اجنبی

وہ اجنبی تھا لیکن , وہ بے خبر نہیں تھا
میرے ساتھ چلنے والا میرا ہم سفر نہیں تھا

اچھے تو دن بھی آتے , غم سارے ٹل بھی جاتے
دعو ے بہت تھے لیکن , اس کو صبر نہیں تھا

خوشبو ,ہوا اور بادل, وہ گاوں کے نظارے
ہم نے نہ مڑ کے دیکھا , تو جو ادھر نہیں تھا

قدموں میں میرے دنیا, رکھنے کا تھا ارادہ
مجھ کو گلے لگاتا , اتنا جگر نہیں تھا

رہتا ہے پر سکوں وہ, کہتا بھی کچھ نہیں ہے
میرا جو حال ہے وہ, شاید ادھر نہیں تھا

میں سکوت وہ طلاطم,رہا سوچ میں تصادم
مجھے پیار کرنے والا, میرا ہم عمر نہیں تھا

فرزانہ دیکھو اس کو , رہتا ہے خالی گھر میں
تیری بد دعا کا دعوی, کوئی بےاثر نہیں تھا

فرزانہ صفدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

3 + 9 =