“شبِ برات، برکتوں اور رحمتوں کی رات

محمدعاصم فاروقی/حیدرآباد

شب برات شعبان کی “پندرہویں تاریخ” کی رات کو کہا جاتا ہے، جو چودہ شعبان کو سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی ہے اور پندرہویں شعبان کی صبح صادق تک رہتی ہے۔
یہ ایک معظم اور بابرکت رات ہے، اس میں عبادت کرنے والوں کے لیے بے حد اجر و ثواب رکھاگیا ہے۔ اس رات کو “لیلۃ المبارک”(بابرکت رات)، “لیلۃ الرحمۃ”(رحمتوں والی رات)، لیلۃ الصّک(اللہ تعالیٰ کی جانب سے جہنم کا پروانہ ملنے والی رات)، لیلۃ البراۃ(جہنم سے بَری ہونے والی رات) کہا جاتا ہے۔(روح المعانی:110/13)۔
احادیث مبارکہ کی روشنی میں اس عظ?م اور بابرکت رات کے چند فضائل ملاحظہ فرمائیں:
1۔ بکثرت لوگوں کی مغفرت:
اس شب میں اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں، چنانچہ اْم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد منقول ہے کہ: “بے شک اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں شب میں آسمان دنیا پر(اپنی شان کے مطابق) نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔”(ترمذی: 739)
قبیلہ بنو کلب عرب کا یہ قبیلہ جو کہ بکریاں بکثرت رکھنے میں مشہور تھا، اور بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ مغفرت کرنے کے دو مطلب ہیں۔
ایک مطلب یہ ہے کہ اس سے گناہ گار مراد ہیں کہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ اللہ تعالی بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں، اور اس کا حاصل یہ ہے کہ بے شمار لوگوں کی مغفرت ہوتی ہے۔
دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس سے مراد گناہ گار نہیں بلکہ گناہ مراد ہیں، یعنی اگر کسی کے گناہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتو اللہ تعالی اپنے فضل سے معاف فرمادیتے ہیں۔(تحفۃ الاحوذی:365/3)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“اللہ جلَّ شانہ شعبان کی پندرہویں شب کو اپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتے ہیں، اور ساری مخلوق کی بخشش فرمادیتے، مگر “مشرک اور کینہ” رکھنے والے کی مغفرت نہیں ہوتی “(ابن حبان، طبرانی) ۔
2۔ دعائوں کی قبولیت:
یہ رات دعاؤں کی قبولیت والی رات ہے، اس شب میں اللہ تعالی سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا، بلکہ خود باری تعالی یہ صدا لگاتے ہیں کہ “کوئی مجھ سے مانگے اور میں اس کی مانگ کو پورا کروں، جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں:
“جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس کی رات میں قیام (عبادت) کرو، اور اس کے دن میں روزہ رکھو، بے شک اللہ تعالی اس رات میں غروب شمس سے ہی آسمان دنیا میں(اپنی شان کے مطابق) نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں: “کیا ہے کوئی مجھ سے مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں؟۔
کیا ہے کوئی مجھ سے رزق طلب کرنے والا کہ میں اس کو رزق عطاء کروں؟، کیا کوئی مصیبت و پریشانی میں مبتلا نہیں کہ میں اْسے عافیت بخشوں؟۔
کیا فلاں اور فلاں شخص نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ، یہاں تک کہ (اسی طرح صدا لگتے لگتے) صبح صادق ہوجاتی ہے۔(ابن ماجہ: 1388) ۔
اللہ تعالی کی جانب سے یہ عطاء اور بخشش کی صدا روزانہ رات کو لگتی ہے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ رات کے ایک تہائی حصے کے گزرجانے کے بعد صبح تک لگتی ہے، اور بعض روایت میں ہے کہ رات کے آخری پہر یعنی آخری تہائی حصے میں لگائی جاتی ہے، جیسا کہ ترمذی شریف(ترمذی: 446) کی روایت میں اس کا ذکر ہے۔
