کوئی تو احسن اقبال ہو، اس عہد بدلحاظ میں

نفیر قلم
محمد راحیل معاویہ

کوئی وقت تھا کہ “سیاست” شرافت اور خدمت کا دوسرا نام تھا، لوگ اپنے ساری جمع پونجی لگا کر بھی اپنے ڈیرے آباد رکھتے تھے، کسی وقت تو ڈیرہ داری کی روایت کو جاری رکھنے کے لیے قرض اٹھانے کی نوبت آجاتی تھی، فقط اپنا نام بنانے اور اخلاقی برتری جتانے کی دوڑ لگی رہتی تھی. وقت نے پلٹا کھایا تو جہاں بہت کچھ بدل گیا وہیں رفتہ رفتہ سیاسی روایات بھی دم توڑتی چلی گئیں، سیاست میں کاروباری افراد کا رجحان بڑھ گیا اور سیاست محض ایک کاروبار بن گئی،. خوشامدی افراد کو دربار میں عزت دی جانے لگی اور یہ خوشامدی ٹولہ دوسروں کی کردار کشی کرنے، دبے لفظوں میں گالیاں نکالنے اور الزامات لگا کر اپنا قد اونچا کرنے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر مصروف رہتے ہیں. آج ملکی سیاست میں بدتمیزی، بدتہذیبی، عدم برداشت، گالم گلوچ، الزام تراشی اور مخالفین کی کردار کشی کرنے کی دوڑ میں ہر کوئی آگے نکلنے کی کوشش میں نظر آتا ہے.
2014 میں عمران خان صاحب نے نئے انداز سے اپوزیشن کا کردار نبھانے کی روایت ڈالی، لاہور سے نونہالان انقلاب کا عظیم جم غفیر لے کر اسلام آباد کو نکلے اور وہاں 126 دن ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا، بدقسمتی سے اس دوران نفرت کی سیاست پروان چڑھی اور سیاسی اختلافات محض سیاسی نا رہے بلکہ لوگ اپنے لیڈر کے علاوہ دوسرے کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھنا شروع ہوگئے، سیاسی مخالفین کو گھیراؤ کرنا، ان کے خلاف نعرے بازی کرنا، انڈے ٹماٹر، سیاہی اور جوتے اچھالنے کے واقعات میں اضافہ ہوا، حرمین شرمین جیسے مقدس مقامات پر بھی “گو نواز گو” کے نعرے سنائی دیے. سوشل میڈیا کا سہارا لے کر سیاسی مخالفین کی کردار کشی کی جاتی رہی. بعد میں اس دوڑ میں دوسری جماعتیں بھی پیچھیں نہیں رہیں، اب تو ہر روز ایک دوسرے کے خلاف گندے، غلیظ اور گالیوں پر مشتمل ٹرینڈ چلائے جاتے ہیں، ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو کسی دوسرے سے دو چار گالیاں زیادہ ہی نکال لے. سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کی اخلاقی تربیت کرنے کی بجائے ان میں نفرت کا بیج بو رہی ہیں. ان کے قلوب، اذہان اور نظر کو اس قدر محدود کیا جارہا ہے کہ انہیں اپنے لیڈر کے سوا دوسرا ہر برائی اور فساد کی جڑ نظر آتا ہے. اس افسوسناک رویہ میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے. ابھی کچھ دنوں پہلے پارلیمنٹ لاجز میں پریس کانفرنس کرتے لیگی رہنماؤں پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان نے ہلہ بول دیا، مریم اورنگ زیب کا ڈوپٹہ کھینچا، مصدق ملک پر تھپر برسائے جبکہ احسن اقبال صاحب پر جوتا اچھال دیا گیا.
سیاسی اختلافات فقط فکری اختلافات ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں سیاسی کارکنان کی فکری استعداد بالکل زیرو ہے ان کو پرتشدد سوچ کا مالک بنایا جارہا ہے جوکہ افسوس ناک ہے.
پارلیمنٹ لاجز میں لیگی رہنماؤں پر حملہ کرنے والوں کو کچھ ہی دیر بعد وزیراعظم عمران خان صاحب کے مشیر خاص و ترجمان جناب ڈاکٹر شہباز گل صاحب تشریف لائے اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی.
