مری بائیکاٹ مہم آخری وجوہات ہیں کیا ؟؟؟

تحریر: عبدالہادی قریشی ، عرفان آباد ترامڑی اسلام آباد

بائیکاٹ کسی بھی علاقے ، شہر یا ملک سے انسانوں کی جانب سے کیا جائے وہ بائیکاٹ انسانوں کا
انسانوں کی منفی حرکتوں اور رویوں کی وجوہات پر کیا جاتا ہے آج کل یہی قطع تعلق جسے مری بائیکاٹ
مہم کانام دیا جا رہا ہے یہ مہم انٹرنیٹ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس جن میں ٹویٹر اور فیس بک شامل
ہیں یہاں پر پورے پاکستان کی جانب سے کی جا رہی ہے مری بائیکاٹ مہم کا اصل مقصد جو میں اب
تک کی تحقیق سے سمجھ پایا کہ وہاں مری میں کوئی احتساب کرنے والا کوئی چیکنگ کا نظام موجود نہیں ہے مری کے لوگوں کے ادنیٰ سے ادنیٰ چیزکو بھی پیش کرکے اُس کو حصول روزگار کا ذریعہ بنا لیا اور اُس
روزگار سے سیاحوں سے ناجائز پیسے وصول کیئے جا رہے ہیں فیس بک پر پورے پاکستان سے معزز
اور قابل احترام ہونے کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے احباب کا حلقہ مری میں کاروباری افراد کو جاہل
اور جنگلی پہاڑی جانور کہنے پر مجبور ہے وجہ صرف یہی ہے کہ مری والے سیاحوں کے ساتھ بُرا سلوک
کرتے اور اُنھیں مالی لحاظ سے بہت تنگ کرتے ہیں میرے نظریات کے مطابق یہ مہم درست ہے
کیونکہ اب پورا پاکستان اتحاد کر چکا ہے کہ ہم نے مری نہیں جانا مری کو بدنام
کرنے کی سازشیں ہیں مری پاکستان کا حصہ ہے مری کو سوشل میڈیا پر اچھا نہیں دیکھایا جا رہا اور
مری کا تاثر پوری دنیا میں غلط جا رہا ہے یہ کچھ احباب کا اپنا الگ ایک نظریہ ہے اگر مری کے لوگ خود بذات خود



