بیسویں صدی- دنیا بھر میں امریکا کے 100جنگی جرائم

تحریر: ایس ایم شاہ
اپریل 1916میں امریکی بری فوج نے ڈومنیکن میں ہونے والی عوامی آزادی کی تحریک کو سرکوب کرکے 8سال تک اس ملک پر جابرانہ قبضہ کیے رکھا۔
6اگست 1945کو اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دیا۔ اس حملے کے باعث چند منٹوں میں 78150افراد لقمہ اجل بن گئے۔ علاوہ ازیں ان حملوں میں وہاں کے لاکھوں شہری متاثر ہوئے۔9اگست 1945کو ہیری ٹرومین نے دوسری مرتبہ جاپان کے شہر ناکاساکی پر ایٹمی بمباری کا حکم دیا۔ وہاں پر امریکی حملے کے نتیجے میں 73884ہزار افراد لقمہ اجل اور 60ہزار افرادسے زیادہ وہاں کے بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف وہاں کے انسان متاثر ہوئے بلکہ حیوانات سمیت وہاں کی کھیت کھلیاں بھی مکمل کھنڈرات میں بدل گئیں۔ 28دسمبر1945کو امریکی صدر ہیری ٹرومین نے سعودی عرب کے شہر ظہران میں امریکی فوج کے لیے باقاعدہ فوجی چھاونی بنانے کا حکم دیا۔ یہ سعودی عرب بلکہ جزیرۃ العرب میں پہلی امریکی چھاؤنی شمار ہوتی ہے۔ 1946کو امریکا نےاتریش میں 250ہزار ٹن کیمیائی گیس کا انکشاف کیا۔ پھر اسے ختم کرنے کی بجائے مخفیانہ طور پر امریکا منتقل کر دیا گیا۔ 1949میں امریکا نے یونان کو داخلی جنگ میں الجھا دیا۔درنتیجہ ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ افراد جان سے گئے، 40ہزار افراد گرفتار ہوئے اور ان میں سے 6ہزار افراد کو یونانی عدالت کی وساطت سے پھانسی پر چھڑھایا گیا۔ امریکی سیرت میکویچ نے بعد میں اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ1947سےلیکر 1949 تک یونان میں ہونے والے قتل و غارت گری کی پلاننگ مکمل طور پر وائٹ ہاؤس میں ہوئی تھی۔3مارچ 1949کو امریکی سی آئی نے شام پر حسنی زعیم کے ذریعے حملہ کرایا۔14اگست1949کو شام کے بعض آفیسروں کے ذریعے اسی حسنی الزعیم کا محاصرہ کرایا کہ جس کی وساطت سے امریکا نے وہاں پر آپریشن لانچ کیا تھا۔ بعد میں امریکا کے حکم کی عدولی پر اسے قتل کرایاگیا۔26جون کو امریکا نے جنوبی کوریا کی خاطر شمالی کوریا میں فوجی مداخلت شروع کردی۔ 10مارچ 1952کو امریکا نے جنرل بٹیسٹا کو کیوبا میں فوجی بغاوت پر اکسایا۔ جب اس نے وہاں کا زمام اقتدار اپنے ہاتھوں لے لیا تو امریکا نے اپنی پالیسیوں پر اس کے ذریعے وہاں عملدرآمد کرایا۔19اگست1953کو امریکی سی آئی اےنےمصدق حکومت کے خلاف بغاوت کی چال چلی۔ جو اس وقت ایران میں 25مرداد کی بغاوت کے عنوان سےمشہورہے۔27جون 1954کو امریکی ائیرفورس نے گواتما لاکے اطراف میں B26کے ذریعے حملہ کیا۔ 15جولائی 1958کو لبنان پر بحری بیڑے کے ذریعےحملہ کرکے وہاں پر اپنا قبضہ جمالیا۔ پھر وائٹ ہاؤس نے باضابطہ کمیل شمعون کی حمایت کا اعلان کردیا۔ 16اپریل 1961کو امریکا نے کیوبا میں وہاں سے فرارشدہ افراد کی وساطت سے بغاوت کراکے زمام اقتدار اپنے اختیار میں لینے کی ٹھان لی ۔بحری بیڑے کے ذریعے مدد پہنچانے کے علاوہ وہاں کھل کر باغیوں کی بھرپورمدد کی ۔اس جنگ میں امریکا کو اپنے منہ کی کھانی پڑی اور بری طرح شکست سے دوچار ہوا۔ 1964میں امریکا نے اپنے حمایتیوں کی مدد کرنے کے لیے لاؤس پرمسلحانہ کاروائی کی۔ اس ظالمانہ حملے میں 50ہزار امریکی فوج اور آفیسر، 1500لڑاکا طیارے اور 40بحری بیڑے حصہ لے رہے تھے۔ اس جنگ میں امریکا نے کھل کر کیمیائی ہتھیار کا استعمال کیا۔ 30جولائی 1964کو امریکی سی آئی اے نے وتنام کے خلیج ٹونکین میں فوجی آپریشن کیا۔ یہ آپریشن B34کا حصہ تھا۔ تاکہ وتنام میں امریکی مداخلت کے لیے جواز فراہم کیا جاسکے۔ یکم مئی 1965کو امریکی بحری بیڑے اور جنگی جہازوں سمیت 1700بحری فوج اور 2500بری فوج کو ڈومنیکن منتقل کیاگیا۔4مئی 1965کو امریکی صدرجانسن نے بغیر کسی سبب کے 1400امریکی فوج سان ڈومنجو پر قبضہ جمانے کے لیے بھیجنے کا حکم دیا۔ 24دسمبر1966کو امریکی فوجیوں نے وتنام کے بے گناہ ایک لاکھ پیچیس ہزار عوام کا قتل عام کیا۔ درحالیکہ اس حملے سے پہلے امریکا نے اعلان کیا تھا کہ نئے سال کی مناسبت سے 48گھنٹوں کے لیے جنگ کو روکا جائے گا۔ 1968میں سی آئی اے نےسوہارتو کے ذریعے انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو کے خلاف بغاوت کرایا۔سوئیکارنونے پہلے انڈونیشیا کو جاپان سے پھر ہالینڈ سے آزاد کرایا تھا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں ایک ملین شہری لقمہ اجل بن گئے۔ 4اپریل 1968کو سی آئی اے نے مارٹین لوٹر کو قتل کرادیا جو سیاہ پوستوں کے خلاف ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھایا کرتا تھا۔ 1969کو اس وقت کے اسی آئی اےکے سربراہ نے1800وتنام کے عام شہریوں کو قتل کرایا۔تاکہ اس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کی تعداد کو 40ہزار تک پہنچایا جاسکے۔ 20اپریل 1970 کو 32ہزار بری فوج، 500جنگی جہازوں اور 40بحری بیڑوں کی مدد سے امریکا نے کامبوج پر اپنا قبضہ جما لیا۔



