یومِ مادر پہ کہی گئی ایک نظم

ماں
❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ہر آن ہیں قدموں تلے جنت کے نظارے
اے ماں تری آغوش میں خوش رنگ ستارے

دنیا کی سبھی رونقیں ہیں تیرے ہی دم سے
بن تیرے کہیں پل بھی کوئی کیسے گزارے

جینے کا سلیقہ دے تدبر کی خبر بھی
ماں سوچ کے دھاروں کو تفکر سے نکھارے

اوروں کی نظر میں کوئی اچھا ہے برا ہے
پر ماں کی نگاہوں میں ہیں بچے سبھی پیارے

جب سے مری ماں نے یہ کہا جیتے رہو تم
تب سے مرے آنگن میں سجے پھول کے پارے

جس شخص کی ماں ہاتھ اٹھائے ہو دعا کو
دنیا میں کہیں پر بھی بھلا کیسے وہ ہارے

ہم خاک نشیں ضم ہیں گناہوں کے بھنور میں
اک ماں کے توسط سے ہی رحمت کے یہ دھارے

پردیس میں جا بیٹھی ہے وہ ہستی ء داماں
اب کون بھلا عمرِ رواں ہم پہ نثارے

اک ماں ہی سنبھالے تھی ہراک موڑ پہ زاہد
ماں جیسا کوئی اب کے ہمیں کون سنوارے

❤️❤️❤️❤️❤️❤️

زاہد علی اداس ایڈووکیٹ
تحصیل شکرگڑھ ضلع نارووال
پنجاب , پاکستان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

2 + 2 =