“سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فقدان”

نفیر قلم
محمد راحیل معاویہ

ملک عزیز پاکستاب کا پورا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے. اسلام اس کے دستور کی اساس جبکہ جمہوریت طریقہ کار ہے. پاکستان کی تقریبا تمام سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت کے فروغ کا نعرہ بلند کرتی ہیں. ہر سیاسی جماعت خود کو سب سے بڑی جمہوریت پسند جماعت کہتی ہے. خود انہی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ملتا. کارکنان کو محض احتجاج اور جلسے جلوسوں سے ذرا سا آگے بڑھ کر ووٹ دینے یا دلانے کی حد تک استعمال کیا جاتا ہے. ہر سیاسی جماعت کے کارکن کا کام اپنی پارٹی کے لیے دن رات نعرے لگانے تک ہی محدود رہتا ہے. سیاسی جماعتیں اپنے کارکنان کی سیاسی سوچ کو اس لیے بھی فہم و بصیرت کی حد تک نہیں جانے دیتیں کہ وہی بعد میں ان کی غلط پالیسیوں پر انگلی اٹھانے کے قابل ہوجائیں گے. کسی بھی جماعت میں اس کا دستور اور منشور اہم ہوتا ہے، ساری جماعت اور اس کی سرگرمیاں اسی کے گرد گھومتی ہیں جبکہ ہمارے وطن عزیز میں کارکنان کی سیاسی بصیرت اتنی ہے کی ان میں 10 فیصد طبقے کو بھی اپنی پارٹی کے دستور اور منشور کا علم نہیں ہوگا. یہاں سیاسی جماعتیں دستور اور منشور کے گرد نہیں بلکہ شخصیات کے گرد گھومتی ہیں. یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک کوئی سیاسی جماعت جمہوریت کے نعرے بلند کرنے سے آگے نہیں بڑھ سکی.
2014 میں پاکستان تحریک انصاف کا ان کے کارکنان نے بھرپور ساتھ دیا،ہر جائز و ناجائز کام میں اپنے قائدین کے ساتھ حکومتی اداروں کے ساتھ مزاحمت کی، جب جہاں جیسے خان صاحب بے بلایا اپنے سارے کام کاج پس پشت ڈال کر وہاں پہنچے، 126 دن ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دیا، سول نافرمانی کی تحریک چلائی، ملک کے کونے کونے میں اپنی پارٹی کا پیغام پہنچایا، اپنے سیاسی بیانیہ کے لیے اپنے گھر والوں تک سے لڑنے سے گریز نہیں کیا مگر جب 2018 میں ٹکٹ بانٹنے کی بات آئی وہ پوری دنیا نے دیکھا کہ جن سیاسی پارٹیوں کے خلاف دن رات برسرپیکار تھے انہی کی میل کچیل کو ٹکٹ دے دیے گئے اور پارٹی کارکنان ہاتھ ملتے رہ گئے.
1999 کے مارشل لاء میں میاں نواز شریف کی پارٹی سے ق لیگ نکلی اور انہی کے لوگ مشرف کے ساتھ مل گئے. 2008 تک ن لیگ پر شدید زوال کا وقت تھا یہ لوگ سیاسی وفاداریاں بدل کر مشرف کے ساتھ مل کر اپنے عروج کا جشن مناتے رہے لیکن 2008 میں جب مشرف کے اقتدار کا سورج ڈوب رہا تھا تو یہ لوگ دوبارہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے آشیانے میں پناہ لے چکے تھے. آج پاکستان تحریک انصاف کا اقتدار ہے. وفاق سمیت پاکستان کے تینوں صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے. عمران خان صاحب اس کامیابی کا راز 22 سالہ جدوجہد کو قرار دیتے ہیں. سوال یہ ہے کہ ان 22 سالوں میں آپ کے ساتھ ماریں کھانے والے کہاں ہیں؟
22 سالوں میں آپ کی خاطر لڑائیاں لڑنے والے کہاں ہیں؟
22 سالوں میں آپ کی خاطر دن رات مشکلات جھیلنے والے کہاں ہیں؟ آج جو آپ کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے یہ تب کہاں تھے جب آپ بقول خود اس نظام کے خلاف جہاد کررہے تھے؟
یہ 28 لوگ وفاقی کابینہ کے اہم ترین وزیر ہیں ان میں آپ کی پارٹی کے لوگ بمشکل 8 ہیں. پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں وہی آپکا اسپیکر ہے جس کو آپ ملک کے سارے مسائل کی جڑ قرار دیتے تھے. پنجاب کا وزیراعلی وہ ہے جو ق لیگ اور ن لیگ سے ہوتا ہوا آپ کے پاس الیکشن کے محض 2 ماہ پہلے پہنچا. دوسری جماعتیں بھی جب مشکل وقت آتا ہے تو فورا اپنی پارٹی کے کارکنان کی جانب رخ کرتی ہیں لیکن جب اقتدار مل جاتا ہے تو پھر انہی لوگوں کے ساتھ مل کر انجوائے کرتے ہیں جو ان کے مشکل وقت میں ان سے ناک کی لیکیریں کھنچوا رہے ہوتے تھے. پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مظبوط نہیں کرتی، ان کو پورا پورا حلقہ محض ان کے امیدواران کے توسط سے ان کے ساتھ رابطے میں ہوتا ہے. پورے پورے حلقے میں سیاسی جماعت فقط ایک شخص کے گرد گھومتی ہے. جب وہی شخص مشکل وقت میں یا کسی ذاتی مفاد کے لیے اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرلیتا ہے تو پھر پورے حلقے میں اس جماعت کا کوئی وجود نہیں رہتا.
صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی یا سینیٹ میں پہنچنے والے لوگوں میں سے جب اکثریت انکی ہو جن کا آپ کی پارٹی سے محض عروج کا ساتھ ہوتا ہے، وہ آپ کے نظریات، دستور، منشور یا بیانیہ سے مخلص ہی نہیں ہوتے تو ان سے یہ توقع ہی کیا کہ وہ آپ کی پارٹی کا ایوان میں ساتھ نبھائیں گے.
سیاسی جماعتوں کو اپنے مشکل اوقات میں سیکھنا چاہئے کہ یہ اپنے ووٹر تک باقاعدہ ایک منظم تنظیم سازی تشکیل دیں. انہی لوگوں میں نے اپنے نمائیندے منتخب کریں. حلقوں میں محض چند لوگوں کو مظبوط کرنے کی بجائے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مظبوط کریں. پاکستان کے ایوانوں میں ان لوگوں کو لائیں جو خود نظریہ رکھتے ہوں تاکہ ایسے سارے زمانے میں ہمارے ملک کی جگ ہنسائی نا ہوسکے.
جب پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود ہار جاتی ہے تو وہ شور مچاتی ہے، جب اپوزیشن سینیٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود ہارتی ہے تو وہاں وہ شور مچانا شروع کردیتی ہے.
لیکن جب یہی لوگ ان کو اسمبلیوں میں لائیں کہ جو بکنے والے یا دباؤ میں آنے والے نا ہوں تو پھر یہ یوں گریہ زاری کرتے نظر نا آئیں….

محمد راحیل معاویہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

8 + 8 =