5ستمبر1973کوامریکی صدر نیکسن نے مشرق وسطی میں تیل صادر کرنے والے ممالک کو دھمکی دی کہ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر تیل کی قیمت بڑھانے سے باز رہے۔ بصورت دیگر ان ممالک کو تیل کی مارکٹوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ 11ستمبر1973کو سی آئی اے نے اس وقت کے شیلی کے صدر سلواڈورآلندہ کے خلاف بغاوت کھڑی کر دی درنتیجہ اسےقتل کیا گیا اور اس بغاوت کے نتیجےمیں 30ہزار افراد کو پھانسی ہوئی اور ایک لاکھ افراد گرفتار ہوگئے۔14جولائی 1977کو امریکی ” سنا” نے نائٹروجن بنانے کی اجازت دے دی۔23جون1977کو امریکی “سنا” نے نائٹروجن بم بنانے پر پابندی کی مخالف کردی۔ نائٹروجن بم عمارتوں اور بلڈنگ وغیرہ کو خراب کیے بغیر انسان کو قتل کر سکتا ہے۔ 20اکتوبر1977کو وہاں کے توانائی کے وزیرجیمی چلنجر نے اعلان کردیا ممکن ہے کہ کل کو مشرق وسطی میں ہمارے آنے والی حکومت کو تیل سپلائی کرنے والے ممالک کو سپورٹ کرنا پڑے۔ اس وقت امریکا والے سمجھ جائیں گے کہ اس وقت کے لیے ابھی سے پلاننگ کیے رکھنا کتنا اہم ہے۔ ممکن ہے یہ ہمیں ان مقاصد کے حصول کے لیے وہاں فوج داخل کرنا پڑے۔20جنوری 1979کو اس وقت کے امریکی حکومت نے سی آئی سے تقاضا کیا کہ دنیا بھر میں ہونے والی اسلامی تحریکوں میں ایک جامع تحقیق انجام دی جائے۔ 9اگست 1979کو سیکورٹی کے سربراہ نے اعلان کیاکہ امریکا 2سال پہلے ہی اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کی خاطر ایک خصوصی فورس تشکیل دے کر ان کے ذریعے مختلف جگہوں میں بحرانی صورت پیدا کرکے دنیا کو بے سکون بنا دیا ہے۔1) جاری)




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*