مہکار بن جاٶ

تازہ غزل
ڈاکٹر مقصود جعفری
نظامِ زر کو کر دو دفن اور تیّار ہو جاؤ
نکل کر اب گھروں سے بر سرِ پیکار ہو جاؤ
کہاں تک اِن لُٹیروں کی قیادت پر کریں تکیہ
طلسمِ زر کو توڑو دُشمنِ زر دار ہو جاؤ
تمہارا عکس ماہِ نیم شب میں ضوفشاں ہو گا
کسی کی چشمِ پُر نم کے اگر شہکار ہو جاؤ
کوئی ناصح بنا ہے اور کوئی مفتئ دوراں
اگر انسان بننا ہے تو پھر میخوار ہو جاؤ

کوئی تو بُت شکن اُٹھّے بتانِ زور و زر توڑے
بھٹکتے قافلے کے قافلہ سالار ہو جاٶ
بنو خارِ مغیلاں دُشمنِ انسان کی خاطر
براۓ خستگاں پھولوں کی تم مہکار بن جاؤ
یقیں ہے جعفری مجھ کو طلوعِ صبحِ خنداں پر
پسِ دیوارِ زنداں سایہء دیوار ہو جاؤ
۳ مارچ ۲۰۲۱
اسلام آباد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

2 + 3 =