الگ وطن کا مطالبہ


تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی
انگریز حکمرانوں نے قریباً سو سال تک ہندوستان کے باشندوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھا ہے۔ پورے برصغیر پرحکومت کر کے اپنے قوانین کو نافذ العمل کیا اور ان پر اپنا راج جمالیا۔ویسے تو اب بھی ملک پاکستان میں انہی کے بنائے ہوئے اکثر قوانین چل رہے ہیں……کہتے ہیں کہ وہ دور غلامی کا بدترین دور تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ 1930ء میں الہ آباد کے ایک اجلاس میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے اپنا صدارتی خطبہ بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک الگ آزاد وطن کا تصور پیش کیا۔ ان کے خیال کے مطابق برصغیر کے جن صوبوں یا علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی،جیسے پنجاب،سندھ،سرحد اور بلوچستان وغیرہ ان علاقوں کو آپس میں ملا کر ایک علیحدہ اور خودمختار ملک بنا دیا جائے۔تو خیر انگریزوں کے زیر سایہ غلامی کا دور گزرتا رہا حتی کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کی وفات کے بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ نے تصور پاکستان کی تکمیل کا خواب سچ کرنے کے لیے اپنے قدم مضبوط کیے اور یہ قافلہ چلتا رہا کارواں بنتا رہا…..۔
قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ اپنی اکثر تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ مسلمان اور ہندو ایک ہی قوم نہیں ہے بلکہ ان کا جینا مرنا،چلنا پھرنا اور رسم و رواج سب کچھ مختلف ہے۔ یہ اصل میں نظریہ اسلام ہے اور وہ اخوت، مساوات، عدل و انصاف، انسانیت سے ہمدردی، اتحاد و اتفاق ہر وقت، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ نظریہ پاکستان سے مکمل ضابطہ حیات کا تصور عملی طور پر ابھرتا ہے، کہ جس کو اپنا کر اپنی دنیا و آخرت کو سنوارا جا سکتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے یہ ایک بہت بڑی اور اہم تحریک تھی، جسے بعض اپنوں اور مخالفین نے بھی ہنسی مذاق اور فضول تحریک خیال کیا۔اس تحریک کو روکنے کے لیے برصغیر میں ہر قسم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کیا گیا…..لیکن تمام کے تمام برصغیر کے مسلمانوں کے عزم مصمم کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور ناکام و نامراد ٹھہرے۔
آخر کار اس تحریک کی قراداد 23مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں  مسلمانوں کی کثیر تعداد جمع تھی اس وقت ہوئی۔یہ بیٹھک آل انڈیا مسلم لیگ کے زیراہتمام تین روزہ سالانہ اجلاس تھا کے اختتام پر ”قرار داد پاکستان” کے نام سے قرارداد پیش کی گئی۔اس قرار داد کے چند ہی برس بعد یعنی سات سال کے مختصر عرصہ میں مسلمان اپنا الگ وطن کا مطالبہ منوانے میں کامیاب و کامران ہو گئے۔(الحمد للہ) اس عظیم”قرارداد پاکستان“کے دن پر ایک تاریخی نظم پڑھی جاتی ہے جیسے قارئین کی نظر کرتا ہوں:
یوں دلائی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائداعظمؒ تیرا احسان ہے احسان
دیکھا تھا جو اقبالؒ نے اک خواب سہانا
اس خواب کو اک روز حقیقت ہے بنانا
ہر چال سے چاہا تجھے دشمن نے ہرانا
مارا تو نے وہ داوکہ دشمن بھی گئے مان
لڑنے کا دشمن سے عجب ڈھنگ نکالا
نہ توپ نہ بندوق نہ تلوار نہ بھالا
جناحؒ تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
ایمان والے چل پڑے سن کر تیرا فرمان
اے قائداعظمؒ تیرا احسان ہے احسان
قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء نے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کو عملی طورپر نافذ کرنے کے لیے دن رات کوششیں کر کے ہمیں یہ ٹکڑا ”اسلامی جمہوریہ پاکستان”اور ایک عظیم نعمت خداوندی سے سرفراز فرمایا ہے۔وہ اس لیے کہ مسلمان اس الگ وطن میں دین اسلام کے مطابق زندگی گزاریں۔ جس میں کسی قسم کی ان کو اسلام کے مطابق عمل کرنے میں پریشانی یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، لیکن مقام افسوس! کہ جب سے اور جس مقصد کے لیے پیارا ملک ”پاکستان” دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا،وہ مقصد ابھی تک عملی تصویر پیش نہ کر سکا……۔ وطن عزیز کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے اسے اسلام کا قلعہ ہونا چاہیے تھا۔ یہاں اسلام کو فوقیت ملنی چاہیے تھی۔یہاں پر قرآن مجید اور حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طور پر دستور ہونا چاہیے تھا۔اس وطن میں ہماری ہمدردیاں آپس میں جسد واحد کی طرح ہونا چاہئیں تھیں لیکن اے شاعر مشرق، اے قائداعظم، اے ہمارے بزرگوں وہ بزرگ کہ جنہوں نے اس جدوجہد کی خاطر اپنی جائیدادوں کو چھوڑ دیا۔اس جدوجہد کی تکمیل میں کتنے ہی داعیان اسلام علماء کرام کو جیلوں میں پابند سلاسل کر دیا گیا اور کتنے ہی مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر کے پھر ان کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے انہیں درختوں پر لٹکا دیا گیا۔ کتنی ہی ماؤں،بہنوں،بیٹیوں کی عفت و عصمت کی دھجیاں اڑادی گئیں…..کیا یہ سب کچھ اس لیے نہیں تھا کہ یہ ارض پاک اسلام کا قلعہ ہو؟
ہم شرمندہ ہیں کہ ابھی تک وطن عزیز میں دین اسلام کو فوقیت نہ دی گئی، بلکہ غیروں کے طورطریقوں کو ہی اپنایا گیا اور رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو اپنا نمونہ و آئیڈیل بنانے سے شرم محسوس کرتے رہے یا ڈرتے رہے۔
الگ وطن کا مطالبہ
تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی
انگریز حکمرانوں نے قریباً سو سال تک ہندوستان کے باشندوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھا ہے۔ پورے برصغیر پرحکومت کر کے اپنے قوانین کو نافذ العمل کیا اور ان پر اپنا راج جمالیا۔ویسے تو اب بھی ملک پاکستان میں انہی کے بنائے ہوئے اکثر قوانین چل رہے ہیں……کہتے ہیں کہ وہ دور غلامی کا بدترین دور تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ 1930ء میں الہ آباد کے ایک اجلاس میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے اپنا صدارتی خطبہ بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے ایک الگ آزاد وطن کا تصور پیش کیا۔ ان کے خیال کے مطابق برصغیر کے جن صوبوں یا علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی،جیسے پنجاب،سندھ،سرحد اور بلوچستان وغیرہ ان علاقوں کو آپس میں ملا کر ایک علیحدہ اور خودمختار ملک بنا دیا جائے۔تو خیر انگریزوں کے زیر سایہ غلامی کا دور گزرتا رہا حتی کہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کی وفات کے بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ نے تصور پاکستان کی تکمیل کا خواب سچ کرنے کے لیے اپنے قدم مضبوط کیے اور یہ قافلہ چلتا رہا کارواں بنتا رہا…..۔
