انٹرنیٹ ہیکنگ سے بچائو کیسے ممکن ہے ۔۔؟

روزمرہ کے مشاغل سے فارغ ہوکر گزشتہ روز فیس بک اکائونٹ لاگ ان کیا تو حسب روایت میسنجر پر بہت سارے دوستوں کے پیغامات آئے ہوئے تھے ۔ایک سینئر پولیس آفیسر کے فیس بک اکائونٹ سے ایک ہزار ڈالر کی رقم بطور ادھار مانگی گئی کہ وہ بیرون ملک ہیں اور ان کا اے ٹی ایم کام نہیں کررہا ،کچھ بل ادا کرنے ہیں اس لیے فوری رقم کی ضرورت ہے۔میں نے اکائونٹ نمبر مانگا تو بینک اکائونٹ کی بجائے آن لائن رقم منگوانے کے روایتی طریقہ کار سے میں سمجھ گیا کہ اکائونٹ ہیک ہوچکا ہے۔ فوری فیس بک کا سکرین شاٹ لیا اورتصدیق کیلئے مذکورہ پولیس آفیسر کو واٹس ایپ کردیا ۔انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان میں ہی ہیں اور انکا اکائونٹ ہیک ہوچکا ہے۔انہیں تسلی دی اور فوری انکا رابطہ پیٹریاٹک کلب کے ممبر رافع بلوچ سے کروایا۔
سنگل پوائنٹ ایجنڈا’’پاکستان کی تعمیروترقی اور خوشحالی و استحکام کیلئے ہم ایک ہیں‘‘ پر قائم ہونے والے اس منفرد اور واحد آفیسر کلب میں سنئیرآرمی افسران، بیوروکریٹ،ججز،ٹاپ میڈیا پرسنزاور دیگر اداروں سے سنئیر افسران کو نمائندگی دی گئی ہے۔’’ تخریب نہیں تعمیر پاکستان ‘‘ کے ماٹو پر چلتے ہوئے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد ممبران وطن عزیز پاکستان کی فلاح و بہبوداور ملکی مسائل کے حل کیلئے ایک ہوتے ہیں۔ ’’پیٹریاٹک کلب ‘‘ کے قیام سے اداروں کے درمیان فاصلے کم ہوئے ہیں اور ملکی مفاد میں تعاون کا جذبہ بیدار ہوا ہے۔رافع بلوچ نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے جلد ہی پولیس آفیسر کا فیس بک اکائونٹ ریکور کرلیا۔آئی ٹی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق کیسز کو پیٹریاٹک کلب کی آئی ٹی ٹیم ورلڈ ٹاپ کلاس ایتھیکل ہیکر رافع بلوچ اور اقراء خالد کی سربراہی میں فوری طور پر حل کرتی ہے۔رافع بلوچ کا شمار دنیا کے ٹاپ ایتھیکل ہیکرز میں ہوتا ہے ۔وہ گوگل ،مائیکرو سافٹ اور پے پال سمیت متعدد بین الااقوامی اداروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔
کچھ تخریب کارعناصر مختلف مقاصد کیلئے وائرس بناتے ہیں اور پھر مختلف طریقوں سے نہ صرف لوگوں کے کمپیوٹراورموبائلز کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ آپ کے سسٹمز اور اکائونٹ میں موجود ڈیٹا تک Access کرکے آپکے اہم راز اور کاروباری اکائونٹس تک چوری کر لیتے ہیں۔عام طور پر تخریب کار معلومات تک رسائی کیلئے دو حربے استعمال کرتے ہیں ،پہلاآپ کو مختلف انعامی سکیموں کا جھانسہ دیتے ہیں اوردوسراسب سے مقبول عام طریقہ یہ ہے کہ مختلف فحش ویڈیو’’ شو‘‘ کرکے صارفین کو ویڈیو دیکھنے کالالچ دیا جاتا ہے۔