غزل

غزل

ڈاکٹر مقصود جعفریایک مدّت سے ہیں زیرِ آسماں بیٹھے ہوۓخانۂ برباد میں بے خانماں بیٹھے ہوۓکار واں کی کوئی منزل ہے نہ رہبر ہے کوئیمنتظررہبر کے ہیں اب کارواں بیٹھے ہوۓبات کرنے پر یہاں تو کاٹ دیتے زباںبزمِ شاہی میں سبھی ہیں بے زباں بیٹھے ہوۓداستانِ دردِ دل جن کو سنائی شوق سےکیا خبر تھی وہ بھی ہوں گے بد ... Read More »

مطلبی ہے

ہے مطلب سے بھری دنیا فسانہ مطلبی ہےاجی بچ کے یہاں رہنا زمانہ مطلبی ہے وہاں پر عشق کی دنیا مگر کیسے بسے گیجہاں معشوق ہر جائی دیوانہ مطلبی ہے کہ اتنا مطلبی ہے وہ زمانہ جانتا ہےکہ اس کی سوچ کے دھارے نشانہ مطلبی ہے روایت ہرجگہ دیکھو یہ کیسی چل پڑی کہروابط مطلبی ہیں دوستانہ مطلبی ہے جہاں ... Read More »

مہکار بن جاٶ

تازہ غزلڈاکٹر مقصود جعفرینظامِ زر کو کر دو دفن اور تیّار ہو جاؤنکل کر اب گھروں سے بر سرِ پیکار ہو جاؤکہاں تک اِن لُٹیروں کی قیادت پر کریں تکیہطلسمِ زر کو توڑو دُشمنِ زر دار ہو جاؤتمہارا عکس ماہِ نیم شب میں ضوفشاں ہو گاکسی کی چشمِ پُر نم کے اگر شہکار ہو جاؤکوئی ناصح بنا ہے اور کوئی ... Read More »

اجنبی

وہ اجنبی تھا لیکن , وہ بے خبر نہیں تھامیرے ساتھ چلنے والا میرا ہم سفر نہیں تھا اچھے تو دن بھی آتے , غم سارے ٹل بھی جاتےدعو ے بہت تھے لیکن , اس کو صبر نہیں تھا خوشبو ,ہوا اور بادل, وہ گاوں کے نظارےہم نے نہ مڑ کے دیکھا , تو جو ادھر نہیں تھا قدموں میں ... Read More »

بعد مرنے کے

ڈاکٹر مقصود جعفری بعد مرنے کے چارہ گر آیایُوں ہی الزام میرے سر آیا لوٹ کر جب بھی دیکھا ماضی میںیاد مجھ کو وہ ہمسفر آیا کیوں نہ آنکھیں بچھاؤں راہوں میںمجھ سے ملنے وہ میرے گھر آیا زندگی نے یہ موت سے پوچھانخلِ توبہ پہ کیا ثمر آیا جس کو دیکھو بنا ہؤا ہے خداعرش سے کیا خدا اتر ... Read More »

ڈر لگتا ہے

ڈاکٹر مقصود جعفری یوُں نہیں ہے کہ مجھے خار سے ڈر لگتا ہے اب مجھے پھولوں کی مہکار سے ڈر لگتا ہے ہم تو ٹھوکر سے فصیلوں کو گرا دیتے تھے اور اب سایہء دیوار سے ڈر لگتا ہے اب کہاں آنکھ جھپکتے ہی کریں سیرِفلک چرخِ کجرو تری رفتار سے ڈر لگتا ہے رقص کرتے ہوۓ جاتے ہیں سرِ ... Read More »

ہم نے وفا نبھائ

تازہ غزلڈاکٹر مقصود جعفری ہم نے وفا نبھائ ہے اک بے وفا کے ساتھدل کو لگا کے دیکھ لیا دلربا کے ساتھ ممکن تھا شاہ رگ کو رگِ گُل سے کاٹنالیکن وہ کاٹتے رہے تیغِ جفا کےساتھدار و رسن کو پیش کیا اِس طرح خراجنوکِ سناں سجائ سرِ رہنما کے ساتھ یہ تو طلسمِ سامری سے بڑھ کے ہے طلسماک ... Read More »

تُو جو روٹھا ہے

تازہ غزلڈاکٹر مقصود جعفریتُو جو روٹھا ہے تو اب تجھ کو منائیں کیسےناز بردار ترے ناز اُٹھائیں کیسے بات کرتے ہوۓ ہم خود ہی لرز جاتے ہیںبات کچھ ایسی بھیانک ہے سنائیں کیسے اب تو تاریکیِ شب اپنا مقّدر ٹھہریدیپ جو تُو نے بجھا ۓ وہ جلائیں کیسےسرِ ساحل جو کھڑے ہیں وہ تماشائ ہیںناخدا ڈوبنے والوں کو بچائیں کیسے ... Read More »

رحمت یزداں

ڈاکٹر مقصود جعفری جو رحمتِ یزداں ہے کفِ جُود و کرم میںفرعون کو حاصل ہے کہاں جور و ستم میں وہ تجھ کو ترے قلبِ شکستہ میں ملے گاتُو ڈھونڈتا پھرتا ہے جسے دیر و حرم میںتُو واقفِ تادیبِ قلم ہی نہیں شایدہے بُرّشِ شمشیر مری نوکِ قلم میں وہ آفتِ جاں ہے کہ کئ چھوڑ کے دُنیابستے ہی چلے ... Read More »

جب بدل جاتا ہے دل

ڈاکٹر مقصود جعفریوہ تصوّر میں بھی آئیں تو مچل جاتا ہے دلدرمیانِ قعرِ دریا بھی اُچھل جاتا ہے دلمُضطرب دل کا سنبھلنا چارہ گر آساں نہیںہاتھ وہ سینے پہ رکھّیں تو سنبھل جاتا ہے دلآنسوؤں کے سیلِ تُند و تیز کو آنسو نہ کہہموجِ خونیں بن کے آنکھوں سے نکل جاتا ہے دل تُو کہ ہے ناواقفِ جذباتِ اربابِ چمنجب ... Read More »