گھوس اورگھاس

Muhammad Nasir Iqbal

شفیق ومہربان ماں باپ کی نسبت اوران سے ملی بیش قیمت تربیت زندگی بھر انسان کے معاملات میں آسانیاں پیداکرتی،اس کے افکارو کردارسے جھلکتی اوراسے دن بدن نکھارتی چلی جاتی ہے۔پنجاب پولیس کے باکردار،باوقار اورعزت دارڈی آئی جی اشفاق احمدخان اپنے اخلاص،اخلاق اورجذبہ ایثار سے باپ دادا سمیت اپنے محکمے کانام روشن کررہے ہیں۔اشفاق احمدخان نے کامیابی وکامرانی کی سیڑھی پرقدم جماتے ہوئے ” بچپن” سے “پچپن “کاسفر طے کرلیاہے اوراِن شاء اللہ ان کے پیاروں کی دعاؤں سے یہ سفرایمان واطمینان کی حالت میں جاری رہے گا۔اشفاق احمدخان سادگی میں آسودگی تلاش کرتے ہیں،انہیں شروع سے تعلیم وتربیت اورفطرت سے بہت لگاؤرہا ہے۔وہ کچھ سال تک قائداعظمؒ یونیورسٹی اسلام آباد میں ” معلم” رہے اورپھر” محافظ” بنے۔ اگر متعدد کتب گھول کرپی جانے کے باوجود انسان تمیز اورتہذیب سے محروم رہے توتعلیم اس کیلئے بوجھ کے سواکچھ نہیں،جس کیلئے تعلیم” بوجھ” اورجس میں عہدے کی “بو” نہ وہ غلام محمودڈوگر اور اشفاق احمدخان کی طرح دوسروں کابوجھ اٹھاتے اورمعاشرے کے معتوب طبقات کی محرومیوں کامداواکرتے ہیں۔تبدیلی سرکار کے کپتان نے لاہورمیں غلام محمودڈوگر اوراشفاق احمدخان کی پارٹنر شپ زیادہ دیرتک نہ چلنے دی،شہریوں کواس کاافسوس رہے گا۔فرض شناس،پرجوش اورسرفروش غلام محمودڈوگر نے تھانہ کلچر کی نبض پرہاتھ رکھ دیا ہے،وہ اس کی تبدیلی کاپختہ ارادہ رکھتے ہیں۔
عہدحاضر میں برسراقتدارآنیوالے ہر حکمران یا سرکاری منصب پربراجمان ہونیوالے حکام کو تو دل وجان سے خوش آمدیدکہاجاتا ہے اور لوگ ان کی شان میں قصیدہ خوانی بھی کرتے ہیں لیکن جانیوالے کو اب کوئی نہیں پوچھتا،تاہم لاہور میں تھانہ کلچر کی بہتری کیلئے دوررس اصلاحات جبکہ شہریوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی میں آسودگی وآسانی کیلئے راہ ہموارکرنے جبکہ اپنے ماتحت آفیسرز اوراہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت کیلئے تربیت کااہتمام کرنے،انہیں سراہنے اوران میں خوداعتمادی وخودداری کی بحالی کیلئے اپنی انتھک خدمات کے بل پرانمٹ نقش چھوڑنے والے پروفیشنل،بردباراوروضع دار ڈی آئی جی اشفاق احمدخان کو والہانہ عقیدت وعزت کے ساتھ رخصت کیا گیا۔ایک سردشام میں شہرلاہورکے درودیوار نے اشفاق احمدخان کوایک مردمیدان اورفاتح کپتان کی طرح رخصت ہوتے ہوئے دیکھا۔سی سی پی اولاہور غلام محمودڈوگر نے انتہائی رواداری،بردباری لیکن رازداری کے ساتھ اشفاق احمدخان کی پذیرائی اورلاہور سے ان کی آبرومندانہ رخصتی کیلئے شاندار عشائیہ کااہتمام کیا تھاورنہ اپنے محبوب اورمستعد محافظ اشفاق احمدخان کورخصت کرنے کیلئے پورا شہرشاہراہوں پرامڈآتا۔
اس کورخصت توکیا تھا مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
