کیا کورونا وبائی مرض ۲۱ مئی تک ختم ہوجائے گا؟

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی
چین کے ووہان شہر سے پھیلا وبائی مرض (کورونا وائرس) اس وقت پوری دنیا میں پہنچ گیا ہے۔ ۸۲ اپریل کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ۲ لاکھ سے زیادہ افراد اس وبائی مرض کی وجہ سے مرگئے ہیں اور تیس لاکھ سے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں، الحمد للہ تقریباً ۹ لاکھ افراد شفایاب بھی ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام بیماروں کو شفاء کاملہ وعاجلہ نصیب فرمائے اور ہم سب کو اس مرض سے محفوظ فرمائے، آمین۔ اس موجودہ بیماری کا اب تک کوئی علاج دستیاب نہیں ہے۔مختلف ٹیمیں اس مرض کی تحقیق اور اس کے علاج کے لئے کوشاں ہیں۔ فی الحال صرف احتیاطی تدابیر ہی مرض سے بچاؤ کے لئے اختیار کی جاسکتی ہیں، اور احتیاطی تدابیر کا اختیار کرنا شریعت اسلامیہ کے مخالف بھی نہیں ہے۔ الحمد للہ پوری دنیا کا مسلمان بھی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہے، چنانچہ اس ماہ مبارک میں بھی اجتماعی عبادات کے بجائے گھروں میں ہی عبادت کی جارہی ہے۔ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مسلمانوں نے مسلسل کئی ہفتے جمعہ کی نماز مساجد میں ادا نہ کی ہو۔ خاص کر ماہ مبارک میں نماز جمعہ میں مساجد اپنی وسعت کے باوجود نمازیوں کی تعداد کی وجہ سے تنگ ہوجاتی تھیں۔ اس وقت ہر شخص خاص کر مسلمان رمضان کے مبارک مہینہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کررہا ہے کہ جلد از جلد یہ بیماری ختم ہوجائے۔
سوشل میڈیا پر آج کل کچھ ویڈیو، آڈیو اور مضامین نظر آرہے ہیں جن میں حدیث کی مشہور کتاب ”مسند احمد“ کے حوالہ سے ایک حدیث پیش کرکے دعوی کیا جارہا ہے کہ ۲۱ مئی یعنی رمضان کے آخری عشرہ شروع ہونے سے قبل یہ وبائی مرض ختم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ مرض جلد از جلد ختم ہوجائے تاکہ جہاں لوگ اجتماعی عبادات میں شرکت کرسکیں وہیں لوگ اپنے روزگار پر واپس آجائیں اور پریشان حال لوگ مصیبتوں کے اس وقت سے نکل کر کسی حد تک راحت کی سانس لے سکیں۔
سب سے پہلے مسند احمد میں وارد حدیث ملاحظہ فرمائیں: صحابی رسول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب صبح کے وقت (ثریا) ستارہ طلوع ہوتا ہے تو اس وقت کی بیماری ختم ہوجاتی ہے۔ حدیث یقینا صحیح ہے، مگر کیا اس سے ہر وبائی مرض مراد ہے یا پھر کسی خاص بیماری کا اس حدیث میں ذکر ہے۔ دیگر احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا مذکورہ یہ فرمان کھجور کی فصل میں آنے والی بیماریوں کے متعلق ہے۔ بعض علماء نے حضور اکرمﷺکے اس ارشاد کا تعلق دیگر وبائی امراض سے بھی لیا ہے، مگر اکثر علماء ومحدثین ومفسرین ووفقہاء کی تحقیق کے مطابق حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان کا تعلق صرف کھجوروں کی بیماریوں سے ہے۔
