آہ سینیٹر مشاہداللہ خان

نفیر قلم
محمد راحیل معاویہ

صبح آنکھ کھلتے ہی جس خبر پر نظر پڑی اس نے اوسان خطا کردیے، ایک دم چونک اٹھا دل تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا مگر ہونی ہوکر رہتی ہے، تقدید اپنا کام کرنے سے کبھی نہیں رکتی، تقدیر نے سینیٹر مشاہداللہ خان صاحب کے ساتھ بھی وہی کیا جو آج تک اس دنیا میں آنے والے ہر ہر انسان سے کرتی رہی ہے.
زندگی نے مشاہداللہ خان کا ساتھ چھوڑ دیا اور وہ رات کو اسلام آباد میں مختصر علالت کے بعد انتقال کرگئے. اس خبر سے دلی صدمہ پہنچا، سینیٹر مشاہداللہ خان صاحب سے بہت قریبی تعلق تو نہیں تھا اور نا کبھی ملاقات ہوسکی تھی مگر پھر بھی مجھے ان کے شعری اور اردو ادب کے ذوق سے بہت انسیت تھی، وہ اپنے خاص انداز گفتگو سے الفاظ کے چناؤ اور اس کے استعمال کے بہت ماہر تھے. سینیٹ کی تھکا دینے والی بحث و تکرار اور گہری گفتگو دوران جب وہ خطاب کرتے تو ان کے اشعار اور حس مزاح سے سب لوگ بہت مستفید ہوتے. وہ تنقید بھی اس قدر مزاح سے کرتے کے حلیفوں کے ساتھ ساتھ حریف بھی زیر لب مسکرا دیتے. انتہائی زیرک سیاست دان اور تجربہ کار پارلیمنٹرین تھے. ان کے چلے جانے سے یقینا پاکستانی سیاست میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جو بہت مشکل سے پر ہوسکے گا. سینیٹر مشاہداللہ خان صاحب 1953 میں راولپنڈی پیدا ہوئے. ابتدائی تعلیم اسلامیہ ہائی سکول راولپنڈی سے حاصل کی. راولپنڈی گوارڈن کالج سے گریجویشن کیا اور 1997 میں اردو لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی.
1975 سے 1997 تک پی آئی اے میں ٹریفک سپروائزر کے طور پر کام کیا. 1989 میں مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا.
اس کے بعد اپنی موت تک اسی جماعت سے وابستہ رہے ہر مشکل اور آسانی میں اپنی جماعت کا ساتھ دیا اور اسی جماعت میں ہوتے ہوئے ہی دارفانی سے کوچ کرگئے.
ہمارے ملک میں بہت کم ایسے سیاست دان ہیں کہ جو سیاسی نظریات رکھتے ہیں. ان میں سے 1 مشاہداللہ خان صاحب بھی تھے. یہاں اکثر سیاست دانوں کا ہمیشہ نظریہ “نظریہ ضرورت” ہی رہا ہے. آج کسی سیاسی جماعت کا حصہ ہیں تو کل کسی اور کا جب کہ اگر اس پر بھی زوال آگیا ہے تو پرسوں وہ کوئی اور پیا سدھار جاتے ہیں.
مگر سینیٹر مشاہداللہ خان ایسے لوگوں میں سے نہیں تھے. انہوں نے 1989 میں اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تو جلد ہی 1994 میں مسلم لیگ ن کے لیبر ونگ کے جنرل سیکرٹری بنا دیے گئے، 1999 تک انہوں نے اس عہدے پر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں.
2000 سے 2001 تک مسلم لیگ ن کے چیف کوارڈینیٹر رہے. 2001 سے 2002 تک مسلم لیگ ن کے سیکرٹری اطلاعات کے طور پر کام کیا.
2002 سے اب تک وہ مسلم لیگ ن کے سینئر وائس پریزیڈنٹ کے طور پر کام کرتے رہے. 1999 کے مارشل لاء میں احتجاج کرتے ہوئے کراچی ریگل چوک سے گرفتار کیے گئے اور انہیں سخت تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا.
2009 سے اب تک مسلسل پاکستان مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے سینیٹر منتخب ہوتے رہے. 2015 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں وفاقی کابینہ کا حصہ بنے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے چیئرمین بنائے گئے. اس کے علاوہ وہ وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی بھی رہے. نواز شریف صاحب کی نااہلی کے فیصلے کے بعد انہیں شاہد خاقان عباسی صاحب کی کابینہ میں کام کرنے کا بھی موقع ملا. اب مسلم لیگ ن کے دور اپوزیشن میں بھی وہ پاکستان کے ایوان بالا کا حصہ تھے جہاں وہ پارٹی کا بھرپور دفاع کیا کرتے تھے. اپنے مخصوص انداز تقریر و تنقید سے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے تھے.
میں نے ایک دفعہ ملاقات کے لیے درخواست کی تو جواب دیا کہ میں تو کہیں آنے جانے سے رہا ہاں البتہ تم کبھی اسلام آباد آؤ تو ضرور ملتے ہیں مگر بدقسمتی سے میں پچھلے دو سال اسلام آباد نہیں جاسکا اور ہماری ملاقات بھی نا ہوسکی.
مگر جب بھی رہنمائی چاہی ہمیشہ محبت کا مظاہرہ کیا، جب بھی کوئی بات پوچھی بروقت اور تسلی بخش جواب ملا،
جب بھی کوئی کالم سینڈ کیا ہمیشہ حوصلہ افزائی کی..

آہ سینیٹر مشاہداللہ خان صاحب
اناللہ واناالیہ راجعون
اللہ پاک آپ کی قبر حشر کی تمام منازل آسان فرمائے..

محمد راحیل معاویہ نارووال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

5 + 2 =