راوین اشفاق احمدخان کاآفس “جی سی “کے پڑوس میں تھا،جس شہر لاہورسے انہوں نے تعلیم حاصل کی وہاں وہ دوبارڈی آئی جی آپریشنز تعینات رہے اوراپنے فرض منصبی کی بجاآوری کے معاملے میں سروری اورسرفرازی سے ہمکنارہوئے۔وہ شہرلاہورسے نیک نامی سمیٹ کرایک اورمحاذپر چلے گئے جہاں نئے چیلنجزان کے منتظر ہیں۔اشفاق احمدخان اپنے اعزازمیں ہونیوالی تقریب کے شرکاء کی دعاؤں اوروفاؤں کے حصار میں وہاں سے سرگودھا کیلئے روانہ ہوئے۔تقریب کے اختتام پرجہاں ان کی اپنی آنکھیں اداس تھیں وہاں کئی شرکاء کے چہرے بھی اترے ہوئے تھے۔لاہورمیں اشفاق احمدخان کودوبارڈی آئی جی آپریشنز تعینات کیا گیا اوردونوں بار انہیں اپنے منصب کی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی تاہم ان کی تقرری کے دونوں دور انتہائی شاندار،شفاف اورہرقسم کے تنازعات سے پاک تھے،کوئی ان کے کرداراوراقدامات پرانگلی نہیں اٹھاسکتا۔ان کی رخصتی کاماحول جہاں قابل” رشک “تھا وہاں کچھ شرکاء کی آنکھوں میں ” اشک” بھی تھے، ایس پی ساجد کھوکھر نے اشفاق احمدخان کی ٹرانسفر پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا،”آج ہم یتیم ہوگئے ہیں “۔ ایس پی عاصم افتخار نے اشفاق احمدخان کوپنجاب پولیس کا” سرمایہ افتخار” قراردیا۔عاصم افتخار کا کہنا ہے اشفاق احمدخان کی شخصیت میں ایک سحر ہے اورلاہور کیلئے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
آنکھ سے دورسہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے توہمیں بہت یاد آئے گا
کچھ لوگ زندگی بھرتجوریاں اوربوریاں بھرنے کیلئے اپنے اختیارات سے تجاوز، دوسروں کاحق غصب اورانصاف کاخون کرتے ہیں اورکچھ زندہ ضمیر انسانوں کے دامن میں عزت کے سواکچھ نہیں سماتاکیونکہ انہیں ناجائز دولت اکٹھی کرنے کاہنر نہیں آتا۔ نیک نیت اشفاق احمدخان کی ترجیحات میں شروع دن سے عزت سرفہرست ہے۔ لاہور سے اشفاق احمدخان کوجوعقیدت وعزت اورمثبت شہرت ملی وہ ان کے بعدآنیوالے آفیسرز کیلئے روڈمیپ ہے،انسان کوجو”مقام”اس کے” کام” کی بدولت ملے اسے کوئی نہیں چھین سکتا۔عمر شیخ اوراشفاق احمدخان کی رخصتی میں زمین آسمان کا”فرق” اورآفیسرز کیلئے” سبق “ہے۔اشفاق احمدخان نے اپنے ہم منصب ساجدکیانی کیلئے نیک خواہشات اورپیشہ ورانہ جذبات کااظہارکیا ہے،لاہور کے ایک کرائم رپورٹر نے ایک نیوزمیں ساجدکیانی کوسابقہ وزیراعظم نوازشریف کاچہیتا اوروزیراعظم آزاد کشمیرسردارفاروق حیدر کابھانجا بتایا ہے،میں سمجھتا ہوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے اوراس کے آفیسرز واہلکار کسی حکومت یاشخصیت نہیں بلکہ ریاست کے وفادار ہوتے ہیں۔کوئی آفیسر کسی شہرکیلئے اجنبی نہیں ہوتا،اشفاق احمدخان کااعلیٰ کام اس حقیقت کی شہادت دے رہا ہے۔اشفاق احمدخان کے بعداب جوبھی اس منصب پر براجمان ہوگالوگ اس کااشفاق احمدخان کے ساتھ موازنہ کریں گے،ڈی آئی جی ساجدکیانی بارے خوش گمانی رکھنا ہوگی، وہ یقینا ڈیلیورکریں گے اوراس کیلئے انہیں مناسب وقت دینا ہوگا۔
