بچے؛جنت کے پھول

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(نصف آخر)
(20نومبر،بچوں کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

از:ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com
(گزشتہ سے پیوستہ)محسن انسانیت ﷺ بچوں سے بے حد پیارکرتے تھے،خاص طور پر یتیم بچے ان کی توجہ کا مرکزہواکرتے تھے۔حضرت زید،جوغلام بن کرآئے تھے آپ ﷺ نے انہیں اتنی محبت دی کہ انہوں نے اپنے سگے ماں باپ کے پاس جانے سے انکارکردیا۔آپ کے بڑے بیٹے کانام قاسم تھااسی نسبت سے آپ ﷺ کو ”ابوقاسم“کہاجاتاتھا۔جب حضرت قاسم فوت ہوئے توآپ ﷺ اشک بارہوگئے۔ایک بارآپ ﷺ بازارمیں سے گزررہے تھے توایک آدمی نے زورسے پکارا”یااباقاسم“،توآپﷺنے مڑ کردیکھاتواس آدمی نے کہاکہ نہیں میں اس کوبلارہاتھا،وہاں کسی اور کی کنیت بھی ابوقاسم تھی۔آپ ﷺ کو یہ بات ناگوارگزری اور آپﷺ نے فرمایا کہ میرے نام پر نام تورکھولیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھو۔چاروں بیٹیوں سے اورخاص طور پرخاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہراسے آپ ﷺ کو از حد محبت تھی،ان کے دونوں فرزند حسنین کریمین شفیقین آپ ﷺ کے کندھوں پر سواری کیاکرتے تھے اور جب کبھی حالت سجدہ میں یہ نواسے آپ ﷺ کی کمر مبارک پر سوار ہوجاتے توآپﷺاس وقت سر اٹھاتے تھے جب کہ وہ دونوں خود اترتے۔قرآن مجید نے حکم دیاہے کہ”یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَ اَہْلِیْکُمْ نَارًا وَ قُوْدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ عَلَیْہَا مَلٰٓءِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶۶:۶)“ترجمہ: ”اے ایمان والو اپنے آپ کواوراپنے گھروالوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کاایندھن آدمی اورپتھرہیں،اس پر تندخواورسخت گیرفرشتے مقررہیں،اللہ تعالی ان فرشتوں کوجوحکم دے وہ نافرمانی نہیں کرتے،اوروہی کچھ کرتے ہیں جوانہیں حکم دیاجاتاہے“۔چنانچہ بچوں کا یہ بھی حق ہے کہ دوزخ کی جس آگ سے ایک مومن خود بچنے کااہتمام کرتاہے وہاں اپنے بچوں کو بھی اس آگ سے دور رکھنے کابالالتزام انتظام کرے اور اپنے مرنے کے بعد بچوں کی فکر کے ساتھ ساتھ بچوں کے مرنے کے بعد ان کی فکر بھی دامن گیر رہنی چاہیے۔آپﷺجب فجرکی نمازکے لیے اپنے گھرسے باہر تشریف لاتے تو حضرت علی کے حجرے کادروازہ بجاکر انہیں فجرکی نمازکے لیے بیدارکرتے اورفرماتے اے اہل بیت نماز کے لیے چلو۔آپ ﷺ نے فرمایاکہ جب بچہ سات سال کاہوجائے تواسے نمازکے لیے کہواور جب دس برس کے ہوجائیں توان کے بسترالگ کردواورنماز کے لیے ان پر سختی کرو۔
اپنے بچوں سے جانور بھی پیارکرتاہے،جنگلی درندہ بھی اپنی نسل کی بڑھوتری چاہتاہے اورعلوم معارف سے ناآشناانسانی آبادیوں سے دورزمین کی تہوں سے نیچے اور پانی کے اندھیروں میں چھپی ہوئی مخلوقات بھی اپنی نسلوں کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دیتی ہے یہاں تک کہ بعض حشرات الارض تو ایک خول میں انڈے دے کر مرجاتے ہیں تب ان انڈوں سے نکلنے والے بچے اسی جسد مادرکوکھاکراپنے دورہ حیات کا آغاز کرتے ہیں۔لیکن حیرانی ہے اس سیکولر مغربی تہذیب پر جس نے اپنی نسل کے بچوں کو ہی اپنے اوپر بوجھ سمجھ لیا،اتنا ظالم اور اس قدر کرب ناک تجربہ تو اس سے پہلے بھی شاید کسی انسانی تہذیب نے نہیں کیاتھاکہ خود انسان پر اس کی اپنی نسل بوجھ بن کر رہ گئی ہو۔اس سیکولرمغربی تہذیب نے انسانیت کو اس درس معکوس سے آشناکیاکہ بچے انسانی وسائل پر بوجھ ہیں اور انہیں اس دنیامیں آنے سے روک دیاجائے۔ہوس نفس کی ماری اس سیکولرتہذیب نے اپنی ہی نسل کولذت نفسانی کی بھینٹ چڑھایا۔انقلاب فرانس سے شروع ہونے والا یہ اخلاقی تنزلی کاسفرآج تک جاری ہے اوراب تو یہ صورت حال ہے کہ یورپ کے بعض علاقے بچوں کے وجود سے بالکل خالی نظر آتے ہیں،اور ہردوچارسال یا پانچ سالوں کے بعد اکادکااسکول بند ہوجانے کی اطلاعات آتی ہیں کہ اتنے بچے ہی نہیں ہیں کہ سکول کوجاری رکھا جاسکے۔