حیرت کدہ۔

کالم۔دیدہ دل.

کالم نویس۔ ڈاکٹر شکیل کاسیروی

مری پاکستان ۔

انسانی زندگی کی کئ جہتیں ہیں، نا سمجھ آنے والی مخلوق کردار کی بلندی کو چھوے تو ہمالہ کو بھی مات دے دے۔پستی میں گرے تو تحت الثری سے بھی نیچے چلی جاے۔ آج صبح ایک کباڑیہ گھر گھر گھوم کر کباڑ یا پرانی اشیا جمع کر رہا تھا میرے پاس سے باہیک لیکر گزرا، تو پوچھا کہ کوی پرانی اشیا بیکار ہیں تو دے دیں، میں نے مسز سے پوچھا کہنے لگی کچھ چھت ہر پڑی ہیں لا دیں، وہ اس سے بھاو تاو کرنے لگی، وہ بولا، لوہا 35 روپے اور پلاسٹک 20 روپے۔ خیر 40 اور 25 پر معاملات طے پا گے۔ آپس کی بات ہے مجھے کبھی بھی کباڑیوں سے بھاو تاو کرنا اچھا نہیں لگا کہ اچھی خاصی اشیا لیکر وہ سو دو سو روپیہ پکڑا دیتے ہیں کئ بار دل کرتا یہ بھی انکو واپس کر دیا جاے، جو بات مجھے پسند ہے وہ ہے ان سے گفتگو، اسکی وجہ انکا جگہ جگہ گھومنا اور بھانت بھانت کے لوگوں سے ملنا اور نت نییے تجربات ہونا، میں نے اس سے گپ شپ کرتے ہوے بتایا کہ میری ایک نایاب تاریخی کتاب مری سے متعلقہ کباڑ میں چلی گئ تھی جسکا آج تک افسوس ہے کیونکہ وہ اب ملنا بہت مشکل ہے، اس ہر اس نے ایک قصہ شیر کیا کہ ایک بار اسی طرح ردی میں کسی باجی نے اپنی میاں کی قیمتی اسناد مجھے دے دیں جسکا، علم اسکے میاں کو بعد میں ہوا وہ بہت سٹپٹایا اور چونکہ میرا اس علاقے میں آنا جانا تھا تو اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور بولا کہ اس ردی میں میرے قیمتی پیپر چلے گیے ہیں میں نے اسے بتایا صاحب جی میں نے وہ آگے بیچ دیے تھے وہ بولا مجھے وہاں لے چلو انکے پاس گیے اس شخص نے بولا میں تو آگے دے بیٹھا ہم اگلے بندے کے ہاس گیے لیکن وہ ہیپر دوبارہ نہ مل سکے، اس نے ایک قصہ اور سنایا کہنے لگا کہ ایک بار مری کاٹھ کباڑ کے سلسلے میں جانا ہوا وہاں میرے آواز لگانے ہر ایک کوٹھی سے ایک بندہ باہر نکلا اور بولا میرے پاس من کے قریب پرانا لوہا ہے لو گے میں بولا میرا کاروبارہی یہی ہے جی لوں گا۔ اچھا آپکو بتاتا چلوں کہ میں نے اسے اپنے گھر کے قریب ایک کباڑیہ کا قصہ سنایا جو اس نے مجھے سنایا تھا کہ میں نے اہنا پورا مکان کا لنٹر کاٹھ کباڑ کے دوران حاصل کردہ سریے سے بنایا ہے، اسکے جواب میں اس کباڑیے نے یہ کہانی سنائی کے وہ ایک من لوہا میں نے تولا۔اسی دوران ایک اور شخص آگیا اور مجھ سے پوچھا یہ لوہا تم نے کہاں سے لیا میں نے بولا یہ بھای صاحب ساتھ کھڑے ہیں ان سے۔وہ بولا یہ گھر تو میرا اہے اور یہ تم نے چوری کیا۔وہ کہنے لگا پہلے تو میں حواس باختہ ہو گیا، لیکن پھر اوسان بحال کر لیے کیونکہ وہ شخص ساتھ کھڑا، تھا جس نے بیچا تھا، میں نے اسے مخاطب کیا تو وہ شخص صاف مکر گیا کہ میں نے نہیں بیچا۔اور مجھے دھمکی دی کہ تمہیں پولیس کے حوالے کریں گے وہ کہنے لگا میں ڈٹ گیا کہ لے چلو دونوں مجھے قریبی پولیس چوکی لے گیے، پولیس چوکی پر اور لوگ بھی موجود تھے، پہلے ان دونوں کی بات سنی گئی پھر مجھ سے معاملہ پوچھا میں نے جو سچ سچ تھا بتایا تو وہیں پر ایک دو اللہ کے بندے میرے حق میں بولے کہ اسکا کیا قصور ہے یہ تو پھیری والا ہے اور جس سے خریدا، وہ بندہ ساتھ ہے، اب انکاری یو گیا ہے، پولیس والوں نے دونوں سے مزید پوچھ تاچھ کی تو ہتہ چلا دونوں اسی کوٹھی کے ملازم ہیں مالک کہیں باہر ہے سال میں ایک دو بار آتا ہے۔ان لوگوں کا، طریقہ واردات یہ ہے کہ ایک بندہ بیچتا، دوسرا اوپر سے آکر بلیک میل کرتا، اور پھیری والوں سے ڈرا، دھمکا کر ہزار بارہ سو اینٹھ لیتے ہیں اور پھر بھگا دیتے ہیں کہ آہندہ ادھر قدم نہ رکھنا، وہ بیچارے پولیس کے ڈر سے پیسے دہتے ہیں جان چھڑاتے ہیں، ہم پھر کہتے ہیں یہ زلزلے کیوں آتے ہیں، حرام خوری کی لت نے لوگوں کو اتنا بے حس کر دیا کہ حرام حلال کی تمیز ختم ہو گئ ہے، اس بات کو چالاکی اور ذہانت سمجھتے ہیں۔ جبکہ یہ کھلے عام دھوکہ دہی ہے،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

1 + 6 =