جنج کچاویں چڑھی

تحریر۔ندیم قاصراُچوی
شاعری خدا داد صلاحیت اور اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ یہاں پر میں سرائیکی شاعری کی بات کر رہا ہوں۔ ڈاکٹر پروفیسر نصراللہ خان ناصر صاحب نے اپنی کتاب ”سرائیکی شعری دا ارتقاء” میں سرائیکی شعری کے چار بڑے ادوار بیان کیے ہیں۔
پہلا دور دینی شعری کا دور ہے جو 500ھ سے 1100ھ / 1107ء سے 1689ء تک کا ہے۔دوسرا دور صوفیانہ شاعری کا دور ہے جو کہ 1100ھ سے 1273ھ /1689ء سے 1857ء تک ہے۔ تیسرا دور حضرت خواجہ غلام فرید صاحب کا ہے جو 1273ھ سے 1366ھ /1857ء سے 1947ء تک ہے۔ اور چوتھا دور پاکستانی دور ہے جو کہ 1366ھ سے 1408ھ / 1947ء سے ہوتا ہے۔
دیگر زبانوں کے شعراء کرام کی طرح سرائیکی شعراء بھی کسی محاز اور  سانحہ پر پیچھے نہیں رہے۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگ میں جہاں دیگر زبانوں میں ملی نغمے اور وطن سے عقیدت کے گیت گائے اور لکھے گئے وہاں پر سرائیکی زبان میں بھی ملی نغمے اور قومی یکجہتی اور ملکی تعمیر و ترقی کیلیے کلام لکھے گئے ہیں۔اس وقت سرائیکی شعری میں بہت اعلیٰ پائے کی تخلیقات کیں جا رہی ہیں۔جس میں قومی یکجہتی وطن سے محبت وسیب کا دکھ درد اور دیگر موضوعات شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں دوست نے ایک سرائیکی شعری مجموعہ تحفہ میں بھیجا وہ میرے شعری ذوق سے خوب واقف ہے۔جب پارسل کھول کے دیکھا تو جناب جاوید آصف صاحب کا سرائیکی شعری مجموعہ ”جنج کچاویں چڑھی” تھا۔ صاحبِ کتاب جناب جاوید آصف کی شاعری سے اکثر اوقات سوشل میڈیا پر مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ مگر انکا سرائیکی مجموعہ کلام” جنج کچاویں چڑھی” مطالعہ میں آیا۔ آج مکمل پڑھ لینے کے بعد اپنی رائے تحریر کر رہا ہوں۔ اس وقت تمام سرائیکی شعراء کرام اعلیٰ قسم کا کلام تخلیق کر رہے ہیں۔ جن میں جناب جاوید آصف صاحب بھی شامل شامل ہیں۔ اس شعری مجموعہ ”جنج کچاویں چڑھی” میں ڈوھڑے، غزلوں اور نظموں کی صورت میں جناب نے خوبصورت کلام پیش کیا ہے جس پر میں ان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جاوید آصف صاحب اب تک پانچ کتب کے مصنف ہیں جن میں ”وساندر”,”کھارے چڑھدی سک”،”لئی ہار”،”سرائیکی متھالوجی”، اور ” جنج کچاویں


