غزل

راتی اک تصویر تے چھالے نکلے نیں

غزل راتی اک تصویر تے چھالے نکلے نیں یعنی رتڑے نیر تے چھالےنکلے نیں قیدی اوکھے ساہ نیں کڈھے قیداں وچ قیدی دی زنجیر تے چھالے نکلے نیں خورے ایہدے اتوں بندہ لنگھیااے جہڑا ایس لکیر تے چھالے نکلے نیں ماڑے دے ہتھ پھل،خشبوواں اُگیاں سن تگڑے دی جاگیر تے چھالے نکلے نیں تائیوں جُسے نیلک ہوندی جاندی سو اوہدی ... Read More »

*صحرا جیسی میری ذات

*صحرا جیسی میری ذات چھوڑ دے ساجن میرا ہات جن پھولوں کو سینچا میں نے ان کو کھٹکے میری ذات کاٹ رہے ہیں میرا رستہ جن کی خاطر کھائی مات بادل ان کے آنگن برسے میری آنکھ میں جل تھل رات سورج کو آنگن میں دیکھا ڈر کر اوڑھی میں نے رات بھول گئی سب رشتے ناطے تنہائی ہے میرے ... Read More »

 لبوں کو سی لیا پھر بھی شکایت ہو گئی آخر

لبوں کو سی لیا پھر بھی شکایت ہو گئی آخر ترے گالوں کو چھونے کی شرارت ہو گئی آخر سنو جاناں ترے نقشِ قدم کے سب وسیلےسے مجھے اب شعر کہنے میں سہولت ہو گئی آخر ترے شیریں بدن کو سوچتا رہتا ہوں گھنٹوں تک مجھے لگتا ہے یوں تجھ سے محبت ہوگئی آخر مری سانسیں ترے اب نام پر ... Read More »

ڈو ب گئے سپنے جو چاہتوں کے آفتاب تھے

 وہ جو میرے حلقہ احباب میں تھے تعلق جتنے بھی عہد شباب میں تھے ایک جھر مٹ تھا میرے گرد کچھ اسطرح فلک پہ تا رے حلقہ مہتاب میں تھے دشت صحرا سبھی گزر گاہوں سے میں گزرا پڑ ھے سبق جو محبت کے نصاب میں تھے شاہراہ مستقیم پر زندگی گزاری پھر بھی گناہ زیا د ہ میرے حاصل ... Read More »

میں جب بھی بات کرتا ہوں 

میں جب بھی بات کرتا ہوں دل کومحو منا جات کرتا ہوں میں جس نظریے کا دا عی ہوں دل سے اظہار  خیالا ت کرتا ہوں دل سے نکلے الفاظ بولتا ہوں میں کونسے کما لا ت کرتا ہوں اخلاص کے معنی جو سمجھتا ہو میں اسی سے ملا قات کرتا ہوں لوگ چہرے پہ  خول چڑ ھا لیتے ہیں ... Read More »

آدمی کو آدمی کے ہاتھ مروایا گیا

مصلحت کا جب کہیں بازار سجوایا گیا ہم انا کیشوں سے اس جانب نہ پھر جایا گیا  اور پھر وہ محل آثار قدیمہ ہو گئے جب محبت کو پس دیوار چنوایا گیا خواب دکھلائے گئے اور خاک اڑوائی گئی زندگی کے نام پر کیا رقص کروایا گیا نام پھر اشراف نے اس کا طوائف رکھ دیا وہ جسے نوچا گیا ... Read More »

محبت

(ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم ) ارے سوال اس کی محبت کا ہرگز نہیں تھا بات اس کے تقاضوں کی تھی تو چھوڑ دیا اس نے بات بات پہ مجھے رسوا کیا پہلے پہل میں نے اسے اپنا کہنا چھوڑ دیا میں بھی صاحب کردار ہی تھا محبت سے پہلے اس ایک بات سے کہانی نے نیا موڑ لیا پھر ... Read More »

کاغذ کی ناؤ

کاغذ کی ناؤ ہے سفر ہے پانیو ں کا امیر کا بر تا ؤ ہے صبر ہے کار وانیو ں کا جذبہ ا طا عت میں سر تسلیم خم ہے لشکر گہرا جو گھا ؤ ہے اثر ہے بد گما نیو ں کا دلو ں میں مر و ت نہیں اور احساس ختم شد رشتو ں میں الجھا ؤ ہے ... Read More »

بہت ہی خوبصورت ہو گئی ہوں 

بہت ہی خوبصورت ہو گئی ہوں میں جب سے با مروّت ہو گئی ہوں مرے جزبے سنبھلتے جا رہے ہیں میں اب لڑکی سے عورت ہو گئی ہوں کسی گہرے سمندر کی طرح میں کوئی خاموش طاقت ہو گئی ہوں میں پڑھتی جا رہی ہوں سب کے چہرے اگرچہ خود عبارت ہو گئی ہوں گرا یا تھا اگرچہ تم نے ... Read More »

اے محبت! تجھے خدا حافظ

ہائے! یہ کس طرح کا جزبہ تھا رات دن جس نے مجھ کو تڑپایا کبھی جی بھر کے مجھ کو خوشیاں دیں اور کبھی درد بے شمار دئیے کبھی اوڑھا دئیے سہانے رنگ اور کبھی لمحے بیقرار دئیے ان گنت خواہشوں کے خواب بُنے بے بہا دھڑکنوں کو چلنے دیا خوب ساری ہوا میں سانس لیا خوب جھگڑے،ہزار باتیں کیں ... Read More »