کرونا بحران میں پی آئی اے کی لازوال خدمات


تحریر:مہر اقبال انجم

دنیا بھر میں پھیلے کرونا وائرس کی وجہ سے 2020 ایئر لائن انڈسٹری کے لئے تباہ کن سال ہے، سینکڑوں ایئر لائن بند ہونے جا رہی ہیں،ہمارے سامنے صورتحال آنا شروع ہو چکی ہے،پاکستان اس وقت بڑی آئیڈیل پوزیشن میں ہے،اگر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کوئی بہتر پالیسیز بنائے تو اسوقت پی آئی اے دنیا میں بہترین مقام حاصل کر سکتی ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں ایئر لائن کمپنیاں نہ صرف ملازمین کو فارغ کر رہی ہیں بلکہ اپنے طیارے بھی گراونڈ کر رہی ہیں،بھارت کو دیکھ لیں وہاں ایئر لائن کی صنعت دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے،برٹش ایئر ویز نے 34 جہاز گراؤنڈ کر دیئے ہیں جو 58 سال سے اوپر ہے اسکو جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے،اور بھی کچھ ایئر لائن ہیں جنہوں نے ایسا کیا۔ پاکستان کے پاس آئیڈیل صورتحال ہے، پاکستان نارتھ اور ساؤتھ مین کام کرتا ہے،کراچی اور اسلام آباد،سنٹرل یورپ کو کنٹریکٹ کرتا ہے، آسٹریلیا کی پہلی فلائٹ بھی چل گئی، اب روٹس بڑے شاندار ہیں فلائنگ روٹس مل جائیں گے اور حکومت اگر روٹ لیتی ہے اور سول ایوی ایشن میں ایسے لوگ آ جائیں جو پاکستان کے لئے محنت کریں،تو ایوی ایشن میں ہمارا بہت بہتر مستقبل ہے۔پی آئی اے نے امریکہ کے لیے بھی پروازوں کا آغاز کر دیا ہے یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ پی آئی اے کی پرواز براہ راست امریکہ گئی اوریہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
چین سے پھیلنے والا خطرناک کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیل چکا ہے، پاکستان میں بھی کرونا نے سپیڈ پکڑ لی ہے،کرونا کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک نے لاک ڈاون لگایا اور فضائی پابندی لگائی، پاکستان نے بھی قومی و انٹرنیشنل پروازوں پر پابندی عائد کی،لاک ڈاون کی وجہ سے بیرون ممالک میں ہزاروں پاکستانی پھنس چکے تھے جن کا روزگار ختم ہو گیا تھا اور وہ پاکستان واپس آنا چاہتے تھے، چین کے شہر ووہان میں بھی پاکستانی طلبا پھنسے ہوئے تھے،جنہوں نے واپس آنے کے لئے کئی بار اپیل کی لیکن انہیں واپس نہیں لایا گیا، چین کا کہنا تھا کہ ہم طلبا کا خیال رکھیں گے، دیگر ممالک میں پھنسے پاکستانیوں نے وطن واپسی کی اپیل کی تو پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے اپنے ہم وطنوں کو واپس لانے کے لئے میدان میں آئی، پی آئی اے نے مختلف ممالک کے لئے خصوصی پروازوں کا آغاز کیا جو ابھی تک جاری ہے اور بیرون ملک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جا رہا ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز یا پی آئی اے پاکستان کی سب سے بڑی اور قومی ایئر لائن ہے جو تقریباً 23 اندرون ملک اور 30 سے زائد بیرون ممالک پروازیں چلاتی ہے جو ایشیا، یورپ اورجنوبی امریکا تک جاتی ہے۔پی آئی اے تیس سے زائد جہازوں کے ساتھ پاکستان کی سب سے بڑی اور قومی ایئر لائن ہے جو ایک وسیع تر تاریخ رکھتی ہے۔ یہ ایشیا کی پہلی ایئر لائن ہے جس نے جیٹ انجن والے بوئنگ 737جہاز چلائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دنیا کی پہلی ایئر لائن ہے جس نے بوئنگ 777-200 ایل آر جہاز حاصل کیے اور چلائے۔پی آئی اے جو پاکستان کی آزادی سے پہلے 1946ء میں ابتدائی طور پر “اوریئینٹ ایئر ویز” کے نام سے بنی، ایک وسیع تر تاریخ رکھتی ہے۔پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹد بنیادی طور پر حکومت کی ملکیت ہے مگر اس میں نجی شعبے کے 13 فیصد حصیص بھی ہیں۔ ماضی میں پی آئی اے کا ادارہ منسٹری آف ڈیفینس کے ماتحت کام کرتا تھا مگر اب اسے ایوی ایشن ڈویڑن کے تحت کر دیا گیا ہے۔ ایئر لائن کا ایک چیئرمین اور ایم ڈی ہوتا ہے۔ دونوں بورڈ آف ڈائریکٹرزکی ہدایات کے مطابق کام کرتے ہیں۔ تمام تر انتظامی امور کی نگرانی ایم ڈی کرتا ہے۔ کمپنی کا مرکزی دفتر کراچی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہے۔
