قرآن رمضان اورمملکت خدادادپاکستان

Hafeez ch
جتنی بڑی کائنات ہے اس کا خالق اس سے کھربوں سے زائد گنا عظمت والا ہے۔ جس قدر انسان کی معلومات ہیں، اس سے بڑا وہ علم کل ہے جس کے قبضہ قدرت میں اسی ہزار مخلوقات ہیں اور وہ ہر ایک مخلوق کی حاجت روائی و ضرورت کو پورا کرنے میں کبھی مجبور نہیں ہوا، مادی طور پر خالق ارض وسماء نے انسانوں کا آپس میں ربط و ضبط جوڑا ہے۔لیکن کسی ایک مخلوق کو کسی دوسری مخلوق کا رب نہیں بنایا۔ اور یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ اگر انسانوں میں سے کسی ظاہر پرست نے اپنی جہالت کی بنا پر لوگوں کے سامنے فخر و نخوت میں آکر جھوٹا خدائی صفاتکا دعویٰ کیا ہے اور لوگوں نے بھی اپنے بے وقوفانہ طرز کی وجہ سے اسے اپنا ارساز مانا تو رب کائنات نے انہی لوگوں کے سامنے ان کے جھوٹے خدائی دعویدار کو یا تو انہی کے ہاتھوں جوتے مروا مروا کر بے عزت کیا ہے جیسا کہ نمرود،یا ان کے جھوٹے خداؤں اور صنموں کو انہی کے ہاتھوں چکنا چور کروایا۔جیسا کہ مشرکین عرب کے 360جعلی خدا،یا پھر ان کے پیروکاروں کے سامنے عبرت ناک موت دیکر نشانِ عبرت بنا دیا جیسا کہ فرعون گویا کہ کائنات میں چلتی اسی کی ہے جس کی کائنات ہے۔
حق تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر بنی اسرائیل پر اپنے انعامات کا ذکر ارشاد فرمایا ہے۔ اور خصوصاً ان پر فرعون اور اسکے سرداروں کے ظلم و ستم کا تذکرہ بار بار ارشاد فرمایا، یعنی اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی کہ جب فرعون جو تمہاری اولادوں کو ذبح کرتا تھا،لڑکوں کو مارتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ پھر میں نے تمہارے لئے اس ظلم وستم سے نکلنے کے اسباب پیدا کیے تم کو پھر حکومت عطا کی۔دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ آزادی ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کا تذکرہ قرآن مقدس میں بیان فرماکر اسکی اہمیت جتلائی گئی ہے۔ اور ساتھ ہی اسکی ضرورت محسوس کروائی گئی ہے۔
یہ بھی قدرت کا فیصلہ ہے کہ اگر کوئی قوم اس نعمت و عظمت کی نا قدری کرے اس کا حق ادا نہ کرے تو پھر قدرت اس سے بڑھ کر مصائب میں مبتلا کرتی ہے۔ جیسا کہ بنی اسرائیل پر فرعونوں کے بعد بخت نصر کی شکل میں ان پر عذاب مسلط کیا کہ اس نے غلامی کے ساتھ بنی اسرائیل کے سارے اسباب بھی لے اڑا اور جاتے جاتے شہروں کو آگ کاڈھیر بنا گیا گویا کہ یہاں کوئی بستا بھی نہ تھا۔ یادرکھو! قرآن مجید فرقان حمیدصرف جھوٹی قسموں یا مردوں کو بخشوانے والی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات اور دائمی دستور ہے۔جس سے راہنمائی حاصل کر کے اپنی منزل و مقصد کا یقین کیا جا سکتا ہے۔
حق تعالیٰ نے تخلیق انسانیت کے بعد اس کی ذمہ داریوں،حقوق وفرائض ِسمیت کوئی پہلو ایسا نہیں جس کے لیے اپنے پیغمبر علیہ السلام کے ذریعے راہنمائی کے اصول وضوابط ارشاد نہ فرمائے ہوں۔ انسان کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف رضا ئے الہٰی ہے۔ دین اسلام نے شخصیت پرستی کا درس نہیں بلکہ رب پرستی کا حکم دیکر تمام مذاہب سے ممتاز کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی کے لئے، اپنے قرب ورضا کیلئے ہمیں صاف ستھری اور باوقار عبادت عطا فرمائی ہے۔ جو اس وقت روئے زمین پر انفرادی ہے۔دنیا ابھی تک اپنے عروج پر نہیں پہنچ سکی۔ ہنوز کچھ نہیں کثیر چیزیں نظروں سے اوجھل ہیں۔ اور نہ جانے کب تک رہیں گی لیکن جس قدر انسان بڑھ سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی پتھر چاٹ چکی ہے۔
