افسانہ

گیلا کاغذ۔

وقار احمد ملک وہ میری ملازمت کا پہلا دن تھا۔ خاتون ہونے کے ناطے میں تدریس کو ایک محفوظ پیشہ سمجھتی تھی۔ میری شروع سے سرکاری ملازمت کی خواہش تھی اور وہ بھی کسی دیہاتی علاقے میں۔ شہر سے دور گاؤں کی پرسکون فضاؤں میں دن گزارنا میرا ایک خواب تھا۔ نہ شہر کا شور، نہ گاڑیوں اور فیکٹریوں کا ... Read More »

*معرکہ پامپور ایک یادگار داستان جہاد*

نامعلوم: کشمیری مجاہدین کے نام  حصہ اول ۔۔۔(1)۔ سرد موسم میں جب وادیِ جموں کشمیر میں  برفیلی چادر ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے ، پہاڑوں پر برف اور وادیوں میں سرد ہواؤں  کا پہرہ ہوتا ہیں ، شفاف پانی کے بہتے چشمے منجمد ہو جاتے ہیں ، تو ان ایام میں وادی کے میدانِ مقتل سے ایک تاریخ ساز ... Read More »

*ضرورت*

امین اڈیرائی آج سخن آباد کے پریس کلب میں جانو جوشپوری کے ساتھ کسی  تنظیم کی جانب سے شام منائی جا رہی تھی. جانو جوشپوری کا ادب میں کوئی خاص کام نہیں تھا کچھ سال پہلے اس کی ایک شاعری کی کتاب شایع ہوئی تھی جس میں بھی اوزان کے کافی مسائل تھے البتہ اس کی پی آر اچھی تھی. ... Read More »

کچھ سوال میرے بھی

؎ آمنہ نثار راجہ ( ینگ ویمن رائٹر فورم ا سلام آباد ) شاہ زیب زوروشور سے گرج رہا تھا۔۔۔جیسے کوئی انہو نی ہو گئی ہو۔۔کبھی غصے سے کمرے کے اندر چکر لگاتا تو۔۔کبھی کمرے سے باہر۔۔۔اس کاغصہ کسی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی مانند تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔۔چہرہ غصے سے سرخ۔۔۔۔ اور آنکھیں جیسے ابھی ... Read More »

خاموش حویلی

 تحریر:وقار احمد ملک شہر کا یہ قدیم حصہ آہستہ آہستہ پُر سکون ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں نے اس خاموش علاقہ کے بڑے بڑے کشادہ صحنوں کو چھوڑ کر نئے شہر کی جدید کالونیوں کے چند مرلوں کے منقش ڈربوں میں خوشی خوشی قید قبول کر لی ہے۔ زمانہ جدید کے شور و غل اور ترقیوں کے شکنجے سے شہر ... Read More »

ابھی کچھ دیر پہلے

تحریر آمنہ نثار (ینگ وویمن رائٹر فورم اسلام آباد) ایم ایس اردو ہوائیں ایسے چل رہی تھیں جیسے ۔۔۔گیت گاتے ہوئے سب کے لیے خوشی کا پیغام لائی ہوں اور محبت بھرے گیت الاپ رہی ہوں۔۔۔۔زندگی پورے آب و تاب کے سا تھ چمک رہی تھی ۔۔۔پارک میںہر طرف خو ب رونق تھی ۔۔۔بہت ہی خوبصورت اور پر کشش منظر۔۔۔یہ ... Read More »

مہرو…..

وقار احمد ملک یہ قصبہ آج بھی اس بھری پری دنیا سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں صدیوں سے اداسی، خاموشی اور ویرانی کی حکومت ہے۔ یہاں کے لوگ بھی دھیمے لہجے میں باتیں کرتے ہیں ۔ وہ بولتے بھی اشد ضرورت کے وقت ہیں۔ عام طور پر معمول کی باتیں اشاروں کے ذریعے سے ہی ادا کر دی ... Read More »

برف کے ٹکڑے

ہال تماشایوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ہال میں بیٹھے لوگوں کی نظریں پردہ ء سکرین پر جمی تھی ۔سٹیج کے سامنے سے پردے ہٹا دیے گئے ۔ ڈرامے کا آغاز ہوا۔ فسوں خیز ماحول ، ہر طرف اندھیرااور مسمرائزکر دینے والی برستی بارش۔سٹیج کا منظر دیکھنے والوں کے لیے اس قدرمحوکر دینے والا تھا کہ دیکھنے والے باہر ... Read More »

“وہ “ہے

از طرف :میمونہ صدف (یہ افسانہ کتاب پلک بسیرا سےلیا گیا ) یہ جنگل کا قدرے سنسان حصہ تھا۔ اس حصے میں انسان باآسانی نہیں آپاتے تھے۔ اور شاید انسانوں کا جنگل کی تنہائیوں اور اداسیوں میں گزر بھی اب قصہء پارینہ بنتا جا رہا تھا ۔ہر طرف درخت اور ایک پر اسرار سی خاموشی تھی ایسی خاموشی جس میں ... Read More »