اقبال ؒ شناسی

*سنگ شُو آئینۂ اندیشہ را،

*سنگ شُو آئینۂ اندیشہ را،* *بَر سرِ بازار بَشِکن شِیشہ را،* رُومیؒ نے مُجھ اِقبالؒ سے کہا کہ، تُو فِکر و خوف کے شیشے کے لئے پتھر بن جا، شیشے کو بِیچ بازار (میں) توڑ ڈال، چکنا چُور کردے. یعنی! راز کو چھُپا چھُپا کر نہ رکھ، بلکہ! اِن کو سب کے سامنے کھول کر بیان کر دے. (اسرارِ خُودی) ... Read More »

*يہ عقل و دل ہيں شرر شعلہ محبت کے*

*يہ عقل و دل ہيں شرر شعلہ محبت کے* *وہ خار و خس کے لئے ہے، يہ نيستاں کے لئے* (عقل و دل دونوں کی بنیاد عشق ہے. شرر عشقِ الہی میں عقل سے خار و خس یعنی مادی دنیا کو فتح کرے. اور دل کے ذریعے عالم روحانی اپنے باطن کو فتح کرے ) *عَلامَہ مُحَمَّد اِقبَالؒ* مَیں عام ... Read More »

*مقامِ پرورش آہ و نالہ ہے يہ چمن*

*مقامِ پرورش آہ و نالہ ہے يہ چمن* *نہ سيرِ گُل کے لئے ہے نہ آشياں کے لئے* اس دنیا میں انسان کو اس لیے بھیجا گیا کہ اپنی خودی کی تربیت کر سکے، خدمتِ انسانیت مقصدِ حیات، محبتِ الہی ہے نہ کہ یہ کوئی سامان تفریح گاہ ہے اور نہ مستقل آشیانہ۔ *عَلامَہ مُحَمَّد اِقبَالؒ* مَیں عام اقبال ھو ... Read More »

*رہے گا راوی و نيل و فرات ميں کب تک*

*رہے گا راوی و نيل و فرات ميں کب تک* *ترا سفينہ کہ ہے بحر بے کراں کے لئے!* اے مسلمان، تجھ کو الله کریم نے ساری کائنات کو مسخر کرنے کے لئے پیدا کیا ۔ تیری جدوجہد کسی مخصوص علاقہ تک محدود نہیں ہے۔ *عَلامَہ مُحَمَّد اِقبَالؒ* مَیں عام اقبال ھو کر، اقبالؒ کو عام کرنے لگا، Read More »

*یا مُسلماں را مَدہ فرماں کہ جاں بر کف بنہ*

*_’زبورِ عجم’ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا وہ شاہکار ہے جسکی ‘انقلابی’ نظمیں علامہ کی شدید ترین خواہش کا اظہار واشگاف الفاظ میں کرتی ہیں، ایک نظم ارسال کر رہا ہوں، دیکھیئے علامہ کیا ‘خواہش’ کر رہے ہیں۔_* _وجاہت علی حسن_ ———————————— *یا مُسلماں را مَدہ فرماں کہ جاں بر کف بنہ* *یا دریں فرسودہ پیکر تازہ جانے آفریں* ... Read More »

*زخم ازو، نِشتَر ازو، سوزَن ازو،*

*زخم ازو، نِشتَر ازو، سوزَن ازو،* *ماوجوے خون و امید رفو،* *ترجمہ و تشریح* زخم لگانے والا بھی وہ(یورپ) ہے، نشتر بھی اُسی کا اور سُوئی بھی اُس کی ہے، اِدھر ہم ہیں، اور خُون کی ندی ہے اور اُسی (یورپ) سے زخموں کو سِینے کی اُمید رکھے ہوئے ہیں۔ یعنی، اپنے ہی مُلک میں رہ کر بجائے اپنی محنت ... Read More »

*نِگہ بُلند ، سُخن دِل نواز، جاں پُرسوز*

*نِگہ بُلند ، سُخن دِل نواز، جاں پُرسوز* *يہی ہے رختِ سفر مِيرِ کارواں کے لئے* مسلمانوں کا رہنما وہ شخص ہو سکتا ہے، جس کی نگاہ بلند ہو جس کا سخن دلنواز ہو. جان پُرسوز ہو یعنی وہ عشقِ رسولؐ مین فنا ہو چکا ہو. یعنی وہ قرآن اور حدیث کے علوم کے ماہر ہوں اور یہ سب عشقِ ... Read More »

*مرے گلو ميں ہے اک نغمہ جبرئيل آشوب،*

*مرے گلو ميں ہے اک نغمہ جبرئيل آشوب،* *سنبھال کر جسے رکھا ہے لامکاں کے لئے۔* میرے سینہ میں ایک ایسا نغمہ پوشیدہ ہے کہ جبریل بھی اس کو سن کر بےچین ہو جاۓ میرے دل میں عشقِ اِلٰہی ہے یعنی عشق کی بات ہر عام میں نہیں کی جاتی روزِ آخر جب میں لامکاں میں سفر کروں گا، اِس ... Read More »

ذرا سی بات تھی، انديشہ عجم نے اسے،*

*ذرا سی بات تھی، انديشہ عجم نے اسے،* *بڑھا ديا ہے فقط زيبِ داستاں کے لئے،* زرا سی بات تھی یعنی کہ کوئی معبود نہیں سوائے *اللہ پاک کے اور *محمد صلے الله علیہ وآلہ وسلم* اس کے سچے بندے ہیں۔ مفسروں نے گھما گھما کر، تاویلوں میں اسے گم کر دیا ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ دِیں کا ... Read More »

*مقامِ ذِکر، کمالاتِ رومیؔ و عطارؔ،*

*مقامِ ذِکر، کمالاتِ رومیؔ و عطارؔ،* *مقامِ فِکر، مقالاتِ بو علی سؔینا،* *فرہنگ* مقالات = مجموعۂ اقوال یا تصانیف سے *مفہوم* جب مومن مقامِ ذِکر پر فائز ہوتا ہے تو رومیؒ اور عطارؒ بن جاتا ہے۔ یعنی روحانیت میں بلند مرتبہ پاتا ہے۔ اور جب مقامِ فِکر تک پہنچتا ہے تو بوعلی سینا بن جاتا ہے۔ فرید الدین عطارؒ اور ... Read More »