ہمارے بچے


شاعر: عبداللہ ضریم

یہ زندگی جینا مانگتی ہے
ہمارے بچے تو کر رہے ہیں
تمہارے بچوں کے بوٹ پالش !
ہمارے بچے ،تمہارے بچوں کے بستے حسرت سے دیکھتے ہیں
تمہارے بچوں کو گاڑیوں میں سکول جاتا بھی دیکھتے ہیں !
ہمارے بچے ، تمہارے بچوں کو زندگی جیتا دیکھتے ہیں
تمہارے بچوں کی کھیلنے کے جو عُمر ہے ،
وہ ہمارے بچوں نے زندگی کا مقابلہ کرتے کرتے کاٹی !
ہمارے بچوں نے ضبط کرنے کا فن کمایا
ہمارے بچوں کو رزق، روٹی، دوائی ، پیسے کا سب پتہ ہے !
ہمارے بچے کسی بھی خواہش سے بے خبر ہیں
ہمارے بچے اداس چہرے کو کھوکھلی سی ہنسی سے ڈھک کر ہماری جانب جو دیکھتے ہیں
ہمارے ذہنوں کا ایک صدمہ خیال بن کر پکارتا ہے
ہمارے بچے بڑے ہیں ہم سے !!
ہمارے بچوں نے اپنے بچپن کو بچپنے میں نہیں گزارا !
ہمارے بچوں کو سب پتہ ہے
ہمارے بچے یہ جانتے ہیں
کہ زندگی جینا مانگتی ہے !!
اور اپنی سانسوں کے دام کم ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

3 + 8 =