رشکِ چمن

تازہ غزل

ڈاکٹر مقصود جعفری

کیا رشکِ چمن آج وہ گزرا ہے ادھر سے
پھولوں کی مہک آتی ہے ہر راہگزر سے

آتی ہے شبِ وصل شبِ ہجر کے پیچھے
چھٹتے ہیں اندھیرے بھی رُخ نورِ سحر سے

کشکول سے ہوتی نہیں اقوام کی عزت
تعظیم ہے قوموں کی فقط کاسہءسر سے

تُم راکھ میں کیوں ڈھونڈتے پھرتے ہو تپش کو
یہ گرمی ء نالہ ہے بس اِک رقصِ شرر سے

تُم حُسن پرستی کو سمجھتے ہو عبادت
توقیرِ حسیناں ہے فقط حُسن نظر سے

گلُچیں کی وہ ہیبت کہ شجر کانپ رہے ہیں
خود پُھول گرے جاتے ہیں ہر شاخِ شجر سے

جو اَشک مرے جعفری ٹپکے ہیں سرِ شام
وہ اَشک تو پیارے ہیں مجھے لعل و گُہر سے

١٦ مئ ۲۰۲۰

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

9 + 8 =