قائد اعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ اپنی اکثر تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ مسلمان اور ہندو ایک ہی قوم نہیں ہے بلکہ ان کا جینا مرنا،چلنا پھرنا اور رسم و رواج سب کچھ مختلف ہے۔ یہ اصل میں نظریہ اسلام ہے اور وہ اخوت، مساوات، عدل و انصاف، انسانیت سے ہمدردی، اتحاد و اتفاق ہر وقت، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ نظریہ پاکستان سے مکمل ضابطہ حیات کا تصور عملی طور پر ابھرتا ہے، کہ جس کو اپنا کر اپنی دنیا و آخرت کو سنوارا جا سکتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے یہ ایک بہت بڑی اور اہم تحریک تھی، جسے بعض اپنوں اور مخالفین نے بھی ہنسی مذاق اور فضول تحریک خیال کیا۔اس تحریک کو روکنے کے لیے برصغیر میں ہر قسم کے ہتھکنڈوں کو استعمال کیا گیا…..لیکن تمام کے تمام برصغیر کے مسلمانوں کے عزم مصمم کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور ناکام و نامراد ٹھہرے۔
آخر کار اس تحریک کی قراداد 23مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں  مسلمانوں کی کثیر تعداد جمع تھی اس وقت ہوئی۔یہ بیٹھک آل انڈیا مسلم لیگ کے زیراہتمام تین روزہ سالانہ اجلاس تھا کے اختتام پر ”قرار داد پاکستان” کے نام سے قرارداد پیش کی گئی۔اس قرار داد کے چند ہی برس بعد یعنی سات سال کے مختصر عرصہ میں مسلمان اپنا الگ وطن کا مطالبہ منوانے میں کامیاب و کامران ہو گئے۔(الحمد للہ) اس عظیم”قرارداد پاکستان“کے دن پر ایک تاریخی نظم پڑھی جاتی ہے جیسے قارئین کی نظر کرتا ہوں:
یوں دلائی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائداعظمؒ تیرا احسان ہے احسان
دیکھا تھا جو اقبالؒ نے اک خواب سہانا
اس خواب کو اک روز حقیقت ہے بنانا
ہر چال سے چاہا تجھے دشمن نے ہرانا
مارا تو نے وہ داوکہ دشمن بھی گئے مان
لڑنے کا دشمن سے عجب ڈھنگ نکالا
نہ توپ نہ بندوق نہ تلوار نہ بھالا
جناحؒ تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
ایمان والے چل پڑے سن کر تیرا فرمان
اے قائداعظمؒ تیرا احسان ہے احسان
قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ اور ان کے رفقاء نے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کو عملی طورپر نافذ کرنے کے لیے دن رات کوششیں کر کے ہمیں یہ ٹکڑا ”اسلامی جمہوریہ پاکستان”اور ایک عظیم نعمت خداوندی سے سرفراز فرمایا ہے۔وہ اس لیے کہ مسلمان اس الگ وطن میں دین اسلام کے مطابق زندگی گزاریں۔ جس میں کسی قسم کی ان کو اسلام کے مطابق عمل کرنے میں پریشانی یا دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے، لیکن مقام افسوس! کہ جب سے اور جس مقصد کے لیے پیارا ملک ”پاکستان” دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا،وہ مقصد ابھی تک عملی تصویر پیش نہ کر سکا……۔ وطن عزیز کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے اسے اسلام کا قلعہ ہونا چاہیے تھا۔ یہاں اسلام کو فوقیت ملنی چاہیے تھی۔یہاں پر قرآن مجید اور حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طور پر دستور ہونا چاہیے تھا۔اس وطن میں ہماری ہمدردیاں آپس میں جسد واحد کی طرح ہونا چاہئیں تھیں لیکن اے شاعر مشرق، اے قائداعظم، اے ہمارے بزرگوں وہ بزرگ کہ جنہوں نے اس جدوجہد کی خاطر اپنی جائیدادوں کو چھوڑ دیا۔اس جدوجہد کی تکمیل میں کتنے ہی داعیان اسلام علماء کرام کو جیلوں میں پابند سلاسل کر دیا گیا اور کتنے ہی مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر کے پھر ان کی لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہوئے انہیں درختوں پر لٹکا دیا گیا۔ کتنی ہی ماؤں،بہنوں،بیٹیوں کی عفت و عصمت کی دھجیاں اڑادی گئیں…..کیا یہ سب کچھ اس لیے نہیں تھا کہ یہ ارض پاک اسلام کا قلعہ ہو؟
ہم شرمندہ ہیں کہ ابھی تک وطن عزیز میں دین اسلام کو فوقیت نہ دی گئی، بلکہ غیروں کے طورطریقوں کو ہی اپنایا گیا اور رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو اپنا نمونہ و آئیڈیل بنانے سے شرم محسوس کرتے رہے یا ڈرتے رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

4 + 4 =