“دفاعِ پاکستان سمینار”

کے نام پر یاران وفا کااجتماع
محمد طیب طاہر
رات کی تاریکی کو چیرتا ہوا سپیدہ سحر نمودار ہو رہا تھا. .. مرغے کی بانگ صبح صادق کا مژدہ سنا رہے تھے. .. رات کی تاریکی ابھی چھٹی نہیں تھی کہ فضا ہر سو “اللہ اکبر ” کی صدائوں سے گونجنے لگی. . .۔
آسمان پر چاند بادلوں سے اٹھکیلیاں کر رہا تھا. .. کبھی نمودار ہوتااور کبھی روپوش. .. جس طرح ایک نئی نویلی دلہن کا گھوگھنٹ اٹھایا جائے تو وہ شرما کر دوپٹے میں منہ کر لیتی. .. کہیں کہیں ستارے ٹمٹماتے بمثل جگنو لگ رہے تھے. .. ۔
خْدا کے محبوب بندے بستروں کو خیرباد کہہ کر اْس کے حضور سجدہ کرنے کو کمر کسنے لگنے. .. دن کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔سورج میاں اپنی تمازت لیے نمودار ہو رہے تھے. . . یہ 6 ستمبر کی صبح کا آغاز تھا. .. اِس رات کی تاریکی اپنے اندر ایک الگ اثر رکھتی ہے. .. یہ وہ خون آشام، مصائب سے پْر رات تھی. .. جو غازیوں کا جگرآزمانے کو گہری ہوئی تھی. .. اْنہیں شہدا ء و غازیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چند جوانوں نے ایک منصوبہ تشکیل دیا. .. ۔
ابتدا کچھ یوں ہوتی ہے کہ. . . امت کی فکر میں گھلنے والے اور پھر اِسی فکر میں اِس دارِفانی سے کوچ کر جانے والے مفکراسلام،نامور صحافی ومصنف حضرت مولانا”اللہ وسایا قاسم رحمۃ اللہ علیہ” کے برخودارمحترم حفیظ چوہدری نے والد مکرم کا لگایا ہوا پودا جو کہ اْنہیں کے ہاتھوں سے درخت بن چکا تھا. .. اْس کو مزید مزین کرنے کے لیے ایک نیک اور کٹھن کام کی ابتدا کرنے کی ٹھانی. .. جو لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور لکھ نہیں پاتے. . . لکھ تو لیتے ہیں، اشاعت نہیں کروا پاتے. .. اْن کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جائے. . . جہاں وہ اِس خواب کو تعبیر دے سکیں ،جو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں. .. اِس کارخیر کی ابتدا” اسلامک رائٹر زموومنٹ پاکستان” کے نام سے کی گئی. .. ۔
اِسی سلسلہ کی ایک کڑی رمضان المبارک میں تحریری مقابلہ بعنوان” قیام پاکستان27 رمضان المبارک کے آئینہ میں” کا انعقاد تھا. .. اس پلیٹ فارم کے سرپرست اعلیٰ مفکراسلام ،حضرت علامہ مولانازاہد الراشدی ہیں،نائب سرپرست اعلیٰ شیخ العاملین حکیم سید مزمل حسین نقشبندی اور نگران مقابلہ حضرت مولانا عبد القدوس محمدی (ترجمان وفاق المدارس العربیہ پاکستان)ہیں۔
جس میں صرف ملک بھر سے نہیں بلکہ اقوام عالم سے خواتین و حضرات نے بھرپور حصہ لیا. . . تحاریر کو مختلف مراحل سے گذار کا نتیجہ کا اعلان کیا گیا. . .جس میں ہماری بہنیں پہلی تینوں پوزیشنوں پر غالب رہیں. . .جو کہ ایک بہت خوش آئند بات ہے. . .۔ اْس قوم کے قدم کامیابی نے بہت جلد چومے جہاں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں رہیں. . . نتائج کے اعلان ہو جانے کے بعد اگلا مرحلہ تھا. . .انعامات کی تقسیم کا. . .جس کے لیے اِس کے شایانِ شان ایک تقریب کا انعقاد ضروری تھا. . . اِس کے لیے “الشرعیہ اکیڈمی” گوجرانوالہ کو منتخب کیا گیا. . .اِس میں بھی بڑوں کا ادب سکھلانا مقصود تھا. . .۔