لیکن شب برات کی عظمت کا کیا کہنا!! کہ اس رات میں شروع ہی سے یعنی کہ آفتاب کے غروب ہونے سے لے کر صبح صادق تک یہ صدا لگائی جاتی ہے۔
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ کاارشاد ہے جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کے گناہ بخش دوں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں۔اس وقت اللہ تعالی سے جومانگاجائے وہ ملتاہے۔وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے۔سوائے بدکارعورت اورمشرک کے۔(شعب الایمان 383/3)۔
لہٰذا ان قبولیت کی گھڑیوں میں غفلت و سستی کرنا، لایعنی اور فضول کاموں میں لگے رہنا اور خواب غفلت میں پڑے رہنے سے بچنا چاہیے اور قبولیت کی ان ساعتوں میں ذوق و شوق سے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
3۔ سال بھر کے فیصلوں کی رات:
اس رات کی ایک اہم فضیلت یہ ہے کہ اس میں سال بھر کے فیصلے کیے جاتے ہیں، کس نے مرنا ہے، کس نے جینا ہے، کس کو کتنا رزق ملنا ہے، اور کس کے ساتھ کیا پیش آنا ہے، سب کچھ لکھ دیا جاتا ہے۔
چنانچہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اے عائشہ تم جانتی ہو اس پندرہویں شعبان میں کیا ہوتا ہے؟” عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہوتا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا کہ بنی آدم میں ہر وہ شخص جو سال میں پیدا ہونے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھ دیا جاتا ہے، اور بنی آدم میں ہر وہ شخص جو سال میں مرنے والا ہوتا ہے اس رات میں لکھ دیا جاتا ہے۔اور فرشتوں کو فہرست تھمام دی جاتی ہے۔
اور اس رات میں بندوں کے اعمال اٹھا لیے جاتے ہیں، اور اسی رات میں بندوں کے رزق اترتے ہیں۔”
(مشکوٰۃ: 1305)
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک عمریں لکھی جاتی ہیں، اور اس دوران جس کا نکاح ہوتا ہے اس سے پیدا ہونے والی اولاد کا نام بھی لکھ لیا جاتا ہے۔(شعب الایمان: 3558)
اس شب میں کرنے کے کام:
شب برات اور اس جیسی مقدس راتوں کو کیسے گزارا جائے، اس حوالے سے بغیر کسی تعیین و تخصیص کے چند کام درج ذیل ہیں۔
توبہ و استغفار کرنا:
دورکعت صلوٰۃ التوبہ پڑھ کر صدق دل سے سچی توبہ کریں، اپنے گناہوں پر ندامت و شرمندگی، اور آئندہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ بارگاہ خداوندی میں معافی طلب کریں۔
توبہ کے لوازمات میں سے یہ بھی ہے کہ اگر کسی کے حقوق تلف کیے ہوں تو ان کے حقوق کی ادائیگی کا بھی اہتمام کیا جائے۔کیوں کہ حقوق العباد بغیر ادائیگی کے معاف نہیں ہوتے۔
نمازوں کی باجماعت ادائیگی کرنا:
رات میں تین نمازیں آتی ہیں۔مغرب، عشائ￿ ، فجر ان تینوں نمازوں کو صف اول خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیجیے ، کم از کم جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے والا رات کی عبادت سے محروم نہیں رہ سکتا ہے، چنانچہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “جس نے عشاء کی نماز جماعت سے ادا کی، گویا اس نے آدھی رات عبادت کی، اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی، گویا کہ اس نے پوری رات عبادت کی۔”(مسلم شریف:656)۔
کچھ فضیلت والے اعمال:
شب برات جیسی مقدس راتوں میں چند ایسے فضیلت والے اعمال بھی اختیار کرنے چاہیے جن میں وقت کم اور نیکیوں کا ذخیرہ ذیادہ جمع کیا جاسکتا ہے۔چند ایسے ہی اعمال ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:
* اوابین کی نماز:
مغرب کی نماز کے بعد “اوابین” کی نماز، جس کی کم از کم چھ اور ذیادہ سے زیادہ بیس رکعات ہیں۔ آپ کوشش کیجیے اور مبارک رات کی برکتوں کو سمٹنے کے لیے بیس رکعات پڑھنے کا اہتمام کریں، حدیث کے مطابق اوابین کے نماز سے بارہ سال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔
