غزل

دن کوئی گزارا جائے

بوجھ کچھ دل سے محبت کا اتارہ جائےکوچہ یار میں دن کوئی گزارا جائے اس محبت میں تو دل ٹوٹنا ہے عام سی باتبچ کے رہنا کہ نہ دل ٹوٹ تمہارا جائے دیکھنا کیسے مری جان میں جاں آتی ہےاس کے ہونٹوں سے مرا نام پکارا جائے یہ تو ممکن نہیں درویش محبت نہ کرےمجھ سے درویش کو چوراہے پہ ... Read More »

تحفہ ء عید

تاز ڈاکٹر مقصود جعفریاہلِ جنوں بھی صاحبِ ادراک ہو گئےچالاک تو نہیں تھے پہ چالاک ہو گٸےدریا سے ہم کو اذنِ روانی ملا تو ہمسیلِ رواں پہ موجہء بے باک ہو گئےتب جا کے ہم کو رنگِ گُلِ سرمدی ملاجب شاخِ گُل پہ غنچہ ء صد چاک ہو گئےمیری فغاں سے شہرِ خموشاں میں غلغلہنالے بھی میرے گنبدِ افلاک ہو ... Read More »

رشکِ چمن

تازہ غزل ڈاکٹر مقصود جعفری کیا رشکِ چمن آج وہ گزرا ہے ادھر سےپھولوں کی مہک آتی ہے ہر راہگزر سے آتی ہے شبِ وصل شبِ ہجر کے پیچھےچھٹتے ہیں اندھیرے بھی رُخ نورِ سحر سے کشکول سے ہوتی نہیں اقوام کی عزتتعظیم ہے قوموں کی فقط کاسہءسر سے تُم راکھ میں کیوں ڈھونڈتے پھرتے ہو تپش کویہ گرمی ء ... Read More »

گزرا ہوں جن سے سارے وہ عذاب لکھوں

دل چاہتا ہے گناہ لکھوں اور ثواب لکھوں گزرا ہوں جن سے سارے وہ عذاب لکھوں جاگتی آنکھوں سے دیکھے تھے جو خواب ان کی تعبیر لکھو یا پھر وہ خواب لکھوں جسکی دید سے بے چین دل کو قرار آجاۓ کیو نہ اس چہرے کو میں مہتاب لکھوں جس پہ مر مٹنے کے لئے پروانے بے شمار ہوں ایسےحسن ... Read More »

اندیشہِ جاں

کبھی تجھ کو ۔۔۔۔۔۔ یہاں اندیشہِ جاں تھا پہلے؟ یہ مرا دل تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تری جائے اماں تھا پہلے ایسا لگتا ہے چڑھا اس پہ ترے عشق کا رنگ دل کو جس رنگ میں دیکھا ہے، کہاں تھا پہلے عشقِ سوزاں کی ہوئی خاص عنائت مجھ پر ہے جہاں راکھ ، مرا حُجرہ وہاں تھا پہلے کائیناتیں جہاں اب وجد ... Read More »

سایہ

*غزل* کروٹ بدلی، سایہ گُم تھا مُجھ میں وہ کُچھ اتنا گُم تھا ہاتھ میں پانی لے کر نکلی پیاس بُجھی اور صحرا گُم تھا کتنا سادہ ایک پرندہ کس سے جانے بِچھڑا،گُم تھا ایک جہان سمندر صورت مجھ میں دیکھو کیا کیا گُم تھا روح پہ جو بھی بیتی رہ گئی کاغذ پہ جو لِکھا، گُم تھا اب تھا ... Read More »

دساں کی

÷÷÷÷÷ پنجابی غزل ÷÷÷÷÷ سجناں تینوں دساں کی سوت نئیں تے کتاں کی ہوکے چار چفیرے نیں رو وے اکھ تے ہساں کی تیرا پیار اثاثہ اے کول اپنے میں رکھاں کی قید مقدر میرا اے توڑ کے پنجرا نساں کی سجناں ساری عمر ونجا کے جگ میلے تے لبھاں کی ڈبی خلقت بارش پاروں بدل سوچے وساں کی روح ... Read More »

الزام لگاٶ تم

اب جو من میں آئے وہ الزام لگاٶ تم اب جو دل کرے وہ بات سناٶ تم نم میری آنکھ اب نہ ہو گی دیکھنا جتنے چاہو اتنے طعنے بھی سناٶ تم بےترتیب سی تھی جو دشمنی تیری سنو اسے اب اچھے سے نبھاٶ تم کھیلتے تھے کھیل پیٹھ پیچھے جو وہ کھیل سرعام کھیل کر دکھاٶ تم دیکھواب چپ ... Read More »

غم

کشت غم تجھ کو ثمر بار بنانے کے لیے تھا نم جو آنکھوں میں مری خواب اگانے کے لیے تھا وہ تماشا بھی جہاں دانے اچھالے گئے تھے کچھ پرندوں کو فقط دام میں لانے کے لیے تھا ہم کسی دشت سے گزرے تھے وہیں کے ہو رہے جو سفر تھا وہ کہیں اور ہی جانے کے لیے تھا لوگ ... Read More »

ترا پیغام

سمجھ میں یوں ترا پیغام آ بھی جاتا ہے مگر نگاہ میں انجام آبھی جاتا ہے۔ یہ سچ ہے سچ کو زمانے میں کبھی آنچ نہیں کبھی کبھی مگر الزام آ بھی جاتا ہے۔ کبھی دوایٸں مرض کو بڑھا بھی دیتی ہیں کبھی دعاٶں سے آرام آ بھی جاتا ہے۔ سفر میں حسن طلب جس کا زاد راہ نہ ہو ... Read More »