آئیے پہلے سمجھیں کہ حضور اکرم ﷺ نے یہ کب اور کن حالات میں ارشاد فرمایا تھا۔ مدینہ منورہ کے لوگ اس حال میں کھجوروں کی فروخت کردیا کرتے تھے جبکہ کھجور کی فصل آنے والی ہوتی تھی۔ کبھی کبھی بیماریوں کی وجہ سے کھجور کم پیدا ہوتی تھی، جس پر بیچنے والے اور خریدنے والے کے درمیان قیمت کی ادائیگی پر اختلاف ہوتا تھا کہ کھجور خراب ہوگئی یا کم پیدا ہوئی۔ جب اس نوعیت کے متعدد جھگڑے حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ ﷺ نے مشورہ کے طور پر ان سے فرمایا کہ کھجوروں کو اس وقت بیچا کرو جب کھجور نمودار ہوجایا کرے۔ کھجور ابتدا میں ہری ہوتی ہے پھر بعد میں پیلی اور سرخ ہوجاتی ہے۔ جیسے جیسے گرمی پڑتی ہے کھجور میں پیلا اور سرخ رنگ آتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ثریا ستارہ جو اصل میں چند ستاروں کے مجموعہ کا نام ہے مگر زمین سے بہت فاصلہ پر ہونے کی وجہ سے ایک نظر آتا ہے، ۲۱ مئی کی صبح کو خاص کیفیت کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور اس کے بعد کھجوروں میں بیماریوں کا پہلو تقریباً ختم ہوجاتا ہے، یعنی اس حدیث کا اصل مفہوم یہ ہے کہ جب صبح کے وقت (ثریا) ستارہ طلوع ہوتا ہے تو کھجوروں میں بیماری لگنے کے خدشات ختم ہوجاتے ہیں۔ غرضیکہ اکثر علماء کی تحقیق کے مطابق اس حدیث کا تعلق صرف کھجور کی بیماریوں کے ساتھ ہے کہ ثریا ستارہ کے طلوع ہونے یعنی ۲۱ مئی کے بعد کھجوروں میں بیماریاں نہیں لگتی ہیں۔
اس وجہ سے ۲۱ مئی کو کورونا وبائی مرض کے بالکلیہ ختم ہونے یا اس میں تخفیف کے متعلق دعوی کرنا عقلمندی نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری اور مدرسہ شاہی مرادآباد کے استاذ حدیث مفتی سلمان منصور پوری کی بھی یہی رائے ہے کہ اس حدیث سے عام امراض مراد نہیں بلکہ کھجور کی بیماریاں مراد ہے کہ ۲۱ مئی کو ثریا ستارہ کے طلوع ہونے کے بعد اس میں بیماریاں پیدا نہیں ہوتی ہیں۔ غرضیکہ ۲۱ مئی تک کورونا وبائی مرض کے ختم ہونے کی امید تو رکھنی چاہئے مگر دعوی نہ کیا جائے تاکہ ۲۱ مئی کو کورونا وبائی مرض کے ختم نہ ہونے پر ہمیں پشیمانی اٹھانی نہ پڑے۔
اس سے قبل بھی عرض کرچکا ہوں کہ اس مرض سے بچنے کے لئے دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ صبح وشام سات سات کلونجی کے دانے کھائیں، اللہ تعالیٰ سے اس ماہ مبارک میں توبہ واستغفار کریں، نیز دن میں روزہ رکھیں اور رات میں تراویح کا اہتمام کریں۔ سحری کے وقت چند رکعت نماز تہجد کی ادائیگی کریں۔ غریبوں خاص کر اپنے پڑوسیوں کا ضرور خیال رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ وبائی مرض جلد از جلد ختم ہوجائے یا پھر اس میں تخفیف شروع ہوجائے تاکہ نمازِ عید مساجد میں ادا کی جاسکے اور سارے لوگ اپنے اپنے روزگاروں پر واپس آجائیں تاکہ جن گھروں میں غربت کی وجہ سے چولھے نہیں جل رہے ہیں وہاں بھی دو وقت کھانا بننے کا انتظام ہوجائے۔
(www.najeebqasmi.com)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

5 + 7 =