استخارہ اور خواب


کتاب کا نام: قلب بینا
تحریر: ڈاکٹر شکیل کاسیروی، مری پاکستان۔

آج میں آپ کے ساتھ ایک کتاب منطق فقیری جس کو محترمہ اسکوارڈن لیڈر (ر)عظمیٰ سیدّ صاحبہ نے لکھا ہے، اسمیں سے ایک واقعہ شئیر کر رہا ہوں، ویسے تو پوری کتاب انتہائی معلوماتی اور زندگی بدل کتاب ہے۔یہ کتاب مائنڈ سائنس اور کوئنٹم فزکس کے پیرائے میں لکھی گئی ہے۔آپ ایک دانہ دیگ کا چیک کیجئے گا آپ کو پوری دیگ کا پتہ چل جاے گا کہ وہ کیسی ہوگی۔ میں اتنی اچھی اور معلوماتی کتاب لکھنے پرمصنفہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سب لکھنے پڑھنے والوں کو تجویز پیش کرتا ہوں کہ اس کتاب کو اپنی لائبریری کا حصہ بنائیں۔
صفحہ نمبر 103-104: زمانہ جاہلیت میں دستور تھا کہ زندگی کے اہم امور کا بذریعہ فال فیصلہ کیا جاتا تھا،جبکہ قُرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق فال کے ذریعے مستقبل کے فیصلے کرنا گناہ کا فعل ہے۔ جبکہ استخارہ کرنے کا عمل مسنون طریقہ کار ہے۔اور یہ ایک محض دعا ہے، رسول اکرمﷺ نے صحابہ کرام کو ہر چھوٹے بڑے کام کرنے سے پہلے اس دعا کو پڑھنے کی تاکید کی اور کہیں بھی کسی اشارے یا کشف کا ذکر کسی مسنون حدیث سے ثابت نہیں ہے،
یاد رہے کہ مسنون طریقہ کار کے مطابق صاحب معاملہ بذات خود استخارہ کی دعا پڑھے۔ یہاں قابل غور نقطہ یہ بھی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی تمام زندگی میں کسی صحابی نے ان سے استخارہ کی درخواست نہیں کی۔ جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسنون طریقہ کا ر کے مطابق صاحب معاملہ ازخود استخارہ کرے۔یہی وجہ ہے کہ استخارہ کی مسنون دعا کےا لفاظ میں بھی متکلم کا صیغہ استعمال کیا گیاہے۔انہوں نے تاکید فرمائی کہ ہر کام سے پہلے استخارہ کر لیا کرو، خواہ کام معمولی نوعیت کا ہی کیوں نہ ہو،یاد رہے کہ دعائے استخارہ، خیر کی حصول کی دعا ہے (اور نعوذباللہ) کوئی غیب کا علم حاصل کرنے کا منتر نہیں۔اور درخواست کنندہ اپنی عرضی از خود پیش کرنے کا مجاز ہے کوئی اسکی جگہ استخارہ نہیں کر سکتا،۔
ایک مسلمان ڈاکٹرنے تجربے سے ثابت کیا ہے کہ دعائے استخارہ سمجھ کر پڑھنے سے انسان کے دماغ کا ”فرنٹل لوپ“ متحرک ہو جاتا ہے اور یہی وہ دماغ کا حصہ ہے جو انسان کو بہترین فیصلہ کرنے کی صلا حیت عطا کرتا ہے۔
اس ضمن میں ایک واقعہ عظمیٰ سیدّ نے ان صفحات میں درج کیا ہے۔
صفحہ نمبر:104-105 میری ایک سہیلی نے قصہ سنایا کہ ایک عورت نے اپنے مرشد سے اپنی بیٹی کی شادی کا استخارہ کروایا۔ مرشد نے انہیں کچھ کلمات پرھنے کو کہا اور ہدایت کی کہ جب بھی کوئی مناسب رشتہ آئے تو بیٹی مذکورہ کلمات کا ورد، مخصوص تعداد میں تین دن تک کر لے اور جو خواب میں نظر آئے وہ آکر بتائے تاکہ خواب کی روشنی میں راہنمائی ہو سکے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔مناسب وقت آنے پر لڑکی نے تاکید شدہ وظیفہ کیااور خواب میں کیلے کا سر سبز شاداب درخت دیکھا۔ ماں نے خواب اپنے مرشد کو سنایا اور مرشد نے تجویز کیا کہ بیٹی نے سبز لہراتا درخت دیکھا ہے جو خیر کی نشانی ہے چناچہ یہ رشتہ باعث رحمت ہو گا۔ مرشد کا حکم کے مطابق لڑکی کی شادی ہو گئی اور اللہ نے اس کو بیٹا عطا کیا لیکن تقریباً اٹھارہ ماہ کے بعد لڑکی کی خاوند کا ایکسیڈنٹ میں وفات پا گیا۔ لڑکی کی والدہ جوان موت کے صدمے اور جوان بیٹی کی بیوگی کے غم سے نڈھال مرشدکے پاس گئیں اور عرض کی کہ آپ کے مطابق میر ی بیٹی کے خواب کا نتیجہ خوشحال مستقبل ہونا چاہیے تھا لیکن محض اٹھارہ ماہ کے بعد وہ بیوہ ہو گئی۔مرشد صاحب کے پاس ان کے ایک دوست بھی بیٹھے ہوئے تھے جن کا پیشہ زراعت تھا۔ انہوں نے جب والدہ کی زبانی بچی کی خواب سنی تو مرشد صاحب سے انتہائی احترام کے ساتھ عرض کیا کہ ٓاپکے عطا کردہ وظیفہ سے بچی نے خواب میں اشارہ دیکھا مگر آپ نے لڑکی کے خواب میں دیئے گئے اشارے کی غلط ترجمانی کی۔آپ کے روحانی علم کے مطابق سبزہ دیکھنا نیک شگون ہوگا لیکن میرے حاصل کردہ دنیاوی علم کے مطابق، کیلے کے پودے کی عمر کم و بیش ڈیڑھ سال سے دو سال کے درمیان ہوتی ہے اور وہ سوکھنے سے پہلے ایک نومولود کیلے کے پودے کو جنم دیتا ہے جو بعد میں کیلے کا درخت بن جاتا ہے۔یہی کچھ اس بچی کے ساتھ ہوا اور محض پھل دار درختوں کے متعلق آپ کی کم علمی اس بچی کے لئے نقصان کا باعث بنی۔
اس قصہ کو قلم بند کرنے کا مقصد یہ ہے اگر محض اتفاقیہ طور پر خواب میں کوئی اشارہ مل بھی جائے تو عین ممکن ہے کہ انسان اپنے محدود علم کی وجہ سے اس اشارے کو سمجھنے سے قاصر رہے۔دعائے استخارہ پڑھنے کے بعد انسان کو کسی اشارے یا خواب کا متمنی نہیں ہونا چاہئے بلکہ علم و عقل کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے اور اس پر مطمئین ہو جانا چاہئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

2 + 7 =