تاریخ اسلام میں جتنے بھی اہم واقعات رونما ہوئے ہیں یا سر انجام دیے گئے ہیں ان میں نوئے فیصد کا تعلق محرم الحرام اور رمضان المبارک سے ہے۔ یعنی انہی دو بابرکت مہینوں میں ہوئے۔ یعنی رمضان المبارک ہی کو دیکھ لیں۔جب ابو البشر حضرت سیدنا آدم صفی اللہ ؑ کو صحیفے ملے۔ جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑکوآسمان سے صحیفے ملے، حضرت موسی ٰ کلیم اللہ ؑ کو کوہِ طور پر تورات ملی۔حضرت داودؑ کو زبور ملی، جب حضرت عیسیٰ روح اللہ ؑکو انجیل ملی، جب امام انبیاء،افضل الانبیاء،حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم پر غار حرا میں مکۃ المکرمہ شہر آتے ہوئے راستے میں سب سے پہلی وحی نازل ہوئی۔ یا اس امت کو لیلتہ القدر جیسا انعام ملا، اور جب مکہ فتح ہوا تو رمضان المبارک کا ہی مہینہ تھا۔
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں سرور انبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادی حضرت سیدہ رقیہ ؓ کا انتقال ہوا۔ اسی ماہ میں حضرت ابو طالب ؓکا انتقال ہوا۔ اسی ماہ میں حضرت سیدہ خدیجہ ؓ کی وفات ہوئی۔ رمضان کا مہینہ ہی تھا جب صدیقہ کائنات،حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا وصال ہوا۔ اسی طرح سود کی حرمت کا اعلان بھی رمضان میں ہوا، شراب کے حرام ہونے کا اعلان بھی رمضان میں ہوا، روزے کی فرضیت کا اعلان رمضان میں ہوا۔ سب سے پہلے دو نمازوں کا اعلان رمضان میں ہوا، سیدہ ام ایمن ؓکا انتقال رمضان میں ہوا، ام ممومنین ام سلمہؓ کا وصال رمضان میں ہوا، شاعر رسولﷺحضرت حسان بن ثابتؓ کا انتقال رمضان میں ہوا، شیر خدا حضرت سیدنا علی المرتضیٰ ؓ کی شہادت رمضان میں ہوئی، سیدنا حسن بن علی ؓ جب خلافت پر بیٹھے تو رمضان کا مبارک مہینہ تھا،حضرت سیدہ فاطمہ الزہراءؓ کا انتقال ہوا تو رمضان کا مہینہ تھا، امام ترمذیؒ، امام بخاریؒ، امام ابو داؤدؒ کا وصال رمضان میں ہوا، بوعلی قلندر ؒ اور شیخ التفسیر حضرت مولانااحمد علی لاہوریؒ جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو رمضان کا مہینہ تھا، اور رمضان کا مہینہ ہی تھا جب مسلمانان ِ برصغیر نے مغربی سامراج کو شکست دے کر اپنے لیے کلمہ کی بنیاد پر مملکت خداداد پاکستان حاصل کیا تو رمضان کا مہینہ تھا، اور رمضان کی ستائیسویں شب تھی۔
یادرکھو!قرآن اللہ کی رحمت ہے تو پاکستان بھی اللہ کی رحمت ہے۔ رمضان انعام الہٰی ہے تو پاکستان بھی قدرت کی طرف سے ہمارے لیے انعام سے کم نہیں، روزے تحفے ہیں تو پاکستان بھی آزادی کا تحفہ ہے، قرآن اور رمضان راہِ نجات انسانیت ہیں تو پاکستان بھی ہمارے لیے کفر سے نجات کیلئے امن کا گہوارہ ہے، ایک زمانہ تھا کہ مسئلہ خلق قرآن کے رد کیلئے اہلِ قرآن نے قربانیاں پیش کی اور ایک وقت ایسا بھی تھا کے قیام پاکستان کیلئے اہل ایمان کو قربانیاں پیش کرنی پڑیں تو پاکستان کے معرضِ وجود آنے میں رمضان کی برکت سے انکار نہ ہے۔
لاکھوں فرزندان اسلام نے آزادی کیلئے اپنی حیات مستعار کے شب ِوروز وقف کئے،لاکھوں نفوس نے اپنے جسموں کو رنگ حنا سے سرخ کیا۔ ہزاروں توحید وسنت کے متوالوں نے اپنے قیمتی لمحات کو آزادی کیلئے لیل ونہار ایک کیے،چٹا گانگ سے کوئٹہ تک پورے برصغیر میں ایک بابا حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒکا فتویٰ وارشاد کا وزن سب پے بھاری رہا۔