چڑھی” شامل ہے۔ ” جنج کچاویں چڑھی” میں جاوید آصف صاحب نے شروع میں نعت رسول مقبول??? کی صورت میں اپنے عقیدت کے پھول نچھاور کیے ہیں کہ:
تیڈے آون نال عورت ذات کوں عزت ملی
ہر نِپھر کمزور بے اوقات کوں عزت ملی
تیئں پسانویں ہے یکی کائنات کوں عزت ملی
باعزت کیتی اِنھاں کوں ہَن جیڑھے بے بھاونے
تیئں جیہاں کئی انقلابی شخص آئے نہ آونے
سبحان اللہ کیا خوبصورت بات کہی ہے۔ بالکل آپ کی آمد سے ہی عورت،غلام و کمزور اور پست لوگوں کو عزت ملی۔
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاعر اپنی باتیں اپنی کیفیات بیان کرتا ہے۔ مگر میں یہاں پر اختلاف کرتا ہوں شاعر کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایسی محسوسات رکھی ہیں کہ وہ جس کسی کی خوشی، دکھ و غم دیکھتا ہے اسکو اپنا سمجھ لیتا اور پھر
شعر کی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔
ہے عید تاں لوکیں دے اتارے پیا پیندے
مزدور گرانہہ منگ تے ادھارے ودا کھاندے
آصف جاوید صاحب نے بھی یہی بات اس شعر میں بیان کی ہے۔ کہ ایک مزدور بچارا کیسے پوری کرے۔ جہاں اتنی مہنگائی ہو۔ وہاں وہ بچوں کا پیٹ پالے یہ عید پر نئے کپڑے پہنے۔ مزدور مانگ کر نوالہ کھاتا ہے۔ یعنی جب دہاڑی نہیں لگے تو بچارا ادھار لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ میں یہی کہہ رہا تھا شاعر کا دل اللّٰہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہوتا ہے کہ وہ سبھی کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہے اور بیان کرتا ہے۔
ڈس کیڑھے ڈیہہ اساں تیکوں مونجھا راہون ڈتے
یا تیڈے کہیں مسئلے کوں وی مسئلہ راہون ڈتے
وااہ وااہ خوبصورت مطلع۔ اس غزل کے اگلے شعر میں کہتے ہیں۔
ول مونجھیں لوکیں کوں مونجھا کرن دل نیں کیتا
میں شعری وچ پھل تتلی دا قصہ راہون ڈتے
ایک سے بڑھ کر ایک کلام موجود ہے اس کتاب میں۔
ترلا(نظم)
پھل دھاگے تعویذ وی


کیتم
خود کوں ہیپناٹائز وی کیتم
کیتا بھانویں حبس دم اے
تیڈی یاد نئیں تھیندی کم اے
واہ واہ کیا کہنے جاوید آصف صاحب کیا خوبصورت مختصر نظم کہی ہے۔
ابو ہک ادھ جوڑا ایکوں ڈیوں نہ چا؟
ایندا ایہو صرف بنین تے کچھا ہے
یہ شعری مجموعہ ” جنج کچاویں چڑھی ” ایک لاجواب مجموعہ ہے جس میں ایک سے بڑھ کر ایک کلام موجود ہے۔ ہر کلام اپنے آپ میں خوبصورتی سموئے ہوئے ہے۔ کہیں ہجر ہے کہی وسیب کی ترجمانی ہے۔ کہیں غریب کی آہ کھڑی ہے۔
ایک ڈوہڑہ آپ لوگوں کی نظر کر رہا ہوں کہتے ہیں کہ:
جیڑھا ٹردیں سو سو ول کھاندے  اج نچدے کئی نئیں بچدا۔
اُوندے ہتھیں پیریں میندی دا رنگ رچدے کئی نئیں بچدا
پا کالا جوڑا امدا پے پیا جچدے کئی نئیں بچدا
توں آصف نال ایمان دے ڈس کئی بچدا؟ کئی نئیں بچدا
یہ کتاب ” جنج کچاویں چڑھی”  پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ آخر میں یہی کہوں گا یہ شعری مجموعہ سرائیکی شعری ادب میں خوبصورت بڑھاوا ہے۔ آخر میں اس کتاب سے منتخب کلام آپ لوگوں کے ذوق کی نظر کرتا ہوں۔
اوندی صورت میکوں بھاندی گئی ہے
اکھیں دے وچ چمک آندی گئی ہے
محبت دا علم چا تے ٹریا ہاں
کندھی نفرت دی خود ڈھاندی گئی ہے
آوندے در توں ولا روندیں ولی ہے
جیڑھی گھر پتر دے گاندی گئی ہے
وڈا شہتوت تھئے ہمسائے میڈے دا
میڈے ویڑھے وی چھاں آندی گئی ہے
نتیجہ نئیں نکلدا پیا اجاں کئی
او گئے یہ دید اکھیاں دی گئی اے
پنل دے پیار وچ واقعی نشہ ہا
جھتوں سسڑی کوں گھل آندی گئی ہے
میڈے منہ تے نئیں ویلھے ودھر آندے
اوندے سر اچ وی آ چاندی گئی ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

9 + 7 =