6 ستمبر کو “دفاعِ پاکستان سمینار” کے نام پر یاران وفا نے یہ بزم سجائی. . .جس میں ملک بھر سے لکھنے والے احباب شریک ہوئے. . . کچھ خاص احباب بطور حوصلہ افزائی دوسرے شہروں سے تشریف لائے. . . ابتداء محمد اْسامہ قاسم بھائی نے کی. . . اْس کے بعد تلاوتِ قرآن پاک سے باقاعدہ پروگرام کا آغاز کیا گیا. . . انتہائی شیریں اور الفاظ پر مضبوط گرفت تھی.. . سٹیج پر ستارے براجمان ہو گئے. . .چاند کی کمی رہتی تھی. . . جوکچھ ہی لمحوں بعد سرپرست اعلیٰ نے آ کر پوری کر دی. . .یوں یہ بزم اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہو گئی. . .تلاوت کے بعد نعت رسول مقبول پڑھ کر حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا. . . کچھ معاملات بنا دلیل کے ہوتے ہیں. . .اْن میں سے ایک ہماری حضور کے ساتھ وابستگی ہے. . .حضور کے ساتھ محبت ہے . . .تو آپ کی ذات پر قربان ہونے کا جذبہ ہے. . . اِس میں کوئی دلیل کارگر نہیں. . .کوئی حیلہ بہانہ و حجت نہیں. . . مختلف حضرات مدعو کرنے پر ڈائس پر تشریف لاتے رہے. . .جن میں مولانا طارق نعمان گڑنگی، مولاناعبدا لصبور شاکر،محترم جناب عبدالخالق خان سْکھانی صاحب، آئینہ صحافت کے مصنف مولانانوراللہ رشیدی صاحب، شیخ العاملین حکیم سیدمزمل حسین نقشبندی ، محترم جناب حفیظ چوہدری اورسرپرست اعلیٰ مولاناعلامہ زاہدالراشدی صاحب قابل ذکر ہیں. . . مختلف موضوعات پر اظہار خیال ہوئے. . . جن میں اِس تنظیم کو بنانے کا مقصد، تنظیم کا منشور، تنظیم کا آئندہ کا لائحہ عمل، اسلامی صحافت کیوں کر ضروری، صحافت کے بنیادی عقائد و اصول،6ستمبرکے شہید نوجوانوں کو خراجِ عقیدت شامل رہے. . .استادِ محترم علامہ زاہد الراشدی صاحب نے کام کرنے کا طریقہ یوں احسن انداز بیاں سے سمجھایا جیسے شبنم کے قطرے گھاس پر مانندِ ہیرے نظر آتے ہیں. . .ایک ایک حرف چْن کر عملی زندگی میں پرونے والاتھا. . . اگر حضرت استاد جی کی نصیحتوں پر عمل کر لیا جائے. . . تو ناکامی بھی تکلیف نہیں دے سکتی. . . ۔
تحریری مقابلہ میں حصہ لینے والے تمام شرکاء کو بطور حوصلہ افزائی شیلڈ، اعزازی سند اور کتابیں بطور ہدیہ دی گئیں. . .انعامات حاصل کرنے والے خوش نصیبوں کو نقد ہدیہ بھی پیش کیا گیا. . . پہلاانعام5000روپے،دوسرا انعام3000روپے اور تیسرا انعام 2000روپے تھا ۔ آخر میں مولانا عبدالخالق سکھانی صاحب نے دْعا فرمائی. . .اْن کی دعا کے ساتھ ہی یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچ گئی. . .بعد از تقریب تمام مہمانوں کے لیے طعام کا بندوبست بھی کیا گیاتھا الشریعہ اکیڈمی کی طرف سے. . . اِس کامیاب و بہترین حسن انتظام پر بلاشبہ محترم حفیظ چوہدری اور اسامہ قاسم بھائی مبارک باد کے مستحق ہیں. . .بھائی حفیظ چودھری کی کاوشوں سے لگایا گیا پودا چار ماہ کے انتہائی قلیل عرصہ میں پھل دینے لگا ہے. . .اِس تنظیم سے وابستہ نوآموز لکھاریوں کی تحاریر مختلف اخبارات میں دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے. . . اللہ پاک محترم حفیظ بھائی اور اْن کی ٹیم کو ثابت قدمی کے ساتھ اپنی منزل کو پانے کی توفیق عطا فرمائے. . .اورہم جیسوں کو اْن کا دست بازو بنائے. . . اکیلے بندے کی جدوجہد آج ایک نئی جہت کے ساتھ کارواں بنا چکی ہے الحمدللہ. . .۔
ہم اکیلے ہی چلے تھے جانبِ منزل مگر
ہمسفرملتے گئے کارواں بنتا گیا




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*