ترا پیغام

سمجھ میں یوں ترا پیغام آ بھی جاتا ہے
مگر نگاہ میں انجام آبھی جاتا ہے۔

یہ سچ ہے سچ کو زمانے میں کبھی آنچ نہیں
کبھی کبھی مگر الزام آ بھی جاتا ہے۔

کبھی دوایٸں مرض کو بڑھا بھی دیتی ہیں
کبھی دعاٶں سے آرام آ بھی جاتا ہے۔

سفر میں حسن طلب جس کا زاد راہ نہ ہو
وہ ارض بطحا سے ناکام آبھی جاتا ہے

جو اپنی اونچی اڑانوں پہ ناز کرتا ہے
وہ ایک روز تہ دام آبھی جاتا ہے۔

طرب میں عیش میں جو ذات بھول جاتی ہے
دکھوں میں لب پہ وہی نام آبھی جاتا ہے۔

حقیر جان کے طلعت کو ٹھوکریں نہ لگا
کہ سنگ راہ کبھی کام آ بھی جاتا ہے۔۔۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*