پاو بھر گوشت اور ٹھنڈا پانی


تحریر: ڈاکٹر شکیل کاسیروی
تین ماہ گاوں میں گزارنے کے بعد جب واپس گھر لوٹا تو یکم آتے ہی گھر والی نے سودا سلف کی رٹ لگا دی کے لانا ہے، میں آج کل سستی کا بہت زیادہ شکار ہوں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ وہ بڑے بیٹے کے ساتھ چلی جاے لیکن وہ کہتی ہے کہ اس کے ساتھ نہیں جانا ہے، وہ غیر ضروری چیزیں خریدتا جس سے مہینے بھر کا بجٹ خراب ہو جاتا ہے، خیر مجھے بایئک نکالنا ہی پڑااور اس کے ساتھ کیش اینڈ کیری جانا پڑ گیا، وہ اپنی خریداری میں مگن ہو گئی، آج کل یہ مزے ہیں کہ اپنی مرضی سے سودا اٹھا کر ٹرالی میں رکھو، وہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی، اس دوران میں نے اپنے ایک دو کام نمٹائے اور واپسی پر جب کیش کاونٹر کی جانب بڑھا تو ماسک میں ایک شناسا چہرہ نظر آیا، جب دونوں کی نظریں چار ہوئیں تو اُس نے ہاتھ آگے بڑھایا اور بولا کیا حال ہے ڈاکٹر صاحب، بھلے انسان ماسک میں ہو آپکی آنکھیں اور بالوں کا اسٹائل پہچان کا باعث بن جاتا ہے، میں نے بھی اسے ترنت پہچان لیا وہ میرے گاوں سے اظہر نثار عباسی تھا، فٹ بال کا بہترین پلیر، شکاری اور سماجی کاموں میں پیش پیش، کھیلوں میں اس کی دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ گاوں کے بچوں کے لیے قریب کوئی گراونڈ نہیں ہے۔ اس نے انصار عباسی جرنلسٹ سے بول کر گھڑیال گراونڈ میں کھیلنے کی اجازت دلوائی، اس کے علاوہ گاوں کے مختلف جو مسائل ہیں اس پر بھی گاہے بگاہے آواز بھی اٹھاتے ہیں، اس کے علاوہ شمس الحق ہیں جو گورنر ہاوس اسلام آباد میں جاب کرتے ہیں، اس نے گاوں کے بہت سے کام کرواے فنڈز تک دلواے، اور حل کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا، اس کے علاوہ ایک اور بزرگ ہیں جن کا نام صوفی مکھن ہے، ایک حادثے میں ان کی ایک ٹانگ کٹ گئی تھی، وہ کوئی موقع اجتماعی مسائل کا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جہاں کوئی با اثر بندہ نظر آیا فورا گاوں کے مسلے کو سامنے رکھ دیا، یہ خوبی کسی کسی میں ہوتی ہے۔بعض نمبر ٹنگ قسم کے لوگ بھی ہیں جو کوئی بھی کام مکمل ہو چکا ہو کریڈٹ لینے کے چکر میں ہوتے ہیں، یا لمبی لمبی چھوڑتے ہیں ان کا نام لینا ضروری نہیں، اظہر مجھے دیکھتے ہی بولے کہ آپ کیوں سامان لینے آئے ہیں، بچوں کو بھیجا کریں، آپ ہمارے علاقے کے قیمتی انسان ہیں اور سوشل میڈیا پر آپ کے مضامین بہت دلچسپ ہوتے ہیں، اس طرح آپ کا وقت ضا ئع ہوتا ہے۔ اسے میرے اصلاحی، ادبی اور معاشرتی مضامین بہت پسند ہیں۔ اس نے میری بے حد تعریف کی، میں دل ہی دل میں پھولے نہیں سمایا۔اور پوچھنے لگا کہ کب کوئی اخبار یا چینل جاہئن کر رہے ہیں، میں نے کہا ابھی بہت سی باتیں اندر چل رہی ہیں دیکھو کیا ظہور میں آتا ہے، تو کہنے لگا نہیں ڈاکٹر صاحب جلد کوئی فیصلہ کریں،میں نے کہا میرا ارادہ شعبہ طب ہی کو اپنانے کا ہے اور لکھنا لکھانا تو چلتا رہے گا۔