مذہبی آزادی بارے رپورٹ مودی کے منہ پر طمانچہ


تحریر:مہر اقبال انجم
بھارت میں مذہب مذہبی عقائد و اعمال کے تنوع کی خصوصیات رکھتا ہے۔بھارتی آئین میں 1976ء میں کی جانی والی 42 ویں ترمیم کے مطابق بھارت ایک لادینی ریاست ہے، اس سب کا مطلب ہے کہ ریاست تمام مذاہب کے ساتھ مساوی رویہ اختیار کرے گی۔ برصغیر کئی بڑے مذاہب کا پیدائشی وطن ہے یعنی ہندو مت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت۔ بھارت کی پوری تاریخ میں، مذہب ملکی ثقافت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ مذہبی تنوع اور مذہبی اعتدال دونوں ملک میں بذریعہ قانون اور رسوم کے قائم ہوئے، بھارت کا آئین صاف الفاظ میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔اسکے باوجودبھارت میں مذہبی تشدد اور فسادات کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں، خاص طور پر، دہلی میں 1984ء کے سکھ مخالف فسادات، گجرات میں 2002ء کے مسلم مخالف فسادات اور 2008ء میں مسیحی مخالف فسادات،ابھی حال ہی میں دہلی میں فسادات ہوئے جس میں ساٹھ کے قریب مسلمانوں کی جانیں چلی گئیں۔
ہندوستان ایک سیکولر ملک تھا، اور دنیا میں اس کی لوگ مثالیں تھے سب سے بڑی جمہوری ہونے کا اس کو کریڈٹ جاتا تھا لیکن جب سے مودی آیا دیکھ لیں کس طرح انسانی حقوق کی پامالی کی گئی بالخصوص مسلمانوں کی، آج رمضان کا مہینہ، بابرکت مہینہ ہے،اگر ایسٹر ہو یا عیسائیوں کا کوئی تہوار ہو تو ہم مسیحی بھائیوں کے ساتھ خوشی میں شریک نہیں ہوسکتے تو ہم چاہتے ہیں کہ ان کو چھٹیاں دلوا دیں تا کہ وہ اپنے گھر والوں، اپنے پیاروں کے ساتھ خوشیوں میں شریک ہو سکیں.مذہبی رسومات ادا کر سکیں، لیکن آج بھی کشمیر میں بربریت کی انتہا ہو گئی ہے، آج بھی ایل او سی بھی بڑی ہاٹ ہے، یہ افواج پاکستان کی مہربانی ہے کہ میں اور آپ اے سی کمروں میں سکون سے بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، شکر ہے ہماری افواج بارڈر پر ہے، میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر ایک لمحے کے لئے آپ سمجھیں کہ آپ کی فوج نہ ہوتی اور یہ مودی جیسا پاگل آدمی ہو تو کونسے رائٹس اور کونسے قوانین تھے جنہوں نے اسے روکنا تھا۔ ایل او سی سخت طریقے سے ہاٹ ہے، مودی چاہ رہا ہے کہ کسی طریقے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان لمیٹڈ جنگ چھڑ جائے،یہ اسکی غلط فہمی ہے،اگر خدانخواستہ جنگ چھڑ گئی تو پھر لمیٹڈ نہیں ہوں گی، بھارت کا اسوقت جی ڈی پی گرنا شروع ہو گیا ہے، انکا گروتھ ریٹ ڈیڑھ پر آ گیا ہے، آٹھ سے دس کروڑ لوگوں کی بھارت میں نوکریاں اگلے چھ مہینے میں خطرے میں ہیں، کیونکہ آبادی زیادہ ہے تو مسائل بھی زیادہ ہیں اور نوکریاں کم ہو رہی ہیں کیونکہ کاروبارکم ہو رہا ہے۔
مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں بھارت کو پہلی مرتبہ اقلیتوں کیلئے خطرناک ملک قرار دیا گیا تھا جبکہ پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا تھا۔سالانہ رپورٹ میں متنازعہ بھارتی شہریت بل پر امریکی کمیشن نے شدید تنقید کی اور بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کیے جانے پر شدید تنقید کی۔ رپورٹ میں امریکی کانگریس کو بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سماعت جاری رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔اسی رپورٹ میں پاکستان میں متعدد مثبت پیشرفتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔ جن میں کرتار پور راہداری کھولنا، پاکستان کا پہلا سکھ یونیورسٹی کھولنا، ہندو مندر کو دوبارہ کھولنا، توہین مذہب الزامات پر سپریم کورٹ اوراقلیتوں کے خلاف امتیازی مواد کے ساتھ تعلیمی مواد پر نظر ثانی کے پاکستانی حکومتی اقدامات بھی شامل ہیں۔امریکی کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 2019 کی رپورٹ میں بھارت مذہبی آزادی کے نقشے میں تیزی سے نیچے آیا۔ 2019 میں بھارت میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں دوسری مدت کے لیے حکومت بنانے کے بعد بی جے پی نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا، بی جے پی حکومت نے اقلیتوں پر تشدد اور عبادتگاہوں کی بے حرمتی کی کھلی اجازت دی۔
امریکی کمیشن رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی کے حکومت میں گاؤ کشی کے نام پر موب لنچنگ معمول بن گئی، بھارتی حکومت تاحال اقلیت مخالف پالیسیوں پر کاربند ہے۔امریکی رپورٹ میں بھارت کو خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرست میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے، مذہبی آزادی کے خلاف کام کرنے والے بھارتی حکام پر پابندی کی بھی سفارش کی گئی ہے، اقلیتوں کے خلاف تشدد کی مانیٹرنگ کے لیے فنڈ قائم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں امریکی سفارتخانہ اقلیتی کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھائے اور مذہب مخالف جرائم کی مخالفت کرے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کی ہے جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے۔امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی اجراء کردہ رپورٹ میں بھارت کو بطور “تشویشناک ملک” نامزد کرنے کا معاملے کے بعد امریکی کمیشن نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کر دی ہے۔امریکی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے جان بوجھ کر مذہبی آزادی کیخلاف منظم پرتشدد کارروائیوں کی اجازت دی۔ بھارت نے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔
کمیشن نے رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ بھارتی حکومت، اداروں، حکام پر سفارتی، انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں۔ مذہبی آزادیاں سلب کرنے میں ملوث افراد کے اثاثے منجمد، امریکا داخلہ پر پابندی عائد کی جائے۔بھارتی شخصیات کیخلاف کارروائی کیلئے مالیاتی اور ویزا حکام کو پابند بنایا جائے۔امریکی کمیشن کی سفارش کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوک سَنگھ، پولیس سمیت سرکاری حکام پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔نریندر مودی پر 2005ء میں بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات بھی سفری، سفارتی اور ویزا پابندیاں لگ چکی ہیں، نریندر مودی پر گجرات میں مسلم کش فسادات پھیلانے میں کردار پر پابندیاں لگی تھیں۔اب بھی پابندیوں کا امکان ہے۔اگر پاکستان ا س ضمن میں سفارتی طور پر متحرک ہو تو یقینی طور پر بھارت پر بڑی پابندی لگی سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

6 + 3 =