ سلمان باسط نے ’’ ڈھول کے پول ‘‘ خاکے کے آخر میں ایسے کھولے ہیں کہ انہیں ٹائی کے بغیر ہی خاکے کے میدان میں خوش آمدید کہا جا سکتا ہے ۔ چلتے چلتے کوثر ناز نے جو ’’ آداب عرض کہا ‘‘ توہم بھی وعلیکم آداب کہنے کو ٹھہر گئے ۔ عتیق الرحمان ’’ تزکِ عتیقی ‘‘ میں اپنے شاعر بننے کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ’’کبوتر جا ۔جا۔ جا ‘‘کے سروں پہ شاعر مان لیا گیا تھا تو کیوں نہ ہم ’’ کبوتر آ۔آ۔آ ‘‘ کہہ کر خود کو شاعرہ کہلوا ڈالیں ۔ مگر کیا کریں یہ یوسفی صاحب پہلے ہی مجھ جیسے شاعروں کے لیے فرما چکے ہیں کہ :
’’بہت سارے شاعر ایسے ہوتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی وہ زندہ رہتے ہیں ۔
شاعر مر جاتا ہے مگر کلام زندہ رہتا ہے ۔ اردو شاعری کو بس یہی چیز لے ڈوبی ۔ ‘‘
آلِ حسن خان اگر ’’ دوست کی نظر ‘‘ میں خود لکھتے تو شاید اس سے بھی زیادہ بہتراور خوبصورت نقشہ کھینچ سکتے تھے ۔ مگر شاید یہاں وہ یوسفی کی اس بات پر عمل کر گزرے ہیں کہ :
’’دنیا میں ہر بات منطق کے مطابق ہونے لگے تو خدا کی قسم زندگی اجیرن ہو جائے ۔ ‘‘
جہاں فوزیہ قریشی ’’ بے زار نامہ ‘‘ میں لکھتی ہیں کہ :
’’ کبھی استانی تھی ۔ جب احساس ہوا کہ جب اپنی ہی اصلاح نہ ہو سکی تو آنے والی
نسلوں اور قوم کے معماروں کی کیا کروں گی تو چھوڑ دیا ۔‘‘
بجائے چھوڑنے کے اگر ان خلاؤں کو پُر کر لیتی جو آپ کی اصلاح نہ کر سکے تو زیادہ اچھے طریقے سے قوم کے معماروں کی اصلاح کر سکتی تھیں ۔ مگر خود کو طالب علموں کی بد دعاؤں سے بچا لینا بھی ایک استادی ہی ہے ۔ اور اس بارے میںیوسفی صاحب کے خیالات کچھ یوں ہیں :
’’پڑھانے میں اور اپنے آپ کو استاد کہلوانے میں جو سو بوتلو ں کا نشہ ہے وہ بادشاہی
میں ہو تو ہو۔ورنہ دنیا کا ہر مزا اس کے سامنے ہیج ہے ۔ ‘‘
ہمیں بھی ایک عرصے میں سو بوتلوں کا یہ نشہ رہا ہے ۔جب یوسفی صاحب کا ایک مضمون پڑھانے کے بعد مجھ سے پوچھا گیا کہ







میڈم اس کے ساتھ سنِ وفات کیوں نہیں لکھا گیا تو میں نے مکمل خاموشی اختیار کر لی کہ اس سوال کا جواب آپ کو کل دوں گی۔کیوں کہ میں اپنی کم عقلی اور بے خبری کی وجہ سے نہیں جانتی تھی کہ وہ حیات ہیں یا چل بسے ۔ اگلے رو زمکمل معلومات کے ساتھ پوری کلاس کو آگاہ کیا اور ان کے چٹکلے بھی سنائے ۔ یہ تحریر بھی بس انہی کی طرز کا ایک نمونہ تھی ۔ اب یہ کس حد تک تھی یہ آپ لوگ ہی بہتر بتا سکتے ہیں ۔ آخر میں اس بڑی ،منفرد اور کامیاب کوشش پر اس کی مکمل ٹیم کو مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔
مشتاق احمد یوسفی اپنی ادبی خدمات کی وجہ سے تو ہمیشہ ہی ادب کے میدان میں زندہ رہیں گے ۔اللہ پاک انہیں عمرِ خضر عطا فرمائے ۔مگر ان خاکوں نے انہیں ایک الگ اور منفرد حیات بخشی ہے ۔وہ حیات کہ جس میں یوسفی صاحب اپنے ہر انگ ڈھنگ سے زندگی جیتے دکھائی دیتے ہیں جس کا کسی بھی مقام پر کوئی اختتام نہیں ہے ۔اور یہی ادب کی اور اس کے لکھنے والوں کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ کس طرح اپنے انمول خزانوں کو حیاتِ جاوداں بخشتے ہیں ۔جس کی بہترین مثال احمد رضوان صاحب نے ’’ عہدِ یوسفی اور خوابوں کو تعبیر ملنا ‘‘ میں کھلے دل اور عمدہ خیالات سے دی ہے ۔ ایسی ہی مزید کاوشیں ہوتی رہنی چاہیں ۔لوگ آتے ہیں اور کارواں بنتا جلتا جاتا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ یوسفی کا یہ کارواں اب جو پہلا قدم اٹھا چکا ہے تو آخری دم منزل پہ ہی لے گا ۔





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*