“انور عزیز کی پہلی برسی”

نفیر قلم محمد راحیل معاویہ

گذشتہ سال 22 نومبر کو میاں نواز شریف صاحب کی والدہ اور لیگی رہنماء دانیال عزیز چوہدری کے والد انور عزیز چوہدری ایک ہی روز انتقال کر گئے تھے ۔ انور عزیز چوہدری کو دل کے عارضے کے باعث لاہور منتقل کیا گیا چند روز علالت کے بعد وہیں انتقال کرگئے. وفات سے کچھ ماہ قبل انکی لاڈلی اور اکلوتی بیٹی کی وفات ہوئی تھی جس کا انہیں بہت صدمہ تھا. انہیں انکی بیٹی پرفیسر کرن عزیز کی قبر کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا۔ عجیب اتفاق ہے کہ انور عزیز صاحب کی وفات کے چند ماہ بعد ہی ان کی بیوی بھی امریکہ میں وفات پاگئی.
دانیال عزیز صاحب نے گزشتہ سال محض 6 ماہ کے عرصے میں اپنی بہن، باپ اور اپنی ماں کو کھویا جو یقینا ان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا.
انور عزیز صاحب کی بیوی امریکی خاتون تھیں جن سے ان کی دور طالب علمی میں ہی وہاں دوستی ہوئی اور انہوں نے مسیحیت ترک کرکے اسلام قبول کیا اور انور عزیز چوہدری کے ساتھ شادی کی. شادی کے بعد وہ شکرگڑھ بھی آئیں اور یہاں سے پنجابی زبان بھی سیکھی.
انور عزیز صاحب کو بھی پنجابی سے بہت لگاؤ تھا الیکشن کمپین کے دنوں میں اکثر کھیتی باڑی میں مگن بزرگوں کے پاس کھیتوں میں چلے جاتے اور ان کے ساتھ گپ شپ لگالیتے.
انور عزیز چوہدری ایک عہد ساز شخصیت تھے۔نصف صدی سے زائد ملکی سیاست میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ کئی حکومتیں بنوانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ علاقائی سیاست پر ایسا جادو کررکھا تھا کہ جس پر سیاسی مخالفین بھی انگشت بداں نظر آتے تھے۔ انتہائی زیرک،مدبر،معاملہ فہم اور دور اندیش سیاست دان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ شکرگڑھ میں سب سے زیادہ عمر رسیدہ سیاست دان ہونے کی وجہ سے انہیں بابائے سیاست کے نام سے جانا جاتا تھا۔
انور عزیز چوہدری 1931 کو ڈاکٹر عزیز کے گھر پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر عزیز کا شمار اس وقت کے بڑے سرجن ڈاکٹروں میں ہوتا تھا۔ وہ بھی انسانی ہمدردی اور لوگوں کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نیک دل انسان تھے۔ میرے دادا جان کے اچھے دوست تھے، دادا جان کی ان سے کئی ملاقاتیں ہیں، ان کی ملاقات کے دوران پیش آنے والے بیشتر انسانی خدمات کے دلچسپ واقعات سننے کو ملتے۔وہ سرگودھا میں سول سرجن کے طور پر اپنی خدمات ادا کرتے تھے۔ انور عزیز چوہدری نے بھی میٹرک تک تعلیم سرگودھا سے حاصل کی، اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر امریکا سے (ایل ایل ایم) وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ 1948 میں اولمپک گیمز میں سوئمنگ کے مقابلے میں حصہ لیا اور پاکستان کی نمائیندگی کی، یہ مقابلہ جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا اور اولمپک چیمپیئن رہے۔
تحریک پاکستان کے دوران انور عزیز لاہور میں تعلیم حاصل کرتے تھے، اس دوران انہوں نے کئی مواقع پر قائداعظم محمد علی جناح کی پہرہ داری کی جس کا تذکرہ انہوں نے حامد میر صاحب کے پروگرام میں بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ فلسطین کی آزادی کے لیے یاسر عرفات کے ساتھ مل کر لڑنے کا بھی حامد میر ذکر کرتے ہیں.