مکمل ویڈیو دیکھنے کے خواہشمند رسائی حاصل کرنے کیلئے جب لنک پر کلک کرتے ہیں تو آپ سے ٹرمز اینڈ کنڈیشنزقبول کرنے اور آپکی سیٹنگ تبدیل کرنے کی اجازت طلب کی جاتی ہے تو کچھ لوگ اپنی معصومیت اور اکسائٹمنٹ میں ٹرمز اینڈ کنڈیشنز کو بنا سوچے سمجھے ’’ اوکے‘‘ کر دیتے ہیں جبکہ حقیقت میں وائرس آپکو ویڈیو تک رسائی دینے کے بہانے آپکے سسٹم اور اکائونٹس تک رسائی کیلئے آپ سے پرمیشن لیتاہے۔اسی طرح آج کل فیس بک پر مختلف ایپس نظر آتی ہیں جن میں ہماری دلچسپی کا سامان موجود ہوتا ہے ۔ جیسے کلک کریں کہ آپکی شکل کس ایکٹر،سیاستدان یا پرسنیلٹی سے ملتی ہے۔آپ بچپن میں کیسے دکھائی دیتے تھے یا جوانی اور بڑھاپے میں کیسے لگیں گے۔آپ شیو یا داڑھی کے ساتھ کیسے دیکھائی دینگے ۔آپکی پروفائل کو سب سے زیادہ کس نے دیکھا ،آپکا بیسٹ فرینڈ کون ہے۔یہ سب ایپس آپ سے اکائونٹ ایکسس کی اجازت طلب کرتی ہیں۔جب ہم ایک دفعہ وائرس کو (Access Permission)دے دیتے ہیں تو پھر وہ اپنی مرضی سے ایک مخصوص ٹائم کیلئے اکائونٹس کو آٹومیٹکلی چلاتا ہے اور تمام دوستوں کو آپکے اکائونٹ سے مال وئیر اور ہرقسم کے پیغامات بھیج سکتا ہے اور ہماری ٹائم لائن کا بھی آزادانہ استعمال کرسکتا ہے۔ہیکنگ اور وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے اجنبی لوگوں کی جانب سے وصول ہونے والی ای میل،فیس بک اور واٹس ایپ کے ساتھ جڑی ہوئی فائلز کو ڈون لوڈ کرنے سے پرہیز کریں، خاص طور پر .exe, zip, scr, vbs فائلز۔ ان فائلز میں ٹروجن ہارس موجود ہوسکتے ہیں جن کی مدد سے کریکر آپکے کمپیوٹراور موبائل میں داخل ہوسکتا ہے۔  باقاعدگی سے اپنے پاس ورڈز تبدیل کرتے رہیں۔ ہمیشہ موبائل ویریفیکیشن الرٹ کو ON رکھیں تاکہ اگر کوئی آپکے اکائونٹ سے آن لائن ہوتو آپکو الرٹ وصول ہوجائے۔ اگر آپ سفر پر جا رہے ہیں تو اپنے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات کسی وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے استعمال نہ کیجیے ۔موبائل کمپنیاں سکیورٹی کو بہتر بنانے کیلئے وقتاً فوقتاً سافٹ وئیرکو اپڈیٹ کرتی رہتی ہیں ،تاہم چند صارفین سستی یا پھر بے خبری کے باعث ان اپڈیٹس کو انسٹال نہیں کرتے۔ایسے صارفین ہیکرز کیلئے آسان ہدف ہوتے ہیں۔ سافٹ وئیر کو باقاعدگی سے اپڈیٹ کرتے رہنا چاہئے۔ انٹرنیٹ پر کسی غیر معیاری ویب سائٹ سے کوئی سافٹ وئیر ڈائون لوڈ نہ کریں اس عمل سے ہیکر کیلئے آپ کے کمپیوٹر میں داخل ہونے کے دروازے کھل سکتے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

1 + 3 =