سیکنڈے نیویاکے بعض علاقوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح اس قدر کم ترین ہے کہ کل آبادی میں چودہ فیصدسالانہ تک کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور شہر کے شہر خالی ہونے لگے ہیں جبکہ دوسری طرف اوسط عمر میں مسلسل اضافے کے باعث یہ غیرفطری طرزمعاشرت کے ثمرات بد ہیں کہ ایک طرف بچوں کی پیدائش کی شرح ہوشرباحد تک کم ہے تو دوسری طرف دن بدن سبکدوش ہونے والے افراد کی ایک لمبی قطاراور طویل فہرست ہے اور وہ ممالک مجبور ہیں کہ درمیان کے خلاکو پر کرنے کے لیے ایشیائی ممالک سے اپنی شہریت کے دروازے کھولیں۔ان یورپی ممالک سے جب کبھی کوئی سیاح ایشیائی ممالک کا سفر کرتے ہیں تو پھول جیسے بچوں سے بھری ہوئی گلدستے جیسی گلیوں کو دیکھ کر وہ پکاراٹھتے ہیں کہ یہ کتنی امیراقوام ہیں۔
سیکولرمغربی تہذیب کی حامل اقوام کس منہ سے بچوں کاعالمی دن مناتی ہیں جب کہ بچوں کی سب سے بڑی استحصالی قوتیں وہ خود ہیں کہ انہوں نے اپنی گود میں لذت نفسانی سے سرشارسیکولرازم کی پرورش کرکے بچوں کو ان کی مامتاتک سے محروم کیاہے۔سیکولرمعاشروں میں بچوں کی ایک بہت بڑی تعدادنہ صرف یہ کہ باپ کی شفقت سے محروم ہوتی ہے بلکہ حقیقت میں تو اس تعدادکو اپنے باپ کا کوئی اتہ پتہ ہی معلوم نہیں ہوتاگویا ان معاشروں میں موجود بچوں میں حلالی اور غیرحلالی کافرق ہی نہ رہا۔بڑے تو پھر بھی اپنے حقوق کی خاطر مظاہرے کرتے ہیں لیکن مامتاسے محروم ڈے کئر سنٹرزمیں نرسوں کے ہاتھوں نیندکی دوائی ملادودھ پی کر ساراسارادن سوتے رہنے والے بچے تواس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی ماؤں کے حصول کے لیے سیکولرمغربی جمہوری حقوق کے تحت کوئی مظاہرہ کرسکیں۔اس سیکولرمغربی تہذیب نے بچوں کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی اور ظلم یہ کیاہے کہ عورت کو بھی مزدوروں اورپیشہ وروں کی صف میں کھڑاکرکے خاندانی نظام کو اجاڑ پھینکاہے۔اس خاندانی نظام کی بقامیں ہی بچوں کاتحفظ پوشیدہ تھااور اب انسانیت کے دعوے داراور انسانی حقوق کے ٹھیکیداریورپ اور امریکہ کے کارپردازگان ایشیائی و اسلامی ممالک کے بچوں کو بھی اسی استحصال کا شکار کرنا چاہتے ہیں جس کی تفصیلات آئے دن اخبارات کی زینت ہیں۔اگروہ واقعی انسانیت کے خیرخواہ ہیں تو بچوں کے عالمی دن کا تقاضا ہے کہ اپنے ملکوں میں خاندانی نظام کو ازسرنو تازہ کریں جس کاواحد اور بالکل ایک ہی راستہ ہے کہ عورت کو اس کی فطری ذمہ داریاں سونپی جائیں کیونکہ نسوانیت اور مامتا لازم و ملزوم ہیں۔
انسانی عقل کتنی ہی ترقی کرجائے وہ وحی کی تعلیمات سے آگے نہیں نکل سکتی،وحی کی تعلیمات میں ہی بچوں سمیت کل انسانیت کی فلاح پوشیدہ ہے۔نکاح وہ ادارہ ہے جس کے ثمرات صحیح النسب بچوں کی صورت میں انسانیت کو میسر آتے ہیں اور انسانی نسل آگے کو بڑھتی ہے۔ نکاح جیسے مقدس ادارے کاتحفظ خاندانی نظام سے ممکن ہے جبکہ بدکاری اور زناجیسے قبیح اعمال براہ راست نکاح جیسے محترم ادارے کو مجروح کرتے ہیں۔خاندانی نظام کی مضبوطی اور زناو بدکاری کی روک تھام کے لیے قرآن مجید نے جہاں بہت سے عائلی قوانین جاری کیے ہیں وہاں غص بصر،استیزان،حجاب اورعورت کو معاشی ذمہ داریوں سے مبراقراردے کردراصل انسان کی آنے والی نسل یعنی بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دی ہے۔سال بھر میں ایک دفعہ بچوں کاعالمی دن منالینے سے بچوں کے حقوق ادانہیں ہو سکیں گے۔بچوں کے حقوق اداکرنے کے لیے ضروری ہے کہ فطرت نے ان حقوق کی ادائگی کوجس ماں کے فرائض میں شامل کیاہے اسے دنیاکی تمام ذمہ داریوں سے فراغت عطاکی جائے تاکہ وہ ”بچوں کے حقوق“کوبحسن وخوبی اداکرسکے۔جب ماں واقعی ماں تھی اور اسوۃ رسول ﷺ کی پیروکار تھی تو اس کی گود سے حسنین کریمین جیسے بچے عالم انسانیت کو میسر آئے،اللہ کرے کہ ہماری آنے والی نسلوں کوبھی ایسی مائیں مرحمت ہوں کہ وہ بچے اپنے حقوق کے لیے کسی عالمی دن کے محتاج نہ رہیں،آمین۔(تمت بالخیر)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

4 + 1 =