قتل کی حرمت اور ہمارا معاشرہ 

تحریر: شاکر فاروقی
’’جو کوئی کسی کو قتل کرے، جبکہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلہ لینے کے لیے ہو اور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو، تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔‘‘  (سورۃ المائدہ:32)
قرآن مجید کی یہ آیت قتلِ ناحق کے خلاف، خالقِ کائنات کی جانب سے ایک مقدمہ ہے۔آج ہر جانب قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں قتل ہو رہے ہیں۔ جنہیں مائیں برسوں جھولے جھلا جھلا کر جوان کرتی ہیں، کسی شقی القلب کی انا کی بھینٹ چڑھ کر آن واحد میں ماضی کی گَرد بن جاتے ہیں۔ بلا تفریق رنگ و نسل، عمر و جنس ہر ایک قتل کیا جا رہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اب والدین کے ہاتھوں اپنے بچوں کے قتل کی لرزہ خیز خبریں سننے میں آ رہی ہیں۔ عدم برداشت کا مرض ہر کچے پکے گھر میں پہنچ چکا ہے۔  افسوس اس بات کا ہے کہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کرنے والے بھی دم سادھے خاموش ہیں۔ اخبارات میں روزانہ قتل کی بیسیوں خبریں منہ چڑا رہی ہوتی ہیں لیکن کسی کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔  انھیں معمول کا قصہ سمجھ کر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ اہل علم کی قلمیں خشک ہو گئی ہیں اور اہل اقتدار اپنے اقتدار کے گھن چکر میں پس رہے ہیں۔ اہل منبر اپنی جانیں بچانے کی فکر میں ہیں جبکہ منصفین، اہل سطوت کی چاپلوسی میں لگ کر کھرے کھوٹے کی پہچان بھول گئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان عالی شان ہے کہ ’’جہنم کے ستر حصے کیے جائیں گے۔ ان میں سے 69 حصے قتل کا حکم دینے والے کے لیے ہوں گے جبکہ ایک حصہ خود قاتل کا ہوگا۔ یہ ایک حصہ بھی اس کے لیے بہت ہوگا۔ ‘‘(مسند احمد)
اسلام کے نام لیوا بعض لوگ، انسانیت کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہے ہیں۔ معمولی معمولی بات پر انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، جو کسی نہ کسی  زندگی کی شام ہونے تک نہیں بجھتی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ’’تمہارے خون، تمہارے مال، تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لیے ایسے ہی حرمت کا درجہ رکھتی ہیں جیسے تمہارے اس مہینہ میں، تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) اور اس دن (یوم عرفات) کی حرمت ہے۔ تم سب اپنے پروردگار سے جا ملو گے،پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہٰذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔‘‘  قتل کے لیے لڑائی کرنے کو حدیث مبارکہ میں کفر قرار دیا گیا ہے۔  ارشاد گرامی ہے:’’ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق اور اسے قتل کرنے کے لیے لڑنا کفر ہے۔‘‘ (بخاری) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’’ایک مسلمان کو اپنے دین کے معاملے میں اس وقت تک (معافی کی) گنجائش رہتی ہے، جب تک وہ حرام طریقے سے کسی کا خون نہ بہائے۔‘‘(بخاری)
ایک حافظ قرآن نے کسی کو جان بوجھ کر قتل کر دیا۔ لیکن اسے معافی مانگنے کی توفیق نہ ہوئی۔ اسے قرآن مجید بھولتا چلا گیا۔ سب سے آخر میں اسے سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران بھولیں۔ ایک بزرگ نے بتایا ’’یہ سورتیں اللہ کے ہاں آخر تک اس کی سفارش کرتی رہیں، لیکن اس کا جرم اتنا سنگین تھا کہ اللہ نے معاف نہیں فرمایا، بالآخر یہ دونوں سورتیں بھی اسے بھول گئیں۔‘‘
عزت و غیرت کے نام پر قتل میں بھی ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس باب میں اصول و ضوابط اور قوانین بنا کر دیے ہیں۔ اگر ان پر عمل کیا جائے تو ناممکن ہے کہ اس مسئلے کی جڑ پر قابو نہ پایا جا سکے۔ پاکستانی تھانوں میں 10 ہزار سالانہ کے حساب سے قتل و اقدام قتل کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔ سن 2014 میں صرف فیصل آباد ریجن کے تھانوں میں اوسطاً 100 مقدمے درج ہوئے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ شرح شہری علاقوں میں زیادہ ہے۔ معلوم ہوا جیسے جیسے تعلیم بڑھتی جا رہی ہے، جرائم بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ مہذب قوموں میں یہ شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سن 2014 ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں سب سے زیادہ قتل امریکی ریاست ہنڈوراس اور وینزویلا میں ہوتے ہیں۔ جہاں ہر ایک لاکھ کی آبادی میں سے 90 فی صد شہری قتل کر دیے جاتے ہیں۔ ایل سلوا ڈور نامی ریاست میں 24 گھنٹوں کے دوران قتل کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا تو یہ خبر بن گئی۔ اپریل 2018 کی رپورٹ میں صرف برطانیہ کے اندر ان واقعات میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے۔  وطن عزیز پاکستان میں سب سے زیادہ قتل جنوبی اور وسطی پنجاب میں ہوتے ہیں۔ یہاں یہ شرح 33 فی صد، سندھ میں 20 فی صد، کے پی کے 22 فی صد، بلوچستان میں 13 فی صد، گلگت بلتستان 9 فی صد، قبائلی علاقوں میں 3 فی صد قتل ہے۔
اس لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ شعور اور اچھی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ نصاب اس طرح ترتیب دیا جائے کہ بچپن ہی سے بچوں میں اخلاق، صبر و تحمل اور دینی اقدار کی پاس داری پیدا ہو جائے۔ انہیں آداب معاشرت سے روشناس کرایا جائے۔ تھانہ کلچر میں تبدیلی لائی جائے۔ فوری اور سستا انصاف بھی جرائم کی شرح کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ مشہور مقولہ ہے ’’سلطنت غربت کے ساتھ چل سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔‘‘




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*