غزل

دھیان میں آکر بیٹھ گئے ہو، تم بھی ناں*

*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎* *دھیان میں آکر بیٹھ گئے ہو، تم بھی ناں* *مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو، تم بھی ناں* *ہر منظر میں اب ہم دونوں ہوتے ہیں* *مجھ میں ایسے آن بسے ہو، تم بھی ناں* *عشق نے یوں دونوں کو ہم آمیز کیا* *اب تو تم بھی کہہ دیتے ہو، تم بھی ناں* *خود ہی کہو ... Read More »

تو ہے کہاں

متلاشی سی غزل ہو کس ڈگر پہ چل پڑے قدموں کے میں ڈھونڈوں نشاں ملتا نہیں تیرا پتہ میں ہوں یہاں تو ہے کہاں جانا ہے گر تو جائیے آنا ہو گر لوٹ آئیے بیمار کی حالت حزیں تم پہ تو ہے سالم عیاں آوارگی عادت بنی گمنامی ہی شہرت بنی تم ہی نہیں واقف صنم پر جانتا سارا جہاں ... Read More »

یہ درد مرا درد بڑھانے کے لئیے ہے۔

  ہر فرد کہانی میں فسانے کے لئیے ہے۔ ہر چیز زمانے میں سکھانے کے لئیے ہے۔ ممکن تھا کہاں رہتا ادھورا سا یہ جذبہ یہ درد مرا درد بڑھانے کے لئیے ہے۔ اےدل! ترے گھر میں جو یہ رہتی ہے ہنسی وہ وہ صرف زمانے کو دِکھانے کے لئیے ہے۔ لوگوں کی طرح جینا مجھے راس نہ آیا محفل ... Read More »

اسے یہ کہنا

اُن سے ملنے تو گئے اور ملاقات نہ کی شہرِ خوباں میں بسر ہم نے کوئی رات نہ کی ہم نے چپ چاپ بھی چاہا ہے کئی لوگوں کو یہ الگ بات کہ تشہیرِ خیالات نہ کی سامنا ہم کو رہا شہر میں رسوائی کا تیری بدنام محبت میں مگر ذات نہ کی یہ تو اندازِ محبت تھا تغافل تو ... Read More »

کرب کا کوئی لمحہ آخری نہیں ہوتا

کرب کا کوئی لمحہ آخری نہیں ہوتا نارسائیوں کا دکھ عارضی نہیں ہوتا واجبی محبت سے عشق کی مسافت پر دل ہے اور دل میں کچھ واجبی نہیں ہوتا شب زدہ چراغوں کو تیرگی جلاتی ہے روشنی کا ہالہ خود روشنی نہیں ہوتا بدگمان آنکھوں کے وسوسوں کی زد میں ہے آج کل حویلی میں آدمی نہیں ہوتا بے لباس ... Read More »

جو رت جگے کی صلیبوں پہ آ بسا ہو گا

جو رت جگے کی صلیبوں پہ آ بسا ہو گا کسی نے آنکھوں کا سپنا بنا لیا ہو گا دھرے نہ کان کسی نے بھی التجا پہ مری “گمان تھا کہ ہر اک شخص ہمنوا ہو گا” بجھانے آئی تھیں صر صر کی آندھیاں جس کو اسی نے سانسوں پہ پہرہ بٹھا دیا ہو گا جو دل پہ گذری سبھی ... Read More »

تصوّر کہکشاں ہوتا نہیں ہے 

تصوّر کہکشاں ہوتا نہیں ہے تُو مجھ سے اب بیاں ہوتا نہیں ہے۔ تڑپ میری جبیں کی بڑھ گئی ہے مگر تُو آستاں ہوتا نہیں ہے مری قسمت میں ہے جلتا ستارہ بکھر کے جو دُھواں ہوتا نہیں ہے مری سانسوں میں تُو اٹکا ہوا ہے طبیعت میں رواں ہوتا نہیں ہے خوشی اب بھی مجھے ہوتی ہے لیکن وہ ... Read More »

راتی اک تصویر تے چھالے نکلے نیں

غزل راتی اک تصویر تے چھالے نکلے نیں یعنی رتڑے نیر تے چھالےنکلے نیں قیدی اوکھے ساہ نیں کڈھے قیداں وچ قیدی دی زنجیر تے چھالے نکلے نیں خورے ایہدے اتوں بندہ لنگھیااے جہڑا ایس لکیر تے چھالے نکلے نیں ماڑے دے ہتھ پھل،خشبوواں اُگیاں سن تگڑے دی جاگیر تے چھالے نکلے نیں تائیوں جُسے نیلک ہوندی جاندی سو اوہدی ... Read More »

*صحرا جیسی میری ذات

*صحرا جیسی میری ذات چھوڑ دے ساجن میرا ہات جن پھولوں کو سینچا میں نے ان کو کھٹکے میری ذات کاٹ رہے ہیں میرا رستہ جن کی خاطر کھائی مات بادل ان کے آنگن برسے میری آنکھ میں جل تھل رات سورج کو آنگن میں دیکھا ڈر کر اوڑھی میں نے رات بھول گئی سب رشتے ناطے تنہائی ہے میرے ... Read More »

 لبوں کو سی لیا پھر بھی شکایت ہو گئی آخر

لبوں کو سی لیا پھر بھی شکایت ہو گئی آخر ترے گالوں کو چھونے کی شرارت ہو گئی آخر سنو جاناں ترے نقشِ قدم کے سب وسیلےسے مجھے اب شعر کہنے میں سہولت ہو گئی آخر ترے شیریں بدن کو سوچتا رہتا ہوں گھنٹوں تک مجھے لگتا ہے یوں تجھ سے محبت ہوگئی آخر مری سانسیں ترے اب نام پر ... Read More »