*ہم سب کافر ہیں*

*”ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب کامیابی کے راستے سے انتخاب* “
یہ قصہ نصف صدی کا ہے جب آپ اور میں ابھی عالم ارواح میں تھے اور ادھر برصغیر کی زمین کے سینے پر مسلمان اپنے الگ وطن کے حصول کے لیے کو شاں تھے ۔ مگر اس وقت بھی مسلمان جہاں کافر کو کافر کہتے تھے وہاں مسلمان بھی مسلمان کو کافر کہہ رہا تھا ۔ انہی دنوں کی بات ہے تقسیم سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے” پرتاب” نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی ۔
ایک دن پرتاب نے سرخی لگا دی : “مسلمان سارے کافر ہیں !”
لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی، مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی، تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا اور میجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا ،پرتاب سے پوچھا یہ اخبار آپ کا ہے ؟ جی میرا ہے !
اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں اپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے ؟
جی بالکل میں ہی اس اخبار کا مالک اور چیف ایڈیٹر ہوں تو میرے علم و اجازت کے بغیر کیسے چھپ سکتی ہے!
آپ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں؟
جی جب یہ جرم ہے ہی نہیں تو میں اس کا اعتراف کیسے کر سکتا ہوں، مجھے تو خود مسلمانوں نے ھی بتایا ہے جو میں نے چھاپ دیا ہے ! صبح ہوتی ہے تو یہ لوگ سپیکر کھول کر شروع ہوتے ہیں کہ سامنے والی مسجد واالے کافر ہیں، وہ ظہر کے بعد شروع ہوتے ہیں تو عشاء تک ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ فلاں مسجد والے کافر ہیں اور اتنی قطعی دلیلیں دیتے ہیں کہ میں تو قائل ہو گیا کہ یہ واقعی کافر ہیں اور مجھے یقین ہے کہ عدالت بھی یقین کرنے پر مجبور ہو جائے گی بس اگلی تاریخ پر فلاں فلاں محلے کے فلاں فلاں مولوی صاحبان کو بھی بلا لیا جائے اور جن 50 آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کاٹا گیا ھے انہیں بھی اگلی پیشی پہ بلا لیا جائے تو معاملہ ایک ھی تاریخ میں حل ہو جائے گا !
اگلی پیشی پر تمام متعلقہ مولویوں کو جو کہ صبح شام دوسرے فرقے کے لوگوں کو مدلل طور پر کافر قرار دیتے تھے اور پرتاب نے جن کا نام دیا تھا، باری باری کٹہرے میں طلب کیا گیا۔ مجمعے میں سے تمام افراد کو کہا گیا کہ دیوبندی ، اہل حدیث اور بریلوی الگ الگ کھڑے ہوں !
بریلوی مولوی سے قرآن ہر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب کے وکیل نے اس سے پوچھا کہ دیوبندوں اور اھل حدیثوں کے بارے میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا کہے گا ؟
مولوی نے کہا کہ یہ دونوں توہینِ رسالت کے مرتکب اور بدترین کافر ہیں ! پھر اس نے دیوبندیوں اور اہلِ حدیثوں کے بزرگوں کے اقوال کا حوالہ دیا اور چند احادیث اور آیات سے ان کو کافر ثابت کر کے فارغ ہو گیا، جج نے پرتاب کے وکیل کے کہنے پر اہل حدیثوں اور دیوبندیوں سے کہا کہ وہ باہر تشریف لے جائیں !
اس کے بعد دیوبندی اور اہلِ حدیث مولویوں کو یکے بعد دیگرے حلف لے کر گواہی کے لئے کہا گیا، دونوں نے بریلویوں کو مشرک ثابت کیا اور پھر شرک کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا ! گواہی کے بعد میجسٹریٹ نے بریلویوں کو بھی عدالت سے باھر بھیج دیا !
اس کے بعد پرتاب کے وکیل نے کہا کہ میجسٹریٹ صاحب اپ نے خود سن لیا کہ یہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے اور ببانگ دھل کہتے بھی ھیں اور کافر ہو کر عدالت سے نکل بھی گئے ہیں اب عدالت میں جو لوگ بچتے ہیں ان میں سے مدعیوں کے وکیل صاحب بھی ان تینوں فرقوں میں سے کسی ایک فرقے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں،، لہذا یہ بھی کافروں میں سے ہی ہیں ! باقی جو مسلمان بچا ہے اسے طلب کر لیجئے تا کہ کیس آگے چلے !
میجسٹریٹ نے کیس خارج کر دیا اور……..
پرتاب کو بری کر دیا نیز پرتاب اخبار کو دوبارہ بحال کر دیا !!
