مطلبی ہے

ہے مطلب سے بھری دنیا فسانہ مطلبی ہے
اجی بچ کے یہاں رہنا زمانہ مطلبی ہے

وہاں پر عشق کی دنیا مگر کیسے بسے گی
جہاں معشوق ہر جائی دیوانہ مطلبی ہے

کہ اتنا مطلبی ہے وہ زمانہ جانتا ہے
کہ اس کی سوچ کے دھارے نشانہ مطلبی ہے

روایت ہرجگہ دیکھو یہ کیسی چل پڑی کہ
روابط مطلبی ہیں دوستانہ مطلبی ہے

جہاں پر جسم نوچے جا رہے ہیں روز و شب میں
بشر خوردہ ہیں سب واں پیر خانہ مطلبی ہے

کہیں احساس کی صورت نظر آئے مگر کیوں
زباں پر جھومتا جب کے ترانہ مطلبی ہے

بنا کر دوست مجھ کو لوٹنے والے اے زاہد
ترے الفاظ جھوٹے ہیں بہانہ مطلبی ہے

❤️❤️❤️❤️❤️❤️
زاہد علی اداس ایڈووکیٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

9 + 9 =