سجدہ ریز

Nabila Khan
میری آنکھوں نے اس کا خواب تب دیکھنا شروع کیا جب نہ تو خواب کا مفہوم جانتی تھی اور ‏ نہ ہی تعبیر کی لگن اور جستجو کا ادراک تھا۔میرے دل کی جبیں نے اس کے عشق کے حضور پہلا سجدہ اس وقت کیا جب میں اپنی عمر کے بارہویں سن میں تھی اور وہ زندگی کی سولہویں بہار کے مزے لوٹ رہا تھا۔
تب سب کچھ تتلی کے رنگین پروں سے بھی زیادہ خوبصورت اور دلفریب لگتا تھا۔ اس کی آنکھوں کا شربتی رنگ ہر وقت اپنی طرف کھینچتا رہتا۔ من مندر میں اس کی مورت کسی دیوتا کی طرح ایستادہ تھی۔ دل اسی کے حضور سجدہ ریز ہونے کو تڑپنے لگتا۔
ایک نظر دیکھنے کی خواہش جب حسرت میں بدلنے لگتی تو کبوتروں کے ڈربے والے کمرے میں لگی واحد کھڑکی جو اس مسجد کی طرف کھلتی تھی جہاں وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتا تھا، حبس اور ناقابل برداشت بو کے بھپکوں کی پروا نہ کرتے ہوئے چوری چھپے ایک جھلک دیکھنے کے لیے کمرے کی چابی چوری کرکے اس کمرے میں گھنٹوں اس کی آمد کا انتظار کرنا میرا پسندیدہ مشغلہ تھا۔
اسے دیکھنا ،سوچنا اور چاہنا اچھا لگتا تھا۔ وہ پہلی محبت کا احساس تھا جس نے مجھے آنے والی زندگی کے بیس سالوں تک لپیٹ میں لیے رکھا ۔سجدہ عشق کیا ہوتا ہے یہ مجھے آنے والی زندگی کے بیس سالوں کے ہر لمحہ، ہر پل میں پتہ چلا” وہ نہیں تھا” لیکن ہر جگہ تھا۔
محبت کے شدید احساس کے تحت میں نے اس سے کچھ عرصہ شدید نفرت میں بھی گزارا۔جسے میں نفرت سمجھتی رہی وہ بھی اس کی شدید محبت ہی ثابت ہوئی۔
 وہ پہلا سجدہ جو دل نے اس کے حضور کیا تھا دوبارہ سے میری خودساختہ نفرت کا مذاق اڑانے میرے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا، جب بیس سال بعد وہ دوبارہ سامنے آیا تب دل نے اسی لے پر دھڑکنا شروع کردیا۔
میں اور میری نفرت دم بخود، عجب طرفہ تماشہ پر دم سادھے حیران پریشان دل کی سجدہ ریزی پر اور اپنی بے بسی پر بے تحاشہ آنسو آنکھوں میں لئے دھندلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
ساقی صرف ایک بار میری محبت کا جواب دےدو۔ بیس سال اسی انتظار میں رہی کہ کاش کبھی وہ لمحے میری زندگی میں بھی آئیں جب میں تم سے پوچھ سکوں کہ تم نے کبھی مجھ سے محبت کی؟ کبھی میرے لیے سوچا، محسوس کیا؟ صرف ایک بار کہہ دو جو تمہارے دل میں ہے۔ شاید میں سکون پا جاؤں کیونکہ میرے دل نے ہر اس لمحے کو کروڑہا بار سوچا جب جب تم نے مجھے نظر بھر کے دیکھا ۔تب سے لے کر آج تک ان نظروں سے سے میں نے خوبصورت معنی اور مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی۔ مجھے وہ یقین دے دو جس کے سہارے اپنی زندگی کی باقی ماندہ شام کو رات میں ڈھالتے ہوئے نیند کی پرسکون وادی میں جا سوؤں۔ ایک بار ،صرف ایک بار تم بھی مجھ سے کہہ دو کہ تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے۔
مجھے اپنی آواز بہت اجنبی اور غیر مانوس لگ رہی تھی ۔ یہ میری آخری کوشش تھی جس کے لیے مجھے بہت ہمت اور حوصلہ درکار تھا کیونکہ میرا صنم پتھر کا وہ دیوتا تھا جو اپنی جگہ پر شکوہ انداز میں کھڑا رہتا ہے اور اپنے سامنے گڑگڑانے والو کی فریاد اس تک نہیں پہنچ پاتی۔
مجھے تم سے کبھی محبت تھی ہی نہیں اور نہ اب ہو سکتی ہے۔ بیس سال پہلے وقتی جذبوں نے گھیر لیا تھا مگر اب تم میں ہےہی کیا کہ جسے چاہا جائے۔ میں ایسی فلمی اور کتابی محبتوں پر یقین نہیں رکھتا۔ آئندہ مجھے کال کرنے کی زحمت نہ کرنا۔ کھٹاک سے فون بند کردیا گیا۔ پتھر کا صنم مجھے بھی پتھر کرگیا۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

7 + 6 =