1962 میں ایوب خان کے دور سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ اس وقت نارووال ضلع نہیں تھا، تحصیل شکرگڑھ کا ضلع سیالکوٹ ہوتا تھا۔ سابق ایم این اے اشفاق تاج کے والد عبدالرحیم ایم این اے ہوتے تھے، ان کے برادر نسبتی عبدالروف گمٹالہ والے اس وقت ایم پی اے کے امیدوار تھے۔
انتخابات میں عام عوام ووٹ نہیں ڈال سکتی تھی، ووٹ ڈالنے کا حق صرف بی ٹی ممبران کو حاصل تھا۔ یہ انتخابات کا طریقہ کار اس لیے نکالا گیا تھا تاکہ ایوب خان کو اقتدار کا آئینی حق دلوایا جاسکے۔
انور عزیز چوہدری نے حکومت مخالف امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا، ان کو انتخابات سے دور رکھنے کے لیے مختلف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے اور گرفتاری کے لیے تابڑ توڑ حملے شروع کردیے گئے ۔ انور عزیز چوہدری نے پولیس سے بچ بچا کر سیالکوٹ سے ضمانت حاصل کی،پہلے ہی الیکشن میں کامیابی کے جھنڈے گھاڑ دیے اور شکرگڑھ سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ اس کے بعد متعدد بار ایم این اے بنے، دو مرتبہ وفاقی وزیر رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور جونیجو کی حکومت میں شامل رہے، ان کو پنجاب کا وزیر داخلہ رہنے کا بھی موقع ملا۔
1985 میں انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی کے انتخابات میں بہت فعال کردار ادا کیا اور اپنے امیدوار موجودہ وفاقی وزیر فخر امام کو اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کروانے میں کامیاب ہوئے۔ ان کا شکرگڑھ کی سیاست پر گہرا اثر تھا اسی وجہ سے یہ اپنے بیٹے دانیال عزیز کو یہاں سے 3 مرتبہ ایم این اے منتخب کروانے میں کامیاب ہوئے۔ 2013 کے الیکشن میں دانیال عزیز کو نااہل قرار دے دیا گیا تو ان کی بہو اور دانیال عزیز کی بیگم محترمہ مہناز اکبر عزیز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئیں۔
محترمہ مہناز اکبر عزیز صاحبہ بھی بہت نفیسہ خاتون ہیں ہر قدم پر اپنے بچوں کی طرح رہنمائی کرتی ہیں. قومی اسمبلی میں تعلیم، صحت، خواتین اور انسانی حقوق کے لیے توانا آواز ہیں. انٹرنیشنل پارلیمنٹیرین کمیٹی برائے فروغ تعلیم کی ایشیاء کے لیے نمائندہ بھی ہیں. مجھے چند ماہ پہلے ان سے ملنے کا اتفاق ہوا تو گھر پہنچنے سے پہلے ہی دروازے پر منتظر پایا. باہر نکل کر استقبال کیا اور علاقائی خواتین کے اندر شعور بیدار کرنے کے لیے فکر مند نظر آئیں.
انور عزیز چوہدری کو کتابوں،ادیبوں،پنجابی شاعری،پنجابی زبان، اپنے رسم و رواج، ثقافت اور اردو ادب سے عشق کی حد تک لگاو تھا۔
اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے ایک کتاب بھی لکھ رہے تھے۔
ادبی محفلیں منعقد کرکے دیر تک صحافیوں اور ادیبوں سے گفتگو رہتی جس کا تذکرہ کئی موجودہ نامور صحافی مختلف انداز سے کرتے ہیں۔ صحافیوں سے یہ بیٹھک اکثر عامر متین کے گھر منعقد ہوتی تھی۔
کریلے گوشت بنانے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔
کہا کرتے تھے کہ میرے والد مجھے کہہ گئے ہوئے ہیں کہ “پتر تو لوکاں لئی بند بوہے کھوکیا کر اللہ تیرے لئی بند بوہے کھولے گا”
بیٹا تم لوگوں کے لیے بند دروازے کھولا کرو اللہ آپ کے لیے بند دروازے کھولے گا۔
دعا ہے کہ اللہ پاک ان کے لیے جنت کے تمام دروازے کھولے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔

محمد راحیل معاویہ نارووال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

1 + 4 =