مہنگائ اور عوام


تحریر : چوہدری سہیل اختر
پاکستان کی معیشت بین الاقوامی سطح پر تو اکثر کمزور رہی ہے لیکن ملک کے اندر جو معیشت کا برا حال اب ہوا اسکی مثال نہیں ملتی 2018 میں پاکستان کی معیشت 5.8 ٪ سالانہ پہ ترقی کر رہی تھی اور مہنگائ کی شرح 3.8 فیصد تھی کو اس وقت خطے میں مہنگائ کی سب سے کم شرح تھی سٹاک ایکسچینج 53000 پلس پوائنٹ پہ چل رہی تھی جو کہ پاکستان کی تاریخ میں بلند ترین فگر تھا چینی 53 روپے کلو گھی 140 روپے کلو بجلی 8روپے فی یونٹ تھی ڈی اے پی کھاد 2700 کا تھیلہ مل رہا تھا پھر پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی اور آتے ہی مہنگائ کی بنیاد رکھ دی جسکی بنیادی وجہ معاشی ٹیم کی نالائقی اور عمران خان کی ضد تھی کہ آئ ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے لیکن جب حالات نے سنگینی اختیار کی تو خان صاحب کو ماہرین معاشیات نے بتایا کہ آئ ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا خان صاحب نے وزیر خزانہ کو آئ ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے امریکہ بھیجا چونکہ اس دوران معیشت نیچے آنا شروع ہو گئ تھی زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے کم ہو کر 6 ارب ڈالر رہ چکے تھے جی ڈی پی 5.8٪ سے 4.2 پہ آ گئ تھی آئ ایم ایف نے کڑی شرائط پہ قرض دینے کی حامی بھر لی ان کڑی شرائط میں گیس پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بنیادی مطالبہ کیا گیا شرح ٹیکس میں اضافہ کی پابندی عائد کی گئ اور وزیر خزانہ نے سخت اور کڑی شرائط پہ قرض حاصل کیا قرض ملنے کے بعد شرائط کے مطابق پٹرول ڈالر بجلی مہنگی کر دی گئیں جس کے اثرات اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی میں مہنگائ کی صورت میں نکلے عوام پر امید تھے کہ اس مہنگائ سے جلد جان چھوٹ جائے گی حکومتی وزراء بھی عوام کو طفل تسلیاں دیتے رہے لیکن قول و فعل کا تضاد اس وقت سامنے آیا جب آئ ایم ایف سے قرض کی دوسری قسط کے حصول کے لیے دوبارہ مہنگائ کی شرط رکھی گئ نتیجتاً چند ارب ڈالر کے حصول کے لیے عوام پر مہنگائ بم پھینکا گیا جس سے سفید پوش مزدور اور تنخواہ دار طبقہ بہت متاثر ہوا کھانے پینے سے لیکر ادویات تک سب کچھ مہنگا ترین ہو کر رہ گیا غریب غرباء جو دو وقت روٹی کھا لیتے تھے انکا جینا محال ہو گیا فاقوں کی نوبت پہنچ گئ اور اس دوران خان صاحب نے متعدد بار قوم سے خطاب کیا اور مہنگائ کا نوٹس لینا شروع کر دیا انکے نوٹس کا ردعمل مذید مہنگائ کی صورت میں نظر آیا ۔۔خان صاحب جیسے ہی مہنگائ کا نوٹس لیتے اسی وقت مہنگائ کا جن مذید بے قابو ہو کر خان صاحب کو آنکھیں اور غریبوں کو موت دکھانے لگ جاتا اس نوٹس نوٹس کے کھیل سے عمران خان نے فیصلہ کیا کہ عوام اب بہت تنگ آ چکے ہیں کیوں نا عوام کو “ریلیف” دیا جائے لہذا انہوں نے قوم سے خطاب میں فی کس 154 روپے کا ریلیف دیکر پیٹرول مہنگا کر دیا اور بجلی بھی مہنگی کر دی جس کی وجہ سے “ریلیف پیکج ” تکلیف پیکج بن گیا ۔ اس ساری صورت میں وزیر اعظم اور انکی کابینہ کے تجاہل عارفانہ اور مافیا نواز پالیسی کا عمل دخل رہا ہے اسد عمر حفیظ شیخ حماد اظہر اور شوکت ترین یہ سب ناکام وزیر خزانہ ثابت ہوئے عوام کو مہنگائ سے باہر نکالنے کے لیے ایک مرتبہ بھی مخلصانہ کوشش نہیں کی ۔مہنگائ نے جہاں غریب عوام کو متاثر کیا وہیں متوسط طبقے کو بھی متاثر کیا ہے خان صاحب اور انکی ٹیم میں صلاحیتوں فقدان ہے اور عوام کے مسائل کو نظر انداز کر کے خود اقتدار کے مزے لوٹنے والے ان نااہل حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے درجنوں لوگ بھوک مہنگائ سے تنگ آکر خودکشی کر رہے ہیں لوگ پارلیمنٹ کے سامنے اپنے بچے فروخت کر رہے ہیں یہ سب مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے لیکن حکمرانوں کو ابھی اپنی عیاشیوں اور اپوزیشن سے لڑائیوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا مہنگائ اور اوپر سے وزراء کے عجیب و غریب قسم کے مشورے عوام کے زخموں پہ نمک پاشی کر رہے ہیں آج پاکستان مہنگائ عروج پہ پہنچ گئ ہے جو کہ عوام کا معاشی قتل کرنے کے مترادف ہے ان حکمرانوں کو اگلے انتخابات میں ووٹ دینے سے قبل لوگ ان کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے ہونے والی مہنگائ کو یاد رکھتے ہوئے یکسر مسترد کر دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

2 + 5 =