ڈی آئی جی اشفاق احمدخان کوجس والہانہ انداز سے لاہورمیں خوش آمدید کہا گیاتھا اُس سے بہت زیادہ عقیدت وعزت اورنیک خواہشات کے ساتھ انہیں رخصت کیا گیاہے۔سی سی پی اولاہور غلام محمودڈوگر کی طرف سے اشفاق احمدخان کے اعزازمیں پروقارعشائیہ میں میزبان سمیت پولیس حکام نے اپنے صادق جذبوں اورخوب صورت لفظوں کے ساتھ انتھک اشفاق احمدخان کی خدمات اوراصلاحات کوسراہا۔ عشائیہ میں ڈی سی لاہورمدثرریاض ملک،ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال خان،ڈی آئی جی سکیورٹی حسن رضاخان،ایس ایس پی آپریشنز احسن سیف اللہ،ایس ایس پی ڈسپلن سیّد محمدامین بخاری،سی ٹی اوکیپٹن (ر)سیّدحمادعابد،ایس ایس پی سردارموارہن خان،ایس پی عاصم افتخار،ایس پی صاعد عزیز،ایس پی اے وی ایل ایس اعجازرشید،ایس پی اے آرایف ساجدکھوکھر،ایس پی صفدررضاکاظمی،ایس پی دوست محمد،ایس پی شمس الحق درانی اوراے ایس پی سدرہ خان سمیت دوسرے آفیسرز نے اشفاق احمدخان کی اصلاحات اورخدمات بارے اظہارخیال کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔نیک نام غلام محمودڈوگرکے کام کرنے کاانداز دیکھ کرمعلوم ہوگیا،وہ اپنے پیشرو سی سی پی اوسے قطعی مختلف،منفرداورممتازہیں۔عزت دار وہ ہوتا ہے جودوسروں کوعزے دے اورغلام محمودڈوگر دوسروں کوعزت دینے کے معاملے میں بالکل بھی بخیل نہیں۔غلام محمودڈوگر نے لاہورمیں سالہاسال سے سرگرم قبضہ مافیا پرکاری ضرب لگائی اوران کی کمرتوڑدی ہے لیکن انہیں قبضہ گروپ والی فہرست پرنظرثانی کرنا ہوگی کیونکہ اس میں کچھ نام بدنیتی کی بنیادپرسے شامل کئے گئے ہیں۔ لاہور کے سابقہ اورمتنازعہ ترین سی سی پی اوعمر شیخ نے اپنی تقرری کے دوران چار ماہ میں ہرکام اپنے نام نہاد فارمولے کے تحت کیا جس سے کوئی باشعور متفق نہیں ہوسکتا لہٰذاء اس نے محض وزیراعظم کوگمراہ کرنے کیلئے لاہورمیں جو ایس ایچ اوزبلیک لسٹ کئے تھے اس فہرست کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہے، فاروق اصغر اعوان،عمران قمرپڈانہ اورمنورڈوگر سمیت ان ایس ایچ اوز سے کام لیاجائے۔لاہورپولیس کے پاس تجربہ کار اورنڈرایس ایچ او فاروق اصغر اعوان کاکوئی متبادل نہیں۔
تھانہ کلچر بدلنا ہے تواس کیلئے سائلین کوبھی اپنارویہ تبدیل کرنا ہوگا،شہری ایک دوسرے کیخلاف تھانوں میں بوگس اوربے بنیاد درخواست دینے کامجرمانہ اورمنافقانہ سلسلہ ختم کردیں۔دوسرے محکموں کی طرح پولیس میں بھی رشوت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن زیادہ تر واقعات میں شہری اپنا “ڈپریشن” دورکرنے کیلئے خود” کرپشن “کاراستہ ہموار کرتے ہیں اورایک دوسرے کوپریشان کرنے کیلئے تھانہ کلچر کاسہارالیاجاتاہے۔ شہریوں کے مابین مختلف تنازعات کاواحدحل مقدمات نہیں،اگرتفتیشی فریقین کے درمیان مصالحت اور مفاہمت کیلئے اپناتعمیری کرداراداکرناشروع کردیں تواس مثبت “اقدام” سے جہاں “انتقام “کادروازہ بندہوگاوہاں پولیس سمیت عدالت پربھی مقدمات کے بوجھ میں خاطرخواہ کمی آئے گی۔عجلت میں مجرمانہ غفلت کاامکان بڑھ جاتا ہے لہٰذاء تھانوں میں زیادہ تر بوگس مقدمات درج ہورہے ہیں۔ایف آئی آر کوفرسٹ انفارمیشن نہیں بلکہ فرسٹ انوسٹی گیشن رپورٹ بناناہوگا۔کوئی ایس ایچ او”سچائی تک رسائی” یقینی بنائے بغیر مقدمات درج نہ کرے۔معاشرے میں امن وآشتی کیلئے مقدمات کابروقت نہیں سوفیصد درست اندارج زیادہ اہم ہے۔مقدمات سے” جھوٹ” نکالے بغیرپولیس کلچرسے” گھوس” نہیں نکلے گی،گھوڑا “گھاس” سے دوستی کرے گاتوبھوکامرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

7 + 6 =