حضرت ابو ھریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی روایت ہے نبی محترمﷺ فرماتے ہیں: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعات اس طرح ادا کیں کہ ان کے دوران کوئی بری بات نہ کی ہوتو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوتا ہے۔(ترمذی:435)
صلوٰۃ التسبیح:
صلوٰۃ التسبیح کی چار رکعتیں ہیں، جن کو ایک سلام کے ساتھ اور دو سلام کے ساتھ پڑھنا بھی جائز ہے۔صلوٰۃ التسبیح کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: “اگر روزانہ، ہفتہ، مہینہ، یا کم از کم سال میں ایک مرتبہ نہیں پڑھ سکتے تو زندگی میں ایک مرتبہ ضرور پڑھ لو۔ (فضائل ذکر: 169)
صلوٰۃ التسبیح وہ نماز ہے کہ اس کے پڑھنے کی برکت سے دس گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
(1)اگلے گناہ، (2) پچھلے گناہ،(3) قدیم گناہ، (4) جدید گناہ،(5) غلطی سے کیے ہوئے گناہ،(6) جان بوجھ کر کیے ہوئے گناہ، (7) صغیرہ گناہ، (8) کبیرہ گناہ، (9) چھپ چھپ کر کیے ہوئے گناہ، (10) کھلم کھلا کیے ہوئے گناہ۔(فضائل ذکر:169)
صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ:
اس کا ایک طریقہ جو عبد اللہ بن مبارک سے ترمذی میں منقول ہے، تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء یعنی “سبحانک اللہم۔۔۔۔الخ پڑھیں، پھر کلماتِ تسبیح یعنی: “سبحان اللہِ وَال?حمدْ للہِ ولآ الہَ الا اللہْ واللّٰہْ اکبر 15 بار پڑھیں، پھر حسب معمول اعوذ باللہ، بسم اللہ، فاتحہ اور سورت پڑھیں۔ پھر قیام میں ہی رکوع میں جانے سے قبل 10 بار کلمات تسبیح پڑھیں، رکوع اور رکوع کی تسبیح کے بعد وہی کلمات تسبیح 10 مرتبہ کہیں، رکوع سے اٹھ کر قومہ میں “سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنالک الحمد” کے بعد 10 بار، دونوں سجدوں میں سجدے کی تسبیح کے بعد 10,10 بار کلمات تسبیح پڑھیں، دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی 10 بار یہی کلمات پڑھیں، اسی ترتیب سے چار رکعتیں مکمل کی جائیں۔
قیام اللیل کا اہتمام:
اس سے مراد “تہجد” کی نماز ہے، جو فرائض کے بعد سب سے افضل نماز ہے۔ سال بھر بلکہ پوری زندگی اس کا اہتمام کرنا چاہیے اور خصوصاً شب برات جیسی مبارک راتوں میں اس کا ذوق و شوق سے اہتمام کرنا چاہیے۔
مانعِ مغفرت امور سے اجتناب:
شب برات بہت ہی بابرکت اور عظیم رات ہے، جیسا کہ اس کی فضیلتیں اوپر گزر چکی ہیں۔
لیکن کچھ ایسے بھی حرماں نصیب اور بد قسمت لوگ ہوتے ہیں جو اس رات کی برکت اور بالخصوص اہم چیز “مغفرتِ خداوندی” سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ حرماں نصیب کون ہیں؟ ان کی نشاندہی مختلف احادیث میں نبی کریم ﷺنے کی ہے۔
جن سے ان محروم ہونے والوں کے مغفرت سے محروم رہ جانے کے اسباب بھی معلوم ہوتے ہیں، ایسے اسباب اور امور کو “موانع مغفرت امور” کہا جاتا ہے۔
وہ حرماں نصیب یہ ہیں۔
مشرک
کینہ پرور، والدین کا نافرمان، قطع رحمی کرنے والا، ازار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا، شراب کا عادی، قاتل، زانی۔
لہذا قارئین!! فضیلت و برکت والی اس رات میں غفلت میں پڑے رہنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔
دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، اپنے لیے، اہل خانہ کے لیے اور پوری امت کے لیے خوب دعاء کیجیے۔
اور اللہ تعالیٰ کی برسنے والی رحمتوں اور برکتوں سے اپنے اپنے دامن بھر لیجیے۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*