شاعری

تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں

تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں من ہی من تمھیں چاہنے لگی ہوں جوڑ کر نام اپنا تیرے نام سے میں تھوڑا سا اترانے لگی ہوں کھو کر تصور میں تیرے میں خود کو ہی بھول جانے لگی ہوں کہیں بھی کسی بھی محفل میں بیٹھوں خیالوں میں تجھے سنگ اپنے لیجانے لگی ہوں کروں جو کوئی لباس زیبِ تن ... Read More »

بدلا بہت ہے خود کو 

بدلا بہت ہے خود کو آج کے اطوار میں پھر بھی نا ڈھل سکی تہذیب جسکو کہتے ہیں ماڈرن ازم ہے دور جاہلیت کی اندھی تقلید وہ سب جدید تو اسلام ہے میرا رشتہ ازدواج کو اللہ نے اپنے ہونے کی نشانی بنا دیا ڈالکر فطری تقاضے بشر میں تکمیل کو نکاح کا حق دے دیا آزاد کیا مرد کو ... Read More »

زندہ رہنا اے

غزل رنگ بنا کے سب توں وکھرا رہنا اے ہاں میں نکتے اندر “زندہ رہنا اے” بھانویں پی جانا سو مکھ دی شبنم نوں پرتسے دا تسا شیشا رہنااے روزدیہاڑی پانی بھرنا شعراں نے تیجی اکھ دا وگدا دریا رہنا اے نیڑے ہو کے ویکھ لیا اے مجنوں نوں خورے کناں چر ایہ سفنا رہنا اے تیرا ساتھ نہیں دینا ... Read More »

جاندے اَو

غزل سَپّاں نال بِلَپّے گَڈّھی جاندے اَو ساہواں دے وچ زہراں نَپّی جاندے اَو لگدائے کوئی مجبوری سرتےآگئی نیں مٹی ہوکے پتھر چَبّی جاندے اَو اپنا آپ بچاون دے لئی دھرتی تے لوکاں اگے ٹوئے کَھٹّی جاندے اَو میرے شعراں نوں کیہ سولی چاڑھو جے مصرعے وچوں مصرعے کَڈّھی جاندےاَو اندر لُکی حرس دی بھکھ نوں مارن لئی اکھاں دے ... Read More »

یہ محبت کا سفر ہے

      ہم تو نکل پڑے ہیں یہ محبت کا سفر ہے منزل کی فکر نہیں یہ چاہت کا شہر ہے یک طرفہ محبت بھی عذابوں کا نگر ہے پھولوں کے نگر میں کانٹوں کا بھی ڈر ہے ملنے کی جستجو ہے کھونے کا بھی ڈر ہے آہستہ  ہیں قدم پر لمبا سفر ہے منزل ہے نا معلوم یہ ... Read More »

زرد گلابوں بھرا رستہ

 سنو اب کے جو تم ملنے آؤ گے بہت سی باتیں کرنی ہیں کچھ اپنی کہانی کہنی ہے کچھ قصے تمھارے سننے ہیں اس بار جو ملنے آؤ تو پھر لوٹ کے تنہا مت جانا کچھ شعر ہمارے لے جانا کچھ نغمے اپنے دے جانا دسمبر کی سرد شاموں میں لمبی کالی راتوں میں جب یاد تمھاری ستائے گی اور ... Read More »

*صحرا جیسی میری ذات

*صحرا جیسی میری ذات چھوڑ دے ساجن میرا ہات جن پھولوں کو سینچا میں نے ان کو کھٹکے میری ذات کاٹ رہے ہیں میرا رستہ جن کی خاطر کھائی مات بادل ان کے آنگن برسے میری آنکھ میں جل تھل رات سورج کو آنگن میں دیکھا ڈر کر اوڑھی میں نے رات بھول گئی سب رشتے ناطے تنہائی ہے میرے ... Read More »

 لبوں کو سی لیا پھر بھی شکایت ہو گئی آخر

لبوں کو سی لیا پھر بھی شکایت ہو گئی آخر ترے گالوں کو چھونے کی شرارت ہو گئی آخر سنو جاناں ترے نقشِ قدم کے سب وسیلےسے مجھے اب شعر کہنے میں سہولت ہو گئی آخر ترے شیریں بدن کو سوچتا رہتا ہوں گھنٹوں تک مجھے لگتا ہے یوں تجھ سے محبت ہوگئی آخر مری سانسیں ترے اب نام پر ... Read More »

تم اتنے مطمئن کیسے ہو صاحب

تم اتنے مطمئن کیسے ہو صاحب میرا جسم ہی نہیں روح بھی جل رہی ہے لگا تھا میلہ جواپنوں کا وہاں سے کچھ آگ ہم نے سمیٹی تھی نئی منزلوں کی جستجو میں زمانے کی خاک ہم نے سمیٹی ہے مگر وہ سب تو لعل و جواہر نکلے زمانے نے پتھر جو ہم پر اچھالے تھے کبھی کسی سے دل ... Read More »

ڈو ب گئے سپنے جو چاہتوں کے آفتاب تھے

 وہ جو میرے حلقہ احباب میں تھے تعلق جتنے بھی عہد شباب میں تھے ایک جھر مٹ تھا میرے گرد کچھ اسطرح فلک پہ تا رے حلقہ مہتاب میں تھے دشت صحرا سبھی گزر گاہوں سے میں گزرا پڑ ھے سبق جو محبت کے نصاب میں تھے شاہراہ مستقیم پر زندگی گزاری پھر بھی گناہ زیا د ہ میرے حاصل ... Read More »