*یہ دھندا تقسیم ہند کے ستر سال بعد بھی جاری و ساری ہے*
تو بھی کافر تو بھی کافر اور تو بھی کافر ۔ اس مکروہ دھندے نے صرف نٸی نسل کو کافر ہی نہیں بلکہ باغی بنا دیا ہے ۔ فرقہ واریت کی اس آگ میں نیم پڑھے لکھے ملا سے لے کر اندھی تقلید کرنے والا مسٹر تک شامل ہے ۔میں کسی فرقے سے نہیں ہوں کا نعرہ لگانے والا اپنا ہی فرقہ ایجاد کیے بیٹھا ہے عربی آتی نہیں اردو میں لکھا ہوا دین پڑھنےوالا آدم۔زادا خود کو عقل کل سمجھنے لگا ہے ۔ مذہب کا کلمہ ایک ہے نبی ایک ہے کتاب ایک ہے مگرغلو کرے والوں نے تو صحابہ کو نبی سے افضل ثابت کرنے میں قصر نہیں چھوڑی اور تو اور فاسقین و فاجرین کوفرقہ واریت میں آ کر سلامتیوں کے تاج بھی پہناۓ یہ سلسلہ رکا نہیں ۔ ر شرمندگی سے جھک جاتا ہے نبی کی بارگاہ میں فیض یاب ہونے والوں کو نہ صرف گالی گلوچ کی جا رہی ہے بلکہ آج ان کومسلمان اور کافر ثابت کرنے کی جنگ بھی جاری ہے مسٹر تو ان چیزوں سے بھی آگے چلا گیا قابلیت کے نام پر ختم۔نبوت اور اسلام کے بنیادی عقاٸد کوپس پشت ڈال گیا ۔کون سا اسلام درست ہے اور کون سا غلط اسی شش و پنج میں نٸی نسل کومغرب کے سپرد کر دیا گیا ۔ جی ہاں جی ہاں ہر کوٸی اس کام میں اپنا حصہ بڑی ایمانداری اور صفاٸی سے ڈال رہا ہے ۔کچھ قلم صرف فرقے کو بچانے کے لیے چلتے ہیں اورکچھ تلواریں صرف رقص کے کام آ رہی ہے ۔ جس کلمہ کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیا اس میں بھی کٸی توجیحات اور ترامیم کر دی گٸیں ۔مذہب کو گھر کی چار دیواری میں ڈال دو اور عورت کو گھر سے باہر نکالو۔ آزادی کے نام پر آزادی کے حسن کو بگاڑنے میں کوٸی قصر نہ چھوڑی ۔آزادی کے نام پر نسل کو باغی بنایا جا رہا ہے کسی کو بات سمجھ نہیں آ رہی ۔ خدا رہا یہ کافر کافر چھوڑ دو ۔ اپنے اپنے مسلک کی حدود میں رہو ۔مسالک کے تماشے جب چوکوں اور چوراہوں پر ہوں گے تو مناظرے اور جدال کی دعوتیں عموم کے افعال بن جاٸیں گے اور جب جب ایسا ہوتا ہے تب تب کوٸی نہ کوٸی ہلاکو اور چنگیز آتا ہے اور مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا کر چلا جاتا ہے ایسی قوموں پر ابابیل بھی آٸیں تو ان کے کرتوت دیکھ کرانہی پر کنکر برسا کر چلے جاٸیں ۔ کیونکہ ابابیل بھی پریشان ہو جاٸیں کہ ان میں سے کون مسلمان ہےاور کون نہیں ۔ گلی گلی کردار سے خالی گفتار اور آواز کے شریں مقال واعظ ڈگڈگی بجارہے ہیں اور نفرتوں کے شعلوں کو پھونکیں مار مار کر آتش بےقابو بنا۔رہے ہیں ۔ عدم برداشت اور عقل کل کے عناصر پیکٹوں اور تقاریری نکات کی صورت ایقان سے بھر بھر کر بانٹے جا رہے ہیں ۔ میرا علاوہ سب کافر ہیں ۔کالا گورا چٹا پیلا نیلا سب کافر ہیں ۔ بس ایک ہی سبق اس عہد کے بچوں کو یاد کروایا جا رہا ہے اور وہ ہے میں مسلمان باقی سب کافر ۔ ہم مسلمان باقی سب کافر ۔کسی کے باپ کی بھی مجال نہیں جنت ہم سے لے سکے ۔ بس ایک کام کرو جنت میں محل ۔ دوچار کو مار دو اڑا دو دو ۔جنت تمھاری ۔۔ عزیز طلبإ یہ ہیں وہ المیے جہاں ہرمفکر بے بس نظر آتا ہے ۔اصل میں ملاوٹ اس قدر ہے کہ اصل کی سمجھ نہیں آ رہی یہی آپ کا وہ مسٸلہ ہے جس کا نتیجہ اپنے دین سے نفرت کی صورت سامنے آتا ہے اس کا ایک ہی حل ہے جس بھی مسلک میں ہو اس کے کامل لوگوں کو پکڑو نہیں ملتے تو حق کی تلاش جاری رکھو اللہ کی کتاب اور اس کے حبیب پاک کی سیرت کا مطالعہ کرو ۔ جہاں کچھ منفی معاملات ہوں جس سے دوسروں کو تکلیف ہو رہی ہو ایسے اصولوں سے کنارہ کشی کرو ۔ اپنی راۓ دوسروں پر لازم نہ کرو ۔ سنو سمجھو پھر اپناو نہیں سمجھ آتی جھگڑامت کرو ۔دوسروں کو عزت دو راۓسنو اور راۓ کا احترام کرو قول اور فعل دونوں سے کسی کو تکلیف نہ دو اور آخری بات زندگی وہ ہے جس میں کوٸی آپ سے خوف زدا نہ ہو ۔ …https://www.facebook.com/Dr.M.AzamRazaTabassum/




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*