کورونا وائرس کی بحرانی کیفیت میں بیرون ممالک محصور پاکستانی وطن واپسی کیلئے جامع، مربوط منصوبہ بندی کی گئی،مشیر قومی سلامتی، خارجہ، ایوی ایشن اور سمندر پار پاکستانی کی وزارتوں کی مشترکہ کاوش سے محنت کشوں، قیدیوں، زائرین، جاں بحق افراد کے لواحقین، زائدالمعیاد یا محدود ویزا دورانیہ والوں کی واپس کی کوشش جاری ہے،دنیا میں لاک ڈاؤن، سفری پابندیوں کے باوجود گلف، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیا سمیت 38 ممالک سے ہزاروں پاکستانی اپنی سرزمین پر پہنچے. 21مارچ کو پروازوں کی بندش کے باوجود شروع میں پہلے ہفتے 2 ہزار، پھر بتدریج اضافے سے ہر ہفتے 6سے 7 ہزار پاکستانی بتدریج واپس لائے گئے. بین الاقوامی ہوائی اڈے بند، پروازیں معطل، پھر بھی مزید ممالک سے پاکستانی شہری لائے جا رہے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر بیرونِ ممالک میں پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان اور خاص طور پر وزیر ِ اعظم عمران خان صورتحال کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں،موجودہ تکلیف دہ صورتحال میں مشکلات کا شکار سمندر پار پاکستانیوں کی بھرپور امداد کا فیصلہ کیاگیا ہے۔
پی آئی اے کا عملہ موذی وائرس کے خطرے کے باوجود اس مشکل صورتحال میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر ہوابازی غلام سرور خان کی کوششوں سے وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے خصوصی پروازیں چلانی ممکن ہو ئیں۔ پی آئی اے نے بیرونِ ممالک پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے پاکستان نے4اپریل سے اپنی فلائٹس کا آغاز کیا،محدود پیمانے پر اسلام آباد کو ائیر ٹریفک کے لئے کھولا گیا اور پی آئی اے پر مسافروں کی تعداد کے حوالے سے پابندیاں عائد کر دی گئیں۔اس وقت وطن واپسی کے خواہشمند تقریباً 90 فیصد پاکستانی خلیجی ممالک میں ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات میں 69 ہزار 695، سعودی عرب میں 15 ہزار 594، قطر میں 5 ہزار 500 رجسٹرڈ پاکستانی واپسی کے منتظر ہیں.مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی سفارتی مشنز کیساتھ رجسٹرڈ ہو چکے.حکومت کا کہنا ہے کہ وطن واپسی کے خواہشمند معیار پر پورا اترتے ہیں تو سفارتخانوں کیساتھ رجسٹرڈ ہوں۔بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کو پروازوں کے حتمی شیڈول سے آگاہ کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ متعلقہ ممالک میں ہوائی اڈے بند، پروازیں معطل ہیں.کوئی بھی ملک کسی بھی وجہ سے خصوصی پرواز منسوخ یا معطل کر سکتا ہے لہذا شیڈول میں تبدیلی بھی متواتر ہے.دوسری جانب حکومت نے بیرون ملک جانے والی پروازوں پر کوئی سختی نہیں کی، پاکستان کچھ فلائٹ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے،پاکستان سے کئی ممالک خصوصی پروازوں سے اپنے شہری واپس لے جا رہے ہیں یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ وطن واپسی کے لئے پرواز کرنے والی پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنزکی اکثر فلائٹس یکطرفہ پرواز ہوتی ہیں۔ جہاز کے عملے اور مسافروں کو قرنطینہ کے مقرر شدہ بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے مطابق آپریٹ کیا جاتا ہے۔ یوں مسافروں کی تعداد ایک خاص حد سے آگے نہیں جا سکتی۔بیرونی ممالک میں پاکستان کے سفیر اور ہائی کمیشنر، پھنسے ہوئے مسافروں کی ترجیحی فہرست ترتیب دینے کے ذمہ دار ہیں۔ اس ضمن میں متعلقہ اداروں اور بیرونِ ملک پاکستانی سفارتخانوں کو مربوط، جامع اور قابلِ عمل ہدایات جاری کر دی گئیں ہیں۔ موزی وائرس سے جنگ میں مصروف ڈاکٹرز، طبی عملہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ حکام کی شب و روز کاوشوں کے نتیجے میں ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے انتظامات میں اضافہ کیا گیا جس کے باعث مزید پاکستانیوں کی وطن واپسی ممکن ہو سکی ہے۔پی آئی اے اس مشکل وقت میں جو کام کر رہی ہے ایسے میں پی آئی اے کے عملے کو یقینی طور پر سلیوٹ بنتا ہے جو اپنی جانوں پر کھیل کر اپنے ہم وطنوں کو واپس لا رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

8 + 3 =