” نفرت کی گولی “


نفیر قلم
محمد راحیل معاویہ

حسد ، بغض ،عناد، نفرت ،تعصب ، یا انتہاپسندی چاہے ذاتی ہو ، گروہی ہو ، سیاسی ہو یا مذہبی ہو اس کے نتیجے میں کیا جانے کام کبھی درست نہیں ہوتا۔
نفرت ،انتہاپسندی اور فرقہ واریت کی آگ میں ہمارے ملک میں ہزاروں لوگ جل چکے ہیں۔
بے گناہ اور معصوم لوگ اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا پا گئے۔
نارووال میں 6 مئی 2018 کو نواحی قصبہ کنجروڑ میں مسیحی برادری نے ایک جلسہ منعقد کیا ۔
جس میں مہمان خصوصی کے طور پر اس وقت کے وزیرداخلہ پروفیسر احسن اقبال صاحب نے شرکت کی اور ان سے خطاب کیا۔
دوران خطاب انہوں نے مذہبی ہم آہنگی اور رواداری پر زور دیا ۔
ملک عزیز پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی سازشوں کا مل کر مقابلہ کرنے کا پیغام دیا۔
اس جلسہ میں پورے ضلع نارووال سے ہزاروں مسیحیوں نے شرکت کی اور پاکستان سے والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار کیا ۔
چونکہ یہ جلسہ احسن اقبال صاحب (جو اس وقت وفاقی وزیر داخلہ بھی تھے) کے اپنے حلقے میں منعقد ہوا تھا اس لیے تمام مسیحیوں نے احسن اقبال صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا اور آنے والے الیکشن میں انکی بھرپور حمایت کا اعلان بھی کردیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے اپنے حلقہ میں اپنے 2008 سے لے کر 2018 تک خوب ترقیاتی کام کروائے ۔
جس میں کافی بڑے بڑے منصوبے شامل ہیں،
جس میں کینسر ہسپتال کا قیام ، انتہائی خستہ حال اور کھنڈرات کا منظر پیش کرتی ہوئی ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو جدید اور خوبصورت عمارت میں تبدیل کیا۔
کئی نئے کالجز اور تین سرکاری یونیورسٹیاں بنوائیں ، میڈیکل کالج منظور کروایا جس کو موجودہ حکومت نے اپنے ایک رہنماء کے پرائیوٹ کالج پر اثر انداز ہونے کے ڈر سے روک رکھا ہے۔
پاکستان کے آخری ضلع نارووال میں بہترین سہولیات سے مزین جدید ہسپتال کا قیام عمل میں لایا گیا اور پاکستان کا منفرد منصوبہ سپورٹس سٹی کا قیام بھی اسی ضلع میں لایا گیا۔
یہ وہی سپورٹس سٹی ہے جس پر نیب نے منصوبہ نارووال میں بنانے پر احسن اقبال پر کیس کررکھا ہے۔
نارووال میں سڑکوں پر بہت زیادہ کام کروائے ہیں اور پورے ضلع میں چھوٹے چھوٹے قصبوں تک نئی سڑکیں بنائی گئیں۔
اس وجہ سے نارووال کی عوام نے احسن اقبال صاحب کو پانچویں دفعہ بھاری اکثریت سے ایم این اے منتخب کروایا۔
اس جلسہ میں مسیحی برادری کو پیار ،محبت ، امن ، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دے کر احسن اقبال صاحب اسٹیج سے نیچے اترے ،
ایم پی اے رانا منان خان صاحب ،ہمارے دوست عابد ڈھلوں صاحب اور راقم الحروف بھی انکے ہمراہ تھے۔
احسن اقبال صاحب اسٹیج سے اتر کر مجمع میں بنائے ہوئے راستے سے گزر کر گاڑی کی جانب جا رہے تھے کہ اچانک ایک شخص نے محض چند فٹ کے فاصلے سے گولی مار دی۔
قسمت نے انکا ساتھ دیا کہ انکا بازو آڑے آگیا اور گولی بازو کو پار کرکے پیٹ میں لگ گئی۔
احسن صاحب شدید لہولہان ہوچکے تھے انہیں رانا منان صاحب ، میں اور چند سیکیورٹی گارڈز نے جلدی سے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
افسوس ناک امر یہ تھا کہ انہیں بھی نفرت کی گولی کا سامنا کرنا پڑا۔یہ نفرت ذاتی نہیں بلکہ مذہب کی آڑ میں اس کا اظہار کیا گیا۔مارنے والے نے موقف اختیار کیا کہ احسن اقبال کو ختم نبوت کی وجہ سے مارا جبکہ وہ بھول گیا کہ پارلیمنٹ میں ختم نبوت کے لیے بل پاس کروانے والی آپا نثار فاطمہ احسن اقبال کی سگی ماں تھی ۔
احسن اقبال کا تعلق ایک پرانے سیاسی گھرانے سے ہے۔ انکے دادا جان ڈاکٹر مشتاق صاحب نے تقسیم ہند سے قبل اعلی تعلیمی خدمات پیش کرنے پر برٹش گورنمنٹ سے خان بہادر کا خطاب حاصل کیا۔
انکے نانا جان برصغیر کے زیرک سیاست دان تھے۔
ان کی والدہ 1985 سے 1988 تک رکن پارلیمنٹ رہیں۔ انکا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔احسن اقبال صاحب نے بھی اپنی سیاست کا آغاز جماعت اسلامی سے ہی کیا اور بعد میں وہ مسلم لیگ ن میں آگئے۔
انکی والدہ کی ختم نبوت کے لیے پیش کی جانے والی خدمات سے ناآشنا لوگوں نے نفرت ، تعصب اور انتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 6 مئی 2018 کو انہیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ یہ انتہا پسندانہ اقدام یقینا قابل مذمت ہے جس کی روک تھام کے لیے ہمیں محبت ، بھائی چارے،امن، رواداری اور سب سے بڑھ کر برداشت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسرے افراد کے جذبات ،احساسات ، رائے ،مذہب ، اور اسکے نظریات کو برداشت کرنا سیکھنا چاہیے تاکہ میرے ملک عزیز پاکستان سے اس نفرت کی فضا کا خاتمہ ہوسکے۔۔

محمد راحیل معاویہ نارووال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

2 + 2 =