ڈرتی ہوں

رونے کی خواہش ہونے پر بھی ہنستی ہوں
تیرے اداس ہونے سے دیکھو کتنا ڈرتی ہوں

تم تو جھٹک کر بدل لیے ہو راستے مگر
مجھے دیکھو میں تو اسی راہ پہ چلتی ہوں

تم تو وہی کرتے ہو جو خواہشِ قلب ہو مگر
میں جیسے تم چاہو اسی سانچے میں ڈھلتی ہوں

تم اک بار ہی فقط الفت کی نگاہ سے نواز دو
کتنے رنگوں میں خود کو شب و روز بدلتی ہوں

تم بھنورے ہو کوئی عوارا سے ادھر ادھر
میں شمع کی طرح تیرے لیے پگھلتی ہوں

تجھے دیکھ کر کسی اور کے روبرو میں
چپ چاپ دہکتے کوئلوں پر میں سلگتی ہوں
#ازقلم_میمونہ_رحمانی_موناؔ




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

5 + 5 =