نظم

بدل رہے ہیں

سلسلے متواتر بدل رہے ہیں رفاقت کے اب تو آثار نظر آتے ہیں رقابت کے پہلے پہل تو وہ ہر روز ملا کرتے تھے نہ جانے کیا ہوا اب *دَور* گئے خط و کتابت کے دل کیسے نہ ہو پریشان اس کے روٹھنے پہ کے وہ جناب بہت ضدی ہیں عادت کے ہم ملنے چلے بھی جاتے ان کے کوچے ... Read More »

پرسکون رہتا ہے

میری بگڑی صورت بگڑے حال پہ پرسکون رہتا ہے مجھے کوئی دیکھے نہ وہ اکثر مجھے کہتا ہے مجھے درد میں دیکھ نہیں سکتا وہ مہرباں میری آہ پہ اشک اس کی آنکھ سے بہتا ہے میرے لیے جینے کی خواہش رکھنے والا وہ میرے خواہش کے مطابق خود کو بدلتا ہے جب مخاطب ہوتی ہوں میں کسی اور سے ... Read More »

ڈرتی ہوں

رونے کی خواہش ہونے پر بھی ہنستی ہوں تیرے اداس ہونے سے دیکھو کتنا ڈرتی ہوں تم تو جھٹک کر بدل لیے ہو راستے مگر مجھے دیکھو میں تو اسی راہ پہ چلتی ہوں تم تو وہی کرتے ہو جو خواہشِ قلب ہو مگر میں جیسے تم چاہو اسی سانچے میں ڈھلتی ہوں تم اک بار ہی فقط الفت کی ... Read More »

ﺟﺎﺋﯿﮟ

ﺁﭖ ﺩﻝ ﺟﻮﺋﯽ ﮐﯽ ﺯﺣﻤﺖ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ رﻭ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﻧﮧ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺭُﻻﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻠﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺟﺪﺍ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﭖ ﺁ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻼﺋﯿﮟ ، ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺣﺠﺮﮦ ﺀ ﭼﺸﻢ ﺗﻮ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﺑﻨﺪ ﮐﯿﺎ آﭖ ﺗﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﻭ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ اﺗﻨﺎ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻔﺎ ... Read More »

پیامِ اقبال اور تقلید

علامہ صاحب کو نذرانہ ء عقیدت نظم…. کسے سنائیں حقیقت ہم آپ کی اقبال پڑھی جوصورتِ اشعار شاعری اقبال شعور و فہم کا قصہ تو ہو گیا ماضی بنے ہیں عقل سے عاری وطن کے سب قاضی نہیں کہ جوش میں آتا نہیں لہو ان کا نہ تیرا عشق ہے ان کا نہ ہے سبو ان کا وطن نہیں یہ ... Read More »

فساد بہت

اس پیٹ نے کر رکھے ہیں فساد بہت کوئی بنا ہے باغی تو کوئی آزاد بہت ہر کسی کے اپنے ہی رونے ہیں یہاں سب کے کم زیادہ کھانے کے تضاد بہت ارے یہ دنیا امتحان گاہ ہے لوگوں یہاں آباد کم ہیں اور برباد بہت شکر کے پیکر بن جاٶ تو بہتر ہے ورنہ یہاں پہلے ہیں فساد بہت ... Read More »

سلام بحضور امام عالی مقام رضی اللہ عنہ

سلا م بحضور امام ِ عالی مقام رضی اللہ عنہ عقیدت کے محور، حسین ابنِ حیدر شہیدوں کے رہبر ، حسین ابنِ حیدر کریں دینِ حق کے لئے کربلا میں فِدا تَن بَہتَّر ، حسین ابنِ حیدر سواری کریں دوش پر مصطفی کے ہیں زہرا کے دلبر، حسین ابنِ حیدر یہ کہتے ہوئے آگئے حضرتِ حُر بنا دو مقدر ، ... Read More »

رستی ہوئی سسکیاں

(شیخ خالد زاہد) بند دروازوں اور کھڑکیوں سے رستی ہوئی سسکیاں یہاں سیکڑوں میل دور سماعتوں پر دستک دے رہی ہیں سسکیاں جب شور کی صورت اختیار کرلینگی تویہ سارے بند کھڑکیاں اور دروازے توڑ دینگی پھر ایسا شور ہوگا کہ کچھ سنائی نہیں دیگا، نا ہی سجھائی دیگا سماعتوں سے، ساری حسوں سے محروم کردینگی ایک میدانِ حشر، روزِ ... Read More »

واہ نہ کرو

 میرے لفظوں پہ واہ نہ کرو سنو تم  تو یہ خطا نہ کرو محسوس کرو ان لفظوں کو تم تو جناب اب ایسا نہ کرو لوگ کریں تو خیر لوگ ٹھرے تم تو اب شکوہ کیا نہ کرو جوڑ کر ہاتھ بیٹھ گئے تھے ہم اس لمحے کو تو بھولا نہ کرو غلام ہم تیرے حکم کر کے دیکھو بس ... Read More »

کاغذ کا ٹکڑا

کاغذ کا ٹکڑا پکڑے پینسل تھامے ہوئے سامنے موبائل رکھے صحن میں بیٹھ کر یہ سوچ رہی ہوں کس اوور جارہی ہے زندگی کیا ہو رہا ہے آج کل کس طرف منزل ہے کیا داستان ہے کیسی ہے کہانی میری کیا لکھوں اب کے کس طرف کاروان زندگی مجھے کھینچ کر لیے جا رہا ہے الجھ سی گئی ہے ڈور ... Read More »