گزرا ہوں جن سے سارے وہ عذاب لکھوں

دل چاہتا ہے گناہ لکھوں اور ثواب لکھوں
گزرا ہوں جن سے سارے وہ عذاب لکھوں

جاگتی آنکھوں سے دیکھے تھے جو خواب
ان کی تعبیر لکھو یا پھر وہ خواب لکھوں

جسکی دید سے بے چین دل کو قرار آجاۓ
کیو نہ اس چہرے کو میں مہتاب لکھوں

جس پہ مر مٹنے کے لئے پروانے بے شمار ہوں
ایسےحسن بےمثال کوپھر میں نایاب لکھوں

انگڑائی سے جس کی ہل جائیں دلوں کےتار
آج اس گل بدن کامیں اچھوتا شباب لکھوں

ستارے جس کو فلک سے اتر کے دیکھیں
اس پری روش کےاورکتنے میں القاب لکھوں

آج دیکھ کر ان کے رخسار و لب کو گماں ہوا
نہیں جس کےخار زارآج وہ میں گلاب لکھوں

عامر نذیر بلوچ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

1 + 2 =