توازن

تحریر: محمد صدیق سرور

لوگ مجھے اکثر کہتے ہیں کہ سر آپ موجودہ صورتحال پر لکھا کریں اور اس بات پر میری ایک دبی ہوئی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ کہ آپ لوگ غور سے پڑھیں تو میں حقیقتا موجودہ صورتحال پر ہی لکھ رہا ہوں۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ جن باتوں پر ہمیں نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے انہیں ہم نظر انداز کر رہے ہیں اور جن باتوں کو نظر انداز کرنا وقت کا اہم ضرورت ہے ان پر بحث سے جان لیوا اختلافات جنم لیتے ہیں۔
کیا آپ زندگی کا تصور اپنے خاندان اور دوست و احباب کے بغیر کر سکتے ہیں؟
اگر نہیں تو کیوں؟
اگر ہاں تو کیسے؟
یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ایک معاشرہ میں زندگی گزارنے کے لئے مختلف رشتوں میں بندھ جاتا ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی، سکول و کالج کے دوست، ساتھ کام کرنے والے دوست اور بیوی اور بچوں پر مشتمل ایک خاندان۔ پھر آپ کے اساتذہ کرام جن سے آپ مستقل رابطہ استورا رکھتے ہیں اور آپ کے ملنے والے اور بہت سے لوگ۔
یہ سب اس معاشرے کا حصہ ہیں جس معاشرے میں آپ بھی رہتے ہیں۔ اب بات ہے ترجیحات کی کہ کونسا رشتہ فہرست کہ کس نمبر پر آتا ہے مگر یہ تو سچ ہے کہ اہمیت سب کی ہے اور انسان کو ضرورت بھی سب کی ہے۔ یہ انسان پر منحصر ہے وہ کیسے ان رشتوں اور اپنے کام کو ایک پٹڑی پر لے کر چلتا ہے۔
اکیسیویں صدی کا انسان جو فطرت کی تعریف کرنے کے لیئے وقت نکالنے سے قاصر ہے وہ یہ سب رشتے نبھانے میں بھی ناکام ہے۔ طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے۔ قتل و غارت عروج پر ہے اور خاص طور پر خون کے رشتوں کی ہولی اب عام ہو چکی ہے۔ طلباء اپنے اساتذہ کے قاتل اور اساتذہ اپنے طلباء کے کہیں نہ کہیں مجرم بن رہے ہیں۔ اور اس جیسے بہت سے مسائل ہیں جو لکھنا ابھی ممکن نہیں ورنہ اصل بات دب جائے گی۔
ان سب کا سبب وقت ہوتے ہوئے بھی وقت کا فقدان ہے انسان نے خود کو مشین بنا لیا ہے اسے اپنا ٹارگٹ حاصل کرنا ہے اور اس دوران چاہے سب رشتے کچلے جائیں۔ جب کام کو رشتوں پر فوقیت دی جائے اور اپنوں کو وقت دینے کا وقت نہ ہو تو پھر جرائم جنم لیتے ہیں۔ غلط فہمیاں پروان چڑھتی ہیں۔ اور پھر مادہ پرست انسان اپنا ٹارگٹ حاصل کر کے تمام رشتے کھو دیتا ہے۔
اب ہم اس دور میں ہیں کہ اب ہم کسی کا دکھ سننا نہیں چاہتے کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں۔ جب کسی دکھی انسان کا درد سن کر کوئی اس کو تسلی نہ دے تو پھر وہ انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے ہم سب کی زبان پر ایک بات اب عام ہو گئی ہے آج کل بہت بے حسی ہے۔ اور یہ بے حسی اپنوں کے ساتھ وقت نہ گزارنے کی وجہ ہے۔ آج کل مایوسی بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ اسلام سے دوری اور ایک دوسرے کو وقت نہ دینا شامل ہے۔ جب کوئی خود کشی کرتا ہے تو ہم سراپا سوال اور سراپا احتجاج ہوتے ہیں لیکن اگر پہلے اس کو وقت دے دیا ہوتا تو شاید اس انسان کا جہنم کی طرف یہ قدم نہ اٹھتا۔
کام کرنا بہت ضروری ہے مگر ہر چیز میں اور ہر رشتے میں توازن قائم کرنا بھی لازم ہے۔ ورنہ بے حسی اور بڑھ جائے گیاور انسانیت دم توڑ دے گی۔
میرا سوال ہے کیوں پچھلے چند سالوں میں موٹیویشن دینے والوں کی چاندی ہو گئی ہے؟
ماضی میں آپ کے گھر کے بزرگ آپ کو مفت میں موٹیویشن دے دیتے تھے اب کسی کے پاس وقت نہیں۔ اور یہ وقت بہت ظالم ہے یہ انسان کو زخم دے گا
مرہم بھی رکھے گا
آپ کو ڈبو دے گا اور پھر اچھال دے گا۔
میری آپ سب سے ایک گذارش ہے کام کے ساتھ ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کا بھی خیال کریں۔ دکھ سکھ بانٹیں اور مثبت رویوں کو جنم دیں۔ جب مثبت سوچ ذہنوں میں جذب ہو جاتی ہے تو معاشرہ پر امن ہوتا ہے۔ اپنے ہر کام میں اور ہر رشتے میں توازن سے غلط فہمیوں کا گلہ گھونٹ کر آپ بے حسے کی دلدل پار کر سکتے ہیں اور انسانیت کے اعلی درجے تک پہنچ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*