کولڈ وار ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے؟‎

عطاءاللہ نصری خیل

آج کے اس مشکل حالات میں ساری دنیا کرونا وائرس، جو کہ ایک جان لیوا وباء ہے، سے لڑ رہی ہے جس نے آج تک لاکھوں لوگوں کو اپنے لپیٹ میں لیا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں اموات بھی واقع ہوچکی ہیں۔ چونکہ ساری دنیا کی توجہ صرف اور صرف اسی ہی وباء پر ہے۔ سارے ممالک ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں خصوصاً جو ترقی یافتہ ممالک ہیں، دوسرے ترقی پزیر ممالک کی مدد کررہے ہیں۔ ان کو خفاظتی آلات فراہم کررہے ہیں اور مالی امداد دے رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ملک میں اس وباء سے اموات پر سوگ مناتے ہیں اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساری دنیا اس وباء کے خلاف ایک پیج پر ہے۔ اسی اثناء، پچھلے دنو ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جو کسی کی سوچ سمجھ میں بھی نہیں ہوگا۔ وہ کیا ہے؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔وینزویلا (Venezuela)میں امریکہ کی فوجی مداخلت:بروز منگل ٧/٤/٢٠٢٠ کو این بی آر (NBR) خبر رساں ادارے نے بریکنگ نیوز میں ایک خبر چلائی جس میں وائٹ ہاوس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی فوج کا سربراہ اور سیکرٹری آف سٹیٹ نے ایک مشترکہ کانفرنس میں وینزویلا میں امریکی فوج بیھجنے کا اعلان کیا۔ اور ایک  ہی دن بعد اپنی فوج وینزویلا میں بیھجنا شروع کردیا۔ امریکہ کا اس مشکل حالات میں یہ فیصلہ اپنی نوعیت کا عجیب وغریب فیصلہ تھا وجہ یہ ہے کہ اس مشکل وقت میں ایک طرف دنیا کیا کررہی ہے اور دوسری طرف امریکہ کیا کررہا ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو کئ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اب آئیۓ اس معاملے کا تھوڑا جائزہ لیتے ہیں۔انگریزی زبان کی ایک مشہور زمانہ کتاب جس کا نام ہے “The Clash of Civilization”  اس کے مصنف کا نام Samuel P. Huntington ہے۔ اس کتاب کا جو مرکزی خیال ہے یا خلاصہ ہے وہ یہ ہے کہ ویسٹفیلیا امن معاہدہ(Treaty of Westphalia) کے ڈیڑھ سال بعد مغرب میں جو جنگیں ہوتی تھیں  وہ بادشاہوں اور سلاطین کے درمیان، اپنی حکومت یا سلطنت کو وسیع کرنے کے لئے، اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے یا اپنا دباؤ اور رعب جمانے اور دکھانے کے لئے، ہوتی تھیں۔ اس کے بعد فرانسیسی انقلاب(French Revolution)  کے شروعات سے جنگ کا تصور بھی تبدیل ہوگیا اور جنگیں اب بادشاہوں اور سلاطین کے درمیان لڑنے کی بجائے قوموں کے درمیان لڑنا شروع ہوگئیں۔ یعنی اب جنگیں دو یا دو سے زیادہ قوموں کے درمیان لڑی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ پہلی جنگ عظیم تک چلا۔ پھر جب روس میں ١٩١٧ میں کمیونسٹ سول انقلاب(  Russian Communist Revolution)  آیا تو جنگ کی نوعیت اور اسباب بھی تبدیل ہوگئے۔ اب جنگیں نظریات کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیںجیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ سرد جنگ(Cold War) دو عالمی قوتوں کے درمیان تھی اور پوری دنیا دو دھڑوں میں بٹ گئ تھی۔ یعنی دو بلاک بن گئے تھے۔ ایک طرف کمیونزم کو فالو کرنے والے ممالک جن کو سوویت یونین سپورٹ کررہا تھا جبکہ دوسری طرف کیپیٹلزم کو فالو کرنے والے ممالک جن کے امریکہ سربراہ تھا ۔ پھر یہ جنگ ١٩٩١ میں ختم ہوگئ جب سوویت یونین( USSR) کو ١٩٨٩ میں افغانستان میں شکست ہوئی اور ١٩٩١ میں روس نے رسمی طور پر جنگ بندی کرانے کا اعلان کیا۔ اور اسی طرح کیپیٹلسٹ آئڈیالوجی جیت گیا۔اب میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی جو جنگیں ہوتی ہیں وہ بھی نظریات کے درمیان ہی ہوتی ہیں یعنی نظریات کے درمیان جنگ کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ آج بھی وہی حالات ہیں جو سرد جنگ میں دو بلاک کے درمیان تھے اور آج بھی اگر ہم دیکھیں تو امریکہ اور روس اور چین کے درمیان جو حالات ہیں وہی کے وہی ہیں۔ اب ان وجوہات پر بات کرتے ہیں جن کی بنا پر امریکہ نے وینزویلا میں فوجی کاروائی کا فیصلہ کیا۔ اور یہ سرد جنگ کا حصہ کیسے ہوسکتا ہے؟ سب سے پہلے میں آپ کو  بتاتا چلو کہ Juan Guaido جو حزبِ اختلاف لیڈر ہے کو امریکہ سپورٹ کررہا ہے جبکہ چین اور روس Nicolo Maduro،   جو کہ حکومتی لیڈر ہے یعنی صدر ہے وینزویلا کا، کو سپودٹ کرتے ہیں۔دونوں فریقوں کے درمیان یہ سرد جنگ پچھلے دو سالوں سے چل رہی ہے۔ اس کو میں سرد جنگ اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ جو ١٩٤٥ والی امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ تھی وہ بھی بلکل اسی نوعیت کی ہی تھی۔ ایک فریق ایک پارٹی کو سپورٹ کرتا تھا دوسرا فریق دوسری پارٹی کو سپورٹ کرتا تھا اور اسی طرح پھر بات بڑھتی گئ۔یہ بات تو واضح ہے کہ یہ جنگ سرد جنگ ہی ہے امریکہ اور روس اور چین کے درمیان لیکن ساتھ ساتھ یہ مفادات کی جنگ بھی ہے اور سب سے بڑھ کر نظریات کی جنگ۔ اگر ہم دیکھیں تو امریکہ، روس اور چین کے آئڈیالوجیز (نظریات) مختلف ہیں۔ ہر ایک پارٹی کی سسٹم آف گورننس مختلف ہے۔ اور ہر ایک اس کوشش میں ہے کہ دنیا کو کیسے مغلوب کرو۔ چونکہ امریکہ تو سوپر پاور ہے لیکن امریکہ کو آج کل جو سب س بڑا خطرہ ہے وہ چین کی ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ اس وجہ امریکہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ چین اتنا ترقی کرلے کہ میرے لئے خطرہ بن سکے۔چین اور روس نے وینزویلا میں کافی انوسٹمنٹ کی ہیں اس وجہ سے یہ دونوں ہر صورت میں یہ نہیں چاہتے کہ وینزویلا میں صورتحال ٹیھک نہ ہو کیونکہ ان کے مفادات کو نقصان ہیں۔ جب ٢٠١٣ کے عام انتخابات میں نیکولس میڈیورو  صدر منتخب ہوگیا تو انہوں نے روس اور چین کے ساتھ تعلقات اور  بھی بڑھادئیے کیونکہ یہ دونوں ممالک وینزویلا کو کافی امداد  فراہم کر چکے ہیں اور فراہم کررہے ہیں اور قرضے بھی دے رہے ہیں۔ امریکہ سے یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی کہ ان کے درمیان تعلقات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ پھر سب سے ٹرننگ پوائنٹ( Turning Point) تھا وہ یہ تھا کہ ٢٠١٨ کے عام انتخابات میں میڈیورو Maduro دوسری بار چھ سال کے لئے صدر منتخب ہوگیا تو امریکہ نے Maduro کی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور خزب اختلاف لیڈر کر سپورٹ کیا۔ خزب اختلاف لیڈر  Juan Gauido ویسے بھی Maduro کو صدر ماننے سے انکار کررہا تھا اور پھر جب امریکہ نے بھی اسکی حکومت تسلیم نہیں کیا تو Juan  نے ایکٹنگ پریزیڈنٹ ہونے کا دعویٰ کیا۔ Maduro کو چونکہ انتخابات میں برتری حاصل تھی اور فوج کی سپورٹ بھی اس لئے Juan صدر کو نہ ہٹا سکا۔ پھر خزب اختلاف کی طرف سے حکومت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں  اور حالات رفت رفتہ بگڑنا شروع ہوگئے۔اب امریکہ کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا سواۓ پابندیاں لگانے کا۔ امریکہ نے وینزویلا پر پابندیاں لگائی ٢٠١٩ میں۔ وینزویلا حکومت کے جتنے بھی امریکہ میں آثاثے تھے ان کو منجمد کردئیے۔ وینزویلا کافی مقدار میں یونائٹڈ عرب امارات(UAE)، ترکی اور یوگینڈا( Uganda) کو سونا برآمد کرتا تھا ان پر بھی پابندی لگادی۔ اس وجہ سے وینزویلا کی اکانومی پر کافی برا اثر پڑا۔بین الاقوامی ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی ان معاشی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روس نے جواب میں یہ کہا ہے کہ ہم وینزویلا حکومت کو بچانے کے لئے اس میں اندر داخل ہوسکتے ہیں۔اب معاشی پابندیوں کے بعد کل امریکہ نے فوجی مداخلت کا اعلان کیا کہ ہم کوویڈ ١٩ سے بھی لڑینگے، ہم دہشتگردوں سے بھی جنگ لڑینگے اور وینزویلا کے خلاف بھی جنگ لڑینگے۔ اب اگلہ روس اور چین کا ردعمل کیا ہوگا یہ معلوم نہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

9 + 4 =