غالباً قدرت نے پاکستان رمضان المبارک میں دیکر یہ پیغام دیا کہ قرآن سے راہنمائی لے کر چلنا ہے، رمضان میں باری تعالیٰ کی طرف سے رجوع اور ایثار ہمدردی کا سبق پڑھ کر بڑھنا ہے۔ شھر رمضان کا فلسفہ پلے باندھ کر خوف رجا کے راستے پر گامزن ہوکر قیام اللیل کی طرح خدمت خلق پر کمر بستہ رہنا ہے،”علی رزقک افطرت“ پڑھنے کے بعد رزق حلال اور صاف ستھری روزی کا اہتمام کرنا ہے۔ اور اس کا متلاشی رہنا ہے۔”نویت بصوم غدمن شھر رمضان“۔پڑھ کر خالق ارض و سماء پر توکل اور بھروسہ سیکھنا ہے اور سیکھانا ہے۔ ”استغفراللہ ربی من کل ذنب“پر غور کر کے اپنے سے بڑی طاقتور ذات کا خیال دل میں رہے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہتے اور سنتے ہوئے حاکمیت اعلیٰ جباروقہار کا حق نظر میں رہے۔ حی علی الفلاح پڑھ سن کر فلاح انسانیت منشور رہے، اور”محمد رسول اللہﷺ“ پڑھ کر ایمان والوں سے محبت کا دستور رہے۔سحری وافطاری مل کر کرنے میں مساکین وفقراء مدنظر رہیں باجماعت صلوٰۃ میں محمود وایاز کا فرق باطلہ مٹ کر رہ جائے۔ ”اللہْ اکبر اللّٰہ ْ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبرواللہ الحمد“کا نغمہ توحید پکار کر زبانیں حمد و شکر سے تر رہیں۔
اور ہاں ”الصلوٰۃ خیرمن نوم“پر نظر کرتے ہوئے اپنے عدومبین کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔”ذلک الکتب لاریب فیہ“ اور ”قم الیل الا قلیلا“ پر عمل کرتے ہوئے فکری اور نظریاتی سرحدات کے تحفظ سے غافل نہ رہ جانا۔
ایک تاریخی دلچسپ حقیقت ہے کہ مسلم سلطنتوں کو اگر عروج ملا ہے تو دین حق پر عمل پیرا ہوکر اور اگر زوال آیا ہے تو دین حق کوپس پشت رکھنے پر فیصلہ الہٰی ہے کہ اسی قرآن کی وجہ سے عروج وزوال وگرفت ہوگی۔پاکستان کی بقا اسلام میں ہے۔ جب غیر فطری اور غیر اسلامی نظام کی طرف نگاہیں اٹھیں گی توخوشنودی کس کی حاصل کریں گے۔ رحمان ورحیم نے تو فیصلہ سنا دیا ہے کہ”نُوَلِہ مَا تَوَلٰی“ واضح ہیں۔ اختیار بھی دے دیا ہے۔ اب حق پر کون چل کر اپنے کو مستحق انعام ٹھہراتا ہے۔ میرا فیصلہ کسی کو کرنے کا نہ موقع ہے نہ اختیار ہے۔حضرت مولاناسید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے پوچھا گیا کے کیا یہ معلوم ہو سکتا کہ اللہ کے ہاں ہماری کیا وقعت ہے۔فرمایا ہاں! اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ تمہارے دل میں اللہ کی کیا وقعت ہے جتنی وقعت ہو گی اتنی ہی اطاعت ہو گی!اگر ذہن منتشر ہوکر اقوام مغرب ویورپ جو حق پرست نہ ہیں پھر ان کو کس چیز نے بام عروج تک پہنچایا ہے، تو لیجیے! صاحب معارف القرآن،حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی ؒکا فرمان ہے کہ یاد رکھوں باطل کے اندر کبھی ابھرنے اور ترقی کرنے کی طاقت ہی نہیں۔لیکن اگر کبھی تمہیں یہ نظر آئے کہ کوئی باطل ترقی کر رہا ہے۔ ابھر رہا ہے تو سمجھ لو کوئی حق چیز اس کے ساتھ لگ گئی ہے۔ اور اس چیز نے اس کو ابھار دیا ہے۔ تو اب یہ بات سوچنے کی ہے کہ کون سی چیز شعار مسلم تھی۔ جو ہم سے چھوٹ گئی ہے۔
اسلام اور سالاراسلام سے تعلق مضبوط کرنے سے ہی مقصد پاکستان پورا ہوگا۔
اور بقول اقبال!
سالار کارواں تھا میر حجاز اپنا
جس نام سے ہے باقی آرام جہاں ہمارا
بازوں تیرا توحید کی طاقت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے اور تو مصطفوی ہے!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

9 + 6 =