غزل

بعد مرنے کے

ڈاکٹر مقصود جعفری بعد مرنے کے چارہ گر آیایُوں ہی الزام میرے سر آیا لوٹ کر جب بھی دیکھا ماضی میںیاد مجھ کو وہ ہمسفر آیا کیوں نہ آنکھیں بچھاؤں راہوں میںمجھ سے ملنے وہ میرے گھر آیا زندگی نے یہ موت سے پوچھانخلِ توبہ پہ کیا ثمر آیا جس کو دیکھو بنا ہؤا ہے خداعرش سے کیا خدا اتر ... Read More »

ڈر لگتا ہے

ڈاکٹر مقصود جعفری یوُں نہیں ہے کہ مجھے خار سے ڈر لگتا ہے اب مجھے پھولوں کی مہکار سے ڈر لگتا ہے ہم تو ٹھوکر سے فصیلوں کو گرا دیتے تھے اور اب سایہء دیوار سے ڈر لگتا ہے اب کہاں آنکھ جھپکتے ہی کریں سیرِفلک چرخِ کجرو تری رفتار سے ڈر لگتا ہے رقص کرتے ہوۓ جاتے ہیں سرِ ... Read More »

ہم نے وفا نبھائ

تازہ غزلڈاکٹر مقصود جعفری ہم نے وفا نبھائ ہے اک بے وفا کے ساتھدل کو لگا کے دیکھ لیا دلربا کے ساتھ ممکن تھا شاہ رگ کو رگِ گُل سے کاٹنالیکن وہ کاٹتے رہے تیغِ جفا کےساتھدار و رسن کو پیش کیا اِس طرح خراجنوکِ سناں سجائ سرِ رہنما کے ساتھ یہ تو طلسمِ سامری سے بڑھ کے ہے طلسماک ... Read More »

تُو جو روٹھا ہے

تازہ غزلڈاکٹر مقصود جعفریتُو جو روٹھا ہے تو اب تجھ کو منائیں کیسےناز بردار ترے ناز اُٹھائیں کیسے بات کرتے ہوۓ ہم خود ہی لرز جاتے ہیںبات کچھ ایسی بھیانک ہے سنائیں کیسے اب تو تاریکیِ شب اپنا مقّدر ٹھہریدیپ جو تُو نے بجھا ۓ وہ جلائیں کیسےسرِ ساحل جو کھڑے ہیں وہ تماشائ ہیںناخدا ڈوبنے والوں کو بچائیں کیسے ... Read More »

رحمت یزداں

ڈاکٹر مقصود جعفری جو رحمتِ یزداں ہے کفِ جُود و کرم میںفرعون کو حاصل ہے کہاں جور و ستم میں وہ تجھ کو ترے قلبِ شکستہ میں ملے گاتُو ڈھونڈتا پھرتا ہے جسے دیر و حرم میںتُو واقفِ تادیبِ قلم ہی نہیں شایدہے بُرّشِ شمشیر مری نوکِ قلم میں وہ آفتِ جاں ہے کہ کئ چھوڑ کے دُنیابستے ہی چلے ... Read More »

جب بدل جاتا ہے دل

ڈاکٹر مقصود جعفریوہ تصوّر میں بھی آئیں تو مچل جاتا ہے دلدرمیانِ قعرِ دریا بھی اُچھل جاتا ہے دلمُضطرب دل کا سنبھلنا چارہ گر آساں نہیںہاتھ وہ سینے پہ رکھّیں تو سنبھل جاتا ہے دلآنسوؤں کے سیلِ تُند و تیز کو آنسو نہ کہہموجِ خونیں بن کے آنکھوں سے نکل جاتا ہے دل تُو کہ ہے ناواقفِ جذباتِ اربابِ چمنجب ... Read More »

راہ میں بیٹھے ہوۓ لوگ

گم نہ ہوتے کبھی گم راہ پہ بیٹھے ہوئے لوگدیکھ لیتے جو در_شاہ پہ بیٹھے ہوئے لوگ جب بھی آتا ہوں مرے دل کو قرار آتا ہےکتنے اچھے ہیں یہ درگاہ پہ بیٹھے ہوئے لوگ یہ بھی ممکن ہے ترے حسن کی تمثیل نہ ہوتکتے رہتے ہیں تجھے راہ پہ بیٹھے ہوئے لوگ تم نے دل توڑا خدا خیر کرے ... Read More »

عجیب لڑکی

جس پہ تھی جاں نثار وہ لڑکی عجیب تھیکرتی تھی مجھ سے پیار وہ لڑکی عجیب تھی ہر روز مجھ سے یارو ملاقات کے لیےرہتی تھی بےقرار وہ لڑکی عجیب تھی کہہ کر مجھے کہ آپ سے اب بولنا نہیںروتی تھی زارو زار وہ لڑکی عجیب تھی بن سوچے سمجھے اپنی وہ مہنگی سی چیز بھیدیتی تھی مجھ پہ وار ... Read More »

صباجانے

تازہ غزلڈاکٹر مقصود جعفری(ادب نواز احباب کی نذر) گُلوں سے کس کو محبّت ہے یہ صبا جانےہمارے دل کا کوئ کیسے ماجرا جانے مقامِ دار و رسن یُوں ہی کب ملا ہے مجھےمیں جس مقام پہ پہنچا ہوں کوئ کیا جانے گزر رہی ہے ہماری یہ زندگی کیسےجو گزرے ہم پہ حوادث تری بلا جانےرفیقِ شب تھا مرا اس سے ... Read More »

دن کوئی گزارا جائے

بوجھ کچھ دل سے محبت کا اتارہ جائےکوچہ یار میں دن کوئی گزارا جائے اس محبت میں تو دل ٹوٹنا ہے عام سی باتبچ کے رہنا کہ نہ دل ٹوٹ تمہارا جائے دیکھنا کیسے مری جان میں جاں آتی ہےاس کے ہونٹوں سے مرا نام پکارا جائے یہ تو ممکن نہیں درویش محبت نہ کرےمجھ سے درویش کو چوراہے پہ ... Read More »