بعد میں کہنے لگا ڈاکٹر صاحب میرے ساتھ چلیں، میں نے کہا آپ ایسا کرو میرا سامان اپنی گاڑی میں لے جاو، اس نے انکار نہیں کیا اور میرے گھر کے گیٹ تک چھوڑ کر گیا، حالانکہ اس نے جلدی گھر جانا تھا، لیکن بہت محبت کرنے والا انسان ہے۔
دوسرے دن پھر صبح مسز نے کہا چلیں جب تک بچے سو رہے ہیں کچھ اور سامان لے آتے ہیں، مہینے کے پہلے دو تین دن میرے اکژ بہت ہی مصروف گزرتے ہیں، جب مہینے بھر کا سودا گھر والی اکٹھا لے آتی ہے، آج کل کے بچے پوری رات موباہل پر ہوتے ہیں اور پھر دوسرئے دن دیر تک سوتے ہیں،اور کوئی کام کہو تو کبھی ایک آواز پر نہیں اٹھتے ہیں۔وہ تنگ آ کر مجھے ہی کہتی ہیں کہ چلیں جب تک یہ اٹھیں ہم سودا لے آہیں، اس نے گروسری خریدی اور پھر ساتھ ہی سبزی اور گوشت کا پورشن تھا، سبزی ساہیڈ پر باہر لگی ہوئی تھی اور اندر گوشت کا پورشن تھا، اندر خاصی رش تھی اور باہر بھی دکان کے لوگ کھڑے تھے اور کچھ بوڑھی عورتیں اور بزرگ بھی کھڑے تھے، (ایک احساس سے ہوا کہ یہ لوگ حلیے سے تو گوشت خریدنے والے نہیں لگ رہے تھے) ہم لوگ اندر چلے گئے دیکھا تو بکنگ کے گوشت کو بھی کاٹ کر پیک کیا جا رہا ہے اور انفرادی گوشت والوں کو بھی گوشت دیا جا رہا ہے، مین بنچ پر بیٹھ گیا اور مشاہدہ کرنے لگا، اتنے میں ایک بندہ آیا اس کے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے، بچی بہت پیاری تھی اور بہت خوبصورت اس نے لباس زیب تن کر رکھا تھا اور اپنے پاپا کی پینٹ کو مضبوطی سے پکڑے ہوے تھی اور خاص بات اپنی چھوٹی سے نوزی کو اپنے چنے سے ہاتھ سے ڈھانپ رکھا تھا، کیونکہ اسے گوشت کی بو محسوس ہو رہی تھی، اور وہ اس انداز میں بہت پیاری لگ رہی تھی، میں اس کی اس حرکت کو دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا، سامنے کاونٹڑ پر ایک بندہ دھڑا ڈھڑ گوشت کاٹ کاٹ کر شاپر بھر رہا تھا، اس کے قریب ایک لڑکی اور دو چھوٹے لڑکے کافی دیر سے کھڑے تھے، پھر اس نے آدھے آدھے کلو کے صاف گوشت کے پیکٹ بنانا شروع کئے میں کانٹے کو دیکھ رہا تھا، ان میں سے ایک لفافہ اس نے اٹھا کر اس لڑکی کو دیا، ساتھ جو دونوں تھے وہ شکل سے اس کے بھائی لگ رہے تھے، انہوں نے بھی اسے کہا مجھے دو، وہ گوشت دینے والا لڑکا بولا، لڑکوں کو نہیں دیتے، مجھے یہ امتیازی سلوگ لگا اور،میرا دل چاہا کہ میں اس سے پوچھوں کہ اس بارہ تیرہ سالہ لڑکی کو تو تم نے دیا، ان کو کیوں نہیں، ابھی میں بولا بھی نہیں تھا کہ اس نے باقی سارے پیکٹ اٹھاے اور باہر کھڑے تمام بوڑھی عورتوں اور بزرگوں میں تقسیم کر نا شروع کر دیے، واپس آیا تو میں نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے، کہنے