جان ہے تو جہان ہے۔!

تحریر: محسن علی ساجد
کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔واقعی انسان صحتمند ہوتو پہاڑوں سے بھی ٹکرانے کی قوت رکھتا ہے اور جب یہی انسان مریض کے روپ میں ہوتو جیسے تیز ہوا کا جھونکا بھی

اُسے ایسے لگتا ہے جیسے گرِا کے گزر جائے۔آج ٹیکنالوجی کا دور ہے ،انسان تیز تر ترقی کی طرف گامزن ہے ،ماہرین کا کہنا ہے کہ جوں جوں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا جارہا ہے ،انسانی صحت کو بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ،مثلاً آج کے نوجوان ،بچے سب کے ہاتھوں میں موبائل فون ہیںاور ہر وقت موبائل کااستعال آنکھوں ،کاندھوں کے لیئے مصز ثابت ہوتا ہے ،اس لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کیساتھ ساتھ چاہیے کہ احتیاطی تدابیر کا بھی استعمال کیاجائے،ساتھ ساتھ ورزش کا استعمال بھی یقینی بنایا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ معمول سے ہلکی پھلکی ورزش کرتے ہیں اُن میں دوسرے لوگوں کی نسبت بیماریوں کی تشخیص کم ہوتی ہے ،آج کا نوجوان موبائل فون آدھی آدھی رات تک تو استعمال کرتا ہے لیکن صبح کی اذان کے وقت جب پکارا جاتا ہے کہ ”آﺅ کامیابی کی طرف“ تو یہی نوجوان لمبی تان کر سویا ہوتا ہے ،اس لیے خُدارا نوجوان ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کریں لیکن ساتھ ساتھ اپنے رب اقدس کے حضور بھی سربسجود ہوں۔پانچ وقت کی نماز میں ایک تو عبادت دوسری ورزش اور تیسری بات یہ کہ دن میں پانچ دفعہ وضو کرنے سے انسان پاک وپاکیزہ رہتا ہے ۔شاعر مشرق حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کہتے ہیں کہ
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزاروں سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
بات ہورہی تھی صحت کی ۔صحتمند تندرست وتوانا معاشرے ہی دُنیا میں اپنا مقام بناتے ہیںاور ان معاشروں کی تندرستی کیلئے وہاں کے حکمرانوں کی کاوشیں شامل ہوتی ہیں ،وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی حالیہ عرصہ میں صحت کے شعبہ میں کافی بہتری دیکھنے میں آئی،2013ءمیں جب موجودہ جمہوری حکومت برسراقتدار آئی توصحت کے مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ پولیو کا تھا اور اِس کے زیادہ تر کیس بھی خیبر پختونخوا،فاٹا اور بلوچستان میں تھے،دہشتگردی کی وجہ سے اِن علاقوں میں پولیو ورکرز کی رسائی مشکل تھی لیکن جوں جوں دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا ساتھ ساتھ حکومت نے پولیو کیخلاف بھی کامیاب جنگ لڑی اور آج پاکستان میں پولیو کیس نہ ہونے کے برابر ہیں،اِن کوششوں میں ہم اُن شہید پولیو ورکرز کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پولیو کے خاتمہ کی جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے،پولیو کے خاتمہ کیساتھ ساتھ ہسپتالوں کے بہتر انتظامات،نئے ہسپتالوں کا قیام اور کئی اہم اقدامات اُٹھائے گئے،اِن کاوشوں میں وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں۔انہی کاوشوں کے تسلسل میں گزشتہ روز وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شاہد خاقان عباسی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے پھلگراں میں جدید سہولیات کے حامل ذیا بطیس مرکز کا افتتاح کیا اس موقع پر وزیر اعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے صحت سائرہ افضل تارڑ ودیگر حکام بھی موجود تھے،وزیر اعظم نے 10 کروڑ روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا،اس موقع پروزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹی ڈی سی ذیابیطس کی نگہداشت، علاج اور آگاہی پر مرکوز ہے اور ایک چھت تلے 12 خصوصی مراکز قائم کئے گئے ہیں، کلینک میں اب تک 17 ہزار مریضوں کا مفت علاج کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ہر ہفتے 500 مریضوں کی نگہداشت کی جاتی ہے جو شمالی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے آتے ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مخیر حضرات پر بھی زور دیا کہ اس سہولت کو مزید وسعت دینے کیلئے فراخدلانہ معاونت کریں۔انہوں نے کہا کہ ذیابیطس ایک بڑا چیلنج ہے اور ملک بھر میں اسی طرح کے مراکز کے قیام کے ذریعے فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ مرکز نہ صرف ملک بلکہ علاقہ کیلئے ایک ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔جہاں وفاقی حکومت صحت کے شعبے میں گراں قدر خدمات اُٹھا رہی ہے وہاںوزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہباز شریف کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں جو آئے روز ہسپتالوں کے دورے کررہے ہیں۔پنجاب میں صحت کے اقدامات باقی تمام صوبوں سے زیادہ ہیں اور اِس کا سہرا وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور اُن کی ٹیم کو جاتا ہے ۔گزشتہ روز بھی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 100 بستروں پر مشتمل تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کاہنہ کا افتتاح کیا ،افتتاح کے بعد وزیر اعلیٰ نے ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا ، مختلف وارڈز میں گئے اور مریضوں کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔وزیراعلیٰ شہباز شریف نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولتوں کے بارے میں بھی دریافت کیا اس موقع پر وزیراعلیٰ نے مریضوں سے پنجابی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایہہ ہسپتال تہاڈے لئی بنایا گیا اے تے ایتھے ہر طرح دی طبی سہولت موجود اے‘ ہسپتال میں موجود خواتین مریضوںنے وزیراعلیٰ کو ڈھیروں دعائیں دیں اور کہا کہ ”تسی بڑا سوہنا ہسپتال بنایا اے ،تے اسی سارے تہاڈے واسطے دعاواں کردے آں تے اللہ تعالیٰ تہانوں دکھی انسانیت دی خدمت دی مزید توفیق دیوے‘۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا یہ جذبہ اُنہیں سب سے یکساں کردیتا ہے کہ وہ جہاں بھی جائیں غریبوں میں گھل مل جاتے ہیں اور یہی جذبہ عوام میں اُن کی مقبولیت کا باعث ہے ،دیگر صوبوں کو بھی چاہیے کہ وہ صحت کے شعبے کی مضبوطی کیلئے مزید اقدامات اُٹھائیں،خاص کر سندھ میں تھر کے علاقے میں کئی بچے بھوک اور بیماریوں کے باعث لقمہ اجل بن رے ہیں اِس لیے ہماری سندھ میں حکمران جماعت سے بھی استدعا ہے کہ وہ اِن معصوم کلیوں کی صحت وتندرستی کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔

Email: mohsinalisajid92@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*