چاہئے تو یہ تھا کہ اس پرتشدد کاروائی کی ساسی وابستگی سے بالاتر ہوکر مذمت کی جاتی، ان کے خلاف کاروائی کی جاتی مگر افسوس کہ ان کہ اس غیر اخلاقی حرکت اور پارلیمنٹ کی بے توقیری کرنے پر کسی قسم کی کوئی کاروائی نا کی گئی.
اس وقعہ کے چند دنوں بعد لاہور ہائیکورٹ میں ڈاکٹر شہباز گل صاحب پر انڈے برسائے گئے اور منہ پر سیاہی پھینک دی گئی…
چند دن پہلے ایسی ہی حرکت کرنے والوں کو خود جاکر شاباشی نا دیتے تو اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو کھل کر برا کہہ سکتے مگر افسوس کہ وہ دوسروں کے ساتھ ہونے والے واقعے پر خوشی مناتے جبکہ اپنے ساتھ ہونے والے واقعے پر چیختے چلاتے نظر آئے… جس دن احسن اقبال صاحب پر اسلام آباد میں جوتا اچھالا گیا اسی دن نارووال کے کئی لیگی کارکنان نے پی ٹی آئی سے اس کا بدلہ لینے کا فیصلہ کیا، احسن اقبال صاحب پر اچھالے گئے جوتے کے جواب میں کسی حکومتی شخص پر جوتا اچھالنے کا اظہار کیا گیا مگر احسن اقبال صاحب نے اپنے کارکنان کو ایسا عمل کرنے سے سختی سے منع کردیا. 2018 کے الیکشن میں بھی احسن اقبال صاحب کو ایسی مذموم حرکت کا نشانہ بنایا گیا تھا بلکہ انہیں نارووال میں مسیحی برادری سے خطاب کرکے امن، محبت، بھائی چارے، رواداری اور امن پسندی کا پیغام دے کر اسٹیج سے اترتے ہی نفرت کی گولی کا بھی نشانہ بنایا گیا تھا. اس وقت میں خود احسن اقبال صاحب کی بالکل بائیں جانب ساتھ چل رہا تھا، اگر وہ گولی خوش قستی سے واسکٹ کی جیب کو آئے بازو میں نا لگتی تو خدانخواستہ بڑا نقصان کرسکتی تھی مگر اللہ کا شکر ہے کہ اللہ پاک نے انہیں دوسری زندگی عطاء کی.
احسن اقبال صاحب نے شہباز گل پر کیے جانے والے حملے کی کھل کی مذمت کی جو کہ لائق داد ہے. مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ نارووال میں ایک سال پہلے تک مسلم لیگ ن کی کوئی سوشل میڈیا ٹیم نہیں تھی، جہاں ہر ایم پی اے اور ایم این اے اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیموں سے مستفید ہورہے تھے؛ وہیں احسن اقبال صاحب اس سے محروم تھے، ان کے پاس ہم دوست اکٹھے ہوکر حاضر ہوئے اور سوشل میڈیا ٹیم بنانے کی تجویز پیش کی لیکن انہوں نے اجلاقیات کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑنے، مخالفین کی کردار کشی سے گزیر کرنے، گالم گلوچ سے بالکل پرھیز کرنے اور صرف مثبت انداز میں کام کرنے کی شرط پر کام کرنے کی اجازت دی.
آج ملکی سیاست میں ہر سو پھیلتی ہوئی نفرت اس بات کی متقاضی ہے کہ کاش اس عہد بدلحاظ میں ہر کوئی احسن اقبال جیسا ہو جو مخالفین کی ڈٹ کر مخالفت کرے مگر اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نا چھوڑے، جو اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے سیاسی مخالفین کی کردار کشی نا کروائے، جو دوسرے لوگوں جو گالیاں نکالنے کی ترغیب نا دے، جو کسی پر جوتا، سیاہی، ٹماٹر یا انڈے پھینکنے کا درس نا دے، جو مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی بات کرے، جو سیاسی رواداری کو فروغ دے، جو دلیل اور شائستگی سے اختلاف کرے، جو منطقی انداز میں اپنا موقف پیش کرے، کاش اس بڑھتی ہوئی نفرت کے دور میں ہر سیاست دان احسن اقبال صاحب سے کچھ سیکھے…..

محمد راحیل معاویہ نارووال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

3 + 8 =