شبِ قدر کے اعمال


مولانامحمدجہان یعقوب

“شبِ قدر “کے لغوی معنی ہیں: ”قدروالی رات” یہ ایک مخصوص رات ہے ، جو رمضان المبارک کے آخری عشرے کی اکیس(21)، تئیس(23)، پچیس(25)، ستائیس(27) اور انتیسویں(29) راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہر سال پائی جاتی ہے۔ یہ رات صرف امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰة والسلام کو بطور تحفہ دی گئی ہے اس سے پہلے کی امتوں کو یہ رات نصیب ہی نہیں ہوئی۔
امت محمدیہ کے لوگوں کی طبعی عمریں پہلی امتوں کے مقابلے میں بہت تھوڑی ہیں، پہلی امتوں کی عمریں بھی بڑی ہوتی تھیں اور ان کے نیک و دین دار لوگ اپنی عمروں کے اسّی، اسّی(80) اور سو،سو(100) سال اﷲ تعالیٰ کی عبادت میںگزار دیا کرتے تھے، اﷲتعالیٰ نے اس امت کو ان کے مقابلے میں یہ رات عطا فرمائی اگرکوئی اﷲتعالیٰ سے محبت کا دعویدار پہلی امتوں کی عبادتوں کا متبادل پیش کرنا چاہے تو اس کی اس رات میں کی ہوئی عبادت پہلے لوگوں کی، کی گئی عبادتوں سے بڑھ جائے گی۔
اﷲتعالیٰ نے اس رات کو کئی فضائل سے مزین فرما رکھا ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
(١)اﷲتعالیٰ نے اپنے مقدس کلام کی لوح محفوظ سے آسمان سے دنیا پر اُتارے جانے کی ابتدا اسی رات سے فرمائی ہے۔(المستدرک للحاکم جلد 2 صفحہ 242)
(٢) اس رات کی عبادت کا ثواب ہزار مہینے تک مقبول عبادت کرنے کے ثواب سے زیادہ ہے (سورة القدر آیت 3)’ور اس کثرت کا علم بھی اﷲتعالیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے جو اﷲتعالیٰ کے بندوں کے ثواب کے حصول کے شوق کے بڑھانے کا، بڑھاتے رہنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
(٣) اس مبارک رات میں نہ صرف ﷲتعالیٰ کے فرشتوں کا ہجوم اس دنیا میں اُترتا ہے بلکہ ان کے ساتھ حضرت جبرئیل امین بھی دنیا میں آتے ہیں اور یہ تانتا رات کی ابتدا سے صبح صادق تک برقرار رہتا ہے اور یہ فرشتے ہر اس شخص کے پاس چاہے وہ کہیں بھی ہوں، جاتے ہیں ان کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں، معانقہ کرتے ہیں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔(کنزالعمال جلد 8 صفحہ 268)
(٤) جو شخص اس رات میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے اﷲتعالیٰ کی عبادت کے لیے اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے تو اﷲتعالیٰ اس کے پچھلے تمام گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں۔(بخاری شریف جلد 1 صفحہ 270)
اﷲتعالیٰ کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا اس کی حقیقت کی مصلحتیں اﷲتعالیٰ ہی جانتے ہیں، پھر بھی بعض علمائے کرام کے ذریعے سے اس کے پوشیدہ رکھنے کی چند مصلحتیں اپنے بندوں کو بتلائی ہیں جن پر غور کرنے سے نہ صرف یہ کہ اﷲتعالیٰ کے بندوں کی طبیعتوں پر اس کے حصول کا شوق بڑھ جاتا ہے بلکہ اس کو پوشیدہ رکھنے کو ہی اپنے حق میں بہتر سمجھتے ہیں، جیساکہ ہمارے نبی اکرمۖ نے بھی اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ کیا بعید ہے کہ اس کی تعیین کا اٹھا دینا اﷲ کے علم میں تمہارے لیے بہتر ہو۔(بخاری جلد 1 صفحہ 271)
علمائے کرام نے اس کے اخفاء (پوشیدہ رکھنے) کی جو مصلحتیں بیان فرمائی ہیں وہ درج ذیل ہیں:
(١) تعین کے نہ ہونے پر اور اسے اکیس(21)، تئیس(23)، پچیس(25)، ستائیس(27) اور انتیسویں(29)راتوں میں تلاش کرنے کی تلقین پر ایک سے زائد راتوں کی عبادت کرنے کی توفیق اﷲتعالیٰ سے محبت کرنے والوں کو نصیب ہوجاتی ہے۔
(٢) یہ وہ مبارک رات ہے جس میں اﷲتعالیٰ کی رحمت رات کے شروع ہونے سے لے کر اس کی تکمیل تک مستقل، مسلسل اور متواتر رہتی ہے اﷲ تو اپنے بندوں پر مستقل اپنی رحمتوں کی موسلا دھار بارش برسا رہا ہے، اس رات کے معلوم ہوتے ہوئے اگرکوئی اﷲتعالیٰ کا بندہ گناہوں میں مبتلا رہے تو اس کی یہ نافرمانی اﷲ کے مقابلے میں جرأت سمجھی جائے گی جو اس کے حق میں انتہائی خطرناک ہوگی۔
(٣) اگر اس رات کو متعین طور پر بتلا دیا جاتا اور کسی شخص سے کسی عذر کی بنا پر یا اتفاقاً اس رات میں عبادت رہ جاتی تو اس کے غم کی وجہ سے پھر کسی دوسری رات میں بھی اسے جاگنا نصیب نہ ہوسکتا تعیین نہ ہونے کی صورت میں ان راتوں میں سے کسی نہ کسی رات میں پست ہمت لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ توفیق مل جاتی ہے۔
(٤)تعیین نہ ہونے کی صورت میں جتنی زیادہ راتوں میں عبادت ہوگی ان سب کا مستقل علیحدہ ثواب ملے گا۔
(٥) ان راتوں میں جب اﷲتعالیٰ کے بندے اﷲتعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں تو اﷲتعالیٰ اُن کی اِن عبادتوں کو ملائکہ پر پیش فرماتے ہوئے اپنے بندوں پر فخر فرماتے ہیں، تعیین نہ ہونے کی صورت میں فخر کے زیادہ مواقع بن جاتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
شریعت کی طرف سے کوئی خاص عمل لازمی طور پر اپنے ماننے والوں کو نہیں بتلایا ہے بلکہ انہیں خود اپنی چاہت کے مطابق مختلف عبادتوں میں سے کوئی ایک عبادت یا ان مختلف عبادتوں کے جمع کرنے کا اختیار دیا ہے۔ مثلاًفرائض و واجبات کی قضا، نوافل، قرآن مجید کی تلاوت، اﷲ کا ذکر، نبیۖ پر درودشریف، کیے گئے گناہوں کی معافی چاہنا اور اپنی دنیا اور آخرت کی بھلائی اور حاجات کے پورا کرنے کی دعائیں مانگنا وغیرہ وغیرہ میں سے کسی ایک عمل کو بھی کیا جاسکتا ہے اور رات کے مختلف اوقات میں ان میں سے اکثر کو جمع بھی کیا جاسکتا ہے، بہتر اور افضل یہ ہے کہ اگرکسی شخص کی ماضی میں فرض نمازیں قضا ہوئی ہوں اور وہ اب تک قضا نہ کی جاسکی ہوں تو اگر اﷲتعالیٰ نے اس رات میں عبادت کی توفیق عطا فرمادی ہے تو ترجیح اپنی قضا نمازوں کی ادائیگی کو دے۔
کیا شریعت نے اس اور اس جیسی دوسری راتوں کی عبادت میں اجتماعی عبادات کا کوئی تصور اپنے ماننے والوں کو عطا نہیں کیا ۔ پچھلے بزرگوں کا معمول بھی انفرادی طور پر راتوں کی عبادت کا رہا ہے، ترغیب بھی یہی دی جاتی ہے اور اجتماعی عبادات کے تصور کو ہی شریعت کی طرف سے غیرمطلوب اور غیرمستحسن کہا جائے گا۔
شریعت کی طرف سے ترغیب دیے جانے والے فضائل کے بتلائے جانے کے باوجود اس رات میں عبادت کو فرض وواجب کا درجہ نہیں دیا گیا، لہٰذا اس رات میں آرام بھی کیا جاسکتا ہے دیگر جائز کام بھی انجام دیے جاسکتے ہیں اور عبادت بھی کی جاسکتی ہے، اس رات کی ابتدا میں عبادت کرلی جائے پھر کچھ وقت آرام کرلیا جائے پھر سحری میں اٹھنے سے قبل اٹھ کر مزید عبادت کی جاسکتی ہے اس رات کی عبادت میں یہ خیال ضرور رکھا جائے کہ اس مسنون اور نفل عبادت کی وجہ سے فجر کی نماز جوکہ فرض ہے نہ وہ قضا ہو نہ اسے نیند کے غلبے کی وجہ سے بوجھ سمجھتے ہوئے ادا کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

6 + 3 =