ٹھیک ہوں اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کو دل سے خوش آمدید کہیں اُن سے اپنی چیز کا جائز معاوضہ لیں تو پھر ہر
کوئی مری جانے کو ترجیح دے گا مگر معاملہ یہ ہے کہ مری کا غلط تاثر پوری دنیا میں پیش کرنے پر مری کے عوام نے مجبور کیا ہے کار پارکنگ زیادہ سے زیادہ 50روپے تک ہوتی ہے مری میں پہلی بات کہ کار پارکنگ ملتی بہت مشکلوں سے ہے اور اگرمل بھی جائے تو100سے200روپے کار پارکنگ میں چلے جاتے ہیں ہر سال رمضان
المبارک کے بعد عید الفطر پر پورے اسلامی جمہوریہ پاکستان سے عوام مری اپنے فیملیز کے ہمراہ جاتے تا کہ
پر سکون فضاء میں سانس لیکر اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی قدرتی چیزوں کو دیکھا جائے اُن حَسین و جمیل نظاروں سے
لطف اندوز ہوا جائے کیونکہ انسان شہر کی زندگی سے جب فارغ ہوتے ہیں کام کرکے جب چھٹیاں ملتی ہیں تو
کم سرمائے میں وہ مری جانے کو ترجیح دیتا ہے مگر مری کی عوام بچارے پورے پاکستان سے آئے ہوئے شہریوں
کو لوٹ مار کا نشانہ سرعام بنانے میں مصروف عمل ہے آئس کریم جو عام مارکیٹس میں 20روپے کی ملتی ہے کون
آئس وہی مال روڈ مری میں 40روپے کی ملتی چائے کا کپ جو 30کا ملتا ہے وہی مری میں 60روپے کا ملتا
ہے یہ کاروباری افرادمری کے سیاحوں کو بہت امیر و پیسے والے سمجھ کر پیسے وصول کرتے رہتے ہیں اور اگر کوئی
شخص بحث کرے کہ یہ زیادہ بل کیوں بنایا آپ لوگوں نے تو وہ اپنے ساتھ کے پہاڑی لوگوں کو بُلا کر سیاحوں
پر اُن کی فیملیز کے ساتھ مار پیٹ اور بہت تشدد کا نشانہ بناتے ہیں مری پر فضا ء مقام ہے ٹھنڈی جگہ ہے مگر اب
وہاں جانا فضول ہے جب کسی بھی طرح سے مری کے مکین لوگوں کی عزت نہیں کرتے تو وہاں نہیں جانا چاہیئے
سوشل میڈیا پر پورے پاکستان سے لوگوں نے 5سال تک مری نہ جانے کا اعلان کر دیا ہے اور جن لوگوں کے
ساتھ مری والوں نے ظلم و ستم کیا وہ اپنی آپ بیتی تحریر ی طور پر عوام تک پہنچانے میں مصروف ہیں تا کہ مری
والوں کی اصلیت کا اندازہ پوری پاکستانی عوام کو ہوسکے مری میں باتھ روم انتہائی گندے غلیظ ہوتے ہیں باتھ روم جانے کا کرایہ50روپے زیادہ کوئی دیر لگائے تو 100سے300روپے تک اُس گندے فضلہ پڑے باتھ روم
کا کرایہ وصول کیا جاتا ہے مری میں جانے والے سیاحوں نے کھانوں کی بھی بہت شکایات سوشل میڈیا پر کی ہیں
مری والے 1000روپے کی چکن کڑاہی انتہائی گندے غلیظ کیچن میں کچے ٹماٹروں کے ساتھ بنا کر دیتے ہیں
اس کے علاوہ پانی کی بوتل 60سے100روپے تک اور کوئی پتہ نہیں وہ کمپنی کی بوتل میں پانی اپنے گھر کا ڈال کر



عوام میں فروخت کر رہے ہوں اس بار عید الفطر پر انشاء اللہ پاکستانی عوام مری کا رخ نہیں کریں گے بہت لوٹ لیا
مری والوں نے بہت ظلم ہو گیا پاکستانی عوام پر مری غنڈا گرد کاروباری مافیا کا اب انشاء اللہ 5سال تک پاکستانی عوام مری نہیں جائیں گے سوشل میڈیا پر مری بائیکاٹ مہم مورخہ31دسمبر2023تک جاری رہے گی مہم کو مزید
پھیلانے اور مری والوں کے متعلق آگاہی دینے کے لیئے سوشل میڈیا پر اشتہارات وغیرہ بنانے عوام کے اشتہارات کی شیئرنگ اور مثبت کمنٹس کا سلسلہ جاری ہے عوام الناس کا سوشل میڈیا پر موقف ہے کہ ہم اس بار عید الفطر2018کو گلگت بلتستان ، کوٹلی ستیاں ، ناران کاغان ، وادی ہنرہ ، سوات ، کالام ، کشمیر کے مختلف ضلعوں میں
جاکر اپنے خاندان اور خصوصاََ بچوں کے ساتھ جاکر منائیں گے مری اب نہیں جانا ہے سوشل میڈیا پر عوام الناس
نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ ہم ہزاروں روپے خرچہ کرکے مری جائیں اور مری میں قدم قدم پر چلنے کے لیئے
چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لطف اندوز ہونے کے لیئے پیسہ چاہیئے برف کا سنو مین یہ مری والے بناتے ہیں جو اس
برف کے سنو مین کے ساتھ تصویر بنالے وہ ان سے 50روپے فی بندہ فوٹو کے حساب سے چارج کر لیتے ہیں
حکومت پاکستان اور مری انتظامیہ کاروباری مافیا کو لگام دینے اور ان کا احتساب کرنے میں پوری طرح سے ناکام
ہوچکی ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*