غزل


ڈاکٹر مقصود جعفری

ایک مدّت سے ہیں زیرِ آسماں بیٹھے ہوۓ
خانۂ برباد میں بے خانماں بیٹھے ہوۓ
کار واں کی کوئی منزل ہے نہ رہبر ہے کوئی
منتظررہبر کے ہیں اب کارواں بیٹھے ہوۓ
بات کرنے پر یہاں تو کاٹ دیتے زباں
بزمِ شاہی میں سبھی ہیں بے زباں بیٹھے ہوۓ
داستانِ دردِ دل جن کو سنائی شوق سے
کیا خبر تھی وہ بھی ہوں گے بد گماں بیٹھے ہوۓ
میرے ساتھی بھی شریکِ سازشِ دشمن ہیں اب
کیسے کیسے ہیں ہمارے مہرباں بیٹھے ہوۓ
صحبتِ زاغ و زغن کیا راس آئی ہے اِنہیں
محوِ حیرت ہوں کہ شاہیں ہیں کہاں بیٹھے ہوۓ
جعفری اُٹّھو یہاں سے اب سُوۓ مقتل چلو
کیا کرو گے بے ضمیروں میں یہاں بیٹھے ہوۓ

غزل
جن چراغوں کو لہو دے کے جلایا جاۓ
کیا یہ ممکن ہے اُنہیں صبح بجھایا
جاۓ
شوق سے جو بھی سزا دینی ہے مجھ کو دے دو
میں نے کیا جرم کیا یہ تو بتایا جاۓ
جس کو سن کر میری آنکھوں میں نمی آ جاۓ
گیت ایسا نہ کوئی مجھ کو سنایا جاۓ
پیلِ بد مست کی صورت جو نہ روندیں ہم کو
مسندِوقت پہ ایسوں کو بٹھایا جاۓ
گھونسلے اِس پہ پرندوں نے بنا رکھّے ہیں
باغباں ایسے شجر کو نہ گرایا جاۓ
لب کشائی کی سزا دارو رسن ہے پھر بھی
بزمِ شاہی میں سوالوں کو اُٹھایا جاۓ
جعفری خواہشیں سونےنہیں دیتیں شب بھر
تپھکیاں دے کے اِنہیں کیسے سلایا جاۓ
۱۵ جنوری ۲۰۱۰
نیویارک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

5 + 6 =