لگا جناب ہمارے مالک کا حکم ہے کہ ہر جمعرات کو صبح آٹھ بجے سے دن دو بجے تک مستحقین میں ایک ایک پیکٹ مرغی کا گوشت مفت تقسیم کرنا ہے، میں ہکا بکا رہ گیا، میں نے پوچھا مالک کدھر ہے اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ ہیں، دیکھا وہ پوری دلجمعی کے ساتھ گاہکوں کو گوشت دے رہا تھا، میں نے پوچھا نام کیا ہے، کہنے لگا بیگ صاحب، میرے دل سے بے ساختہ اس کے لئے اور اس کے کاروبار کے لئے دعا نکلی اور یقینا، اللہ اس کے مصائب کو ختم اور کاروبار میں برکت اسی لئے ڈال رہا تھا کہ رش ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، یہ پیکٹ ہی اصل میں اس کے کاروبار کو بڑھا رہے تھے، جو کم از کم مہینے میں چار بار غریب انسان گوشت کا ایک وقت ذائقہ چھک رہا تھا۔
واپس جب گھر پہنچا، ابھی سامان رکھا نہیں تھا کہ باہر پھر بیل بجی، بچے ابھی سو رہے تھے، دیکھا تو باہر کوڑے والا آیا ہوا تھا، اسے کوڑا لا کر دیا تو بولا واہ واہ میرا صاحب کافی عرصے بعد نظر آیا، وہ خوشی کا اظہار کر رہا تھا، اصل میں یہ جب شروع شروع میں آیا تو اس کا اسٹائل بہت زبردست، پان سے سرخ ہونٹ، بال ڈائی کیے ہوے دونوں ہاتھو ں میں مختلف رنگ کے دھاگے کڑے اور بھڑکیلے لباس، ریشمی قسم کے عجیب ماڈل سا بنا ہوا، کالا رنگ کندن کی طرح ہوا ہوا، میں نے سوچا کرسچین ہے، اکژ میں اس کی تصویریں بناتا تھا، وہ پوچھتا تھا صاحب کیا کرنی ہے، میں کہتا فیس بک پر لگاوں گا، بہت خوش ہوتا، ایک جمعے کو میں اپنی مسجد میں نماز پڑھنے گیا تو دیکھا وہ بھی اسی حالت میں جمعہ ادا کر رہا ہے، دوسرے دن آیا تو میں نے پوچھا، کل تمہیں میں نے مسجد میں دیکھا ہے،تو کہنے لگا صاحب، میں چوڑا نہیں ہوں، مسلمان ہوں، سیالکوٹ کا رہنے والا ہوں اور یہاں گھروں سے کوڑا ٓٹھانے کا کام کر رہا ہوں، میرے پوچھنے پر کہ تمہاری عمر کیا ہے کہنے لگا انیس سال اور بارہ سال کی عمر میں شادی ہوئی تھی اور میرے چار بچے ہیں، میں ہنسا اور بولا میرے چھوٹے بچے کی عمر انیس سال ہے اور وہ رو کر اب بھی کھانا مانگتا جب بھوک لگتی ہے، (انیس سال میں چار بچوں والی بات مجھے ہضم نہیں ہوئی کہ چٹا ان پڑھ ہے، اسے پتہ ہی نہیں وہ کب پیدا ہوا اور اس کی عمر کیا ہے) محسن اس کا نام تھا، کہنے لگا صاحب جی ٹھنڈا پانی تو پلائیں، میں کولر سے ٹھنڈا پانی لیکر گیا تو کہنے لگا صاحب جی فوٹوں نی چھکنی، میں نے اپنے چھوٹے بیٹے کو جگایا اور پھر اس کی دو تین تصویریں لیں، کہنے لگا صاحب فیس بک تے ضرور لایو۔میں نے ہنس کر کہا ضرور، بڑا زندہ دل لڑکا ہے، محنت کرتا، خوش رہتا، اور مسکراہٹ ہر پل اس کے پان زدہ لبوں پر کھیلتی رہتی۔ ویسے خوشی دولت کی محتاج نہیں، اگر آپ مطمئین ہیں تو آپ وقت کے سکندر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

8 + 2 =