بدل رہے ہیں

سلسلے متواتر بدل رہے ہیں رفاقت کے
اب تو آثار نظر آتے ہیں رقابت کے

پہلے پہل تو وہ ہر روز ملا کرتے تھے
نہ جانے کیا ہوا اب *دَور* گئے خط و کتابت کے

دل کیسے نہ ہو پریشان اس کے روٹھنے پہ
کے وہ جناب بہت ضدی ہیں عادت کے

ہم ملنے چلے بھی جاتے ان کے کوچے میں موناؔ
انھوں نے روکا تھا کے وہ پیکر ہیں شرافت کے
#ازقلم_مونا_رحمانی




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

4 + 1 =