کروناوائرس ۔۔۔اور بھوک

تحریر ۔فیصل رمضان اعوان
تین ماہ سے کرونا وائرس دنیا بھر میں تباہی مچاتا ہوا اب ہمارے سروں پر موت کے سائے کی طرح ہمارا پچھا کررہا ہے دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ اورتہذیب یافتہ ممالک بری طرح متاثر ہیں وہاں ہزاروں کی تعداد میں روزانہ لوگ مررہے ہیں وہ قومیں اس مہلک موذی مرض سے پریشان ہیں انسانیت ایک کرب میں مبتلا ہے ہمارے ہاں حالات اس سے بھی مایوس کن ہیں اللہ کے فضل وکرم سے اس مہلک وائرس کی وہ سپیڈ یہاں نہیں ہے جو امریکہ سمیت دیگر  مغربی ممالک میں ہے ہم پر اللہ کا خاص کرم ہے لیکن اس خوش فہمی میں رہنا کہ ہم بالکل محفوظ ہیں ایساہرگز نہیں ہے اگر ہم میں سے کسی کی یہ سوچ ہے تو وہ احمق ہے بلکہ پرلے درجے کا بے وقوف ہے کیونکہ یہ وائرس ایک وبائی مرض ہے انسانوں سے انسانوں میں پھیلتا ہے جوکہ اب تک ہم میں پھیل بھی چکا ہے جس کی تعداد آئے روز بڑھ رہی ہے اور اگر ہم محکمہ صحت اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے بتلائے گئے احتیاطی تدابیر اور اقدامات پر عمل پیرا نہ ہوئے تویقیننا ہم اس موذی مرض کا شکار ہوسکتے ہیں جیسا کہ ہمیں بتلایا جارہا ہے کہ اس وائرس سے نوجوان لوگ جانبحق نہیں ہوتے صرف عمررسیدہ ہی موت کی آغوش میں چلے


جاتے ہیں ایسا بھی ہرگز نہیں ہے کچھ نوجوان لوگ واقعی صحت یاب بھی ہوئے ہیں اورکچھ موت کے منہ بھی چلے گئے ہیں ہمیں ہرحال میں اپنے آپ کو کرونا وائرس سے بچانا ہے اور اس مہلک وائرس سے ہم تب ہی محفوظ رہ سکتے ہیں جب ہم احتیاط کریں گے محکمہ صحت اور حکومتی اقدامات نے ہمیں احتیاطی تدابیر بارے بتلا دیا ہے ہم ان تدابیر پر عمل کرکے خود کو بھی اور دوسرے لوگوں کو بھی اس اذیت ناک موت سے بچا سکتے ہیں ہمارے حکمران باربار لاک ڈاؤن نہ کرنے کا کیوں کہتے ہیں لیکن اس کے باوجود لاک ڈاؤن ہو جاتا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک غریب ترین ملک کے باسی ہیں دولت گنتی کے چند لوگوں کے پاس ہے ایک کثیر طبقہ رزق حلال کے لئے روزانہ کی اجرت پر کام کرتا ہے اسی طبقے کی وجہ سے معیشت کا پیہہ بھی رواں دواں رہتا ہے جب ہم مکمل طورپر سب کچھ بند کردیں گے تو یہ اکثریتی طبقہ بری طرح متاثر ہوگا یہاں بھوک ڈیرے ڈال دے گی اور بھوک انسانیت کی تذلیل کی انتہا ہے حضرت علی ؓکا قول ہے کہ غربت انسان کو کفر تک لے جاتی ہے یہاں کام کفر سے بھی آگے نکل جائے گا تاحال ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن ہے کچھ سیکٹر کھلے ہیں اور مزید کو جلد


کھولنے کے حکومتی احکامات ہم سب کے سامنے ہیں اور ان سیکٹرز کو کھولنے کا یہ مطلب نہیں کہ کرونا وائرس سے ہماری جان خلاصی ہوگئی ہے کرونا وائرس بدستور جاری ہے اور اس کی رفتار میں کمی نہیں آئی بلکہ تیزی ہی آرہی ہے خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے لئے کچھ انڈسٹریوں کو کھولا جارہا ہے یہ صرف بھوک کے سنجیدہ ترین مسئلے کو سامنے رکھ کر کیا جارہا ہے کنسٹرکشن ،زراعت،گڈزٹرانسپورٹ اور فیکٹریوں کو صرف ہمارے لئے کھولا جارہا ہے لیکن ہم سب نے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے کروناوائرس کو شکست دینی ہے وگرنہ دنیا کے وسائل رکھنے والے ممالک کی بے بسی ہمارے سامنے ہے فی الحال سماجی رابطے منقطع کردیں جہاں بھی کام کریں سب کو احتیاطی تدابیر کی ترغیب دیں اور خود بھی سختی سے عمل کریں یادرکھیں کرونا وائرس لاعلاج ہے تاحال دنیا بھرمیں اس کا علاج دریافت نہیں ہوسکا کرونا وائرس جیسے مہلک موذی مرض سے مرنے والے لوگوں میں یہ خطرناک حد تک ایکٹو ہوجاتا ہے جو آپ کے کسی بھی مرنے والے  عزیز رشتہ دار یا کسی اپنے کو آخری دیدار تک سے محروم کردیتا ہے معمولی سی غفلت سے آپ بھی اس موذی وبا کا شکار ہوسکتے ہیں خدارا پاگل پن کا مظاہرہ نہ کریں اسے مذاق نہ سمجھیں احتیاط واجب بھی ہے اور ہماری شریعت میں اس کا حکم بھی ہے لہذا احتیاط کریں اور احتیاط ہی کرونا وائرس سے تحفظ دے سکتا ہے احتیاط علاج سے بہتر ہے والے فارمولے کو چھوڑدیں جب یہ لاعلاج ہے تو ہمیں صرف احتیاط نہیں بلکہ بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس موذی اور جان لیوا مرض کا علاج ہی نہیں ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

6 + 9 =