نظم

جمہوریت

دیکھو انہیں تم معصومیت سے تمہیں تک رہے ہیں سنو غور سے تم یہ کیا فریاد کر رہے ہیں جمہوریت کا دیکر یہ دھوکہ آمریت سے بدتر سلوک کر رہے ہیں بہت جھوٹ بولا الیکشن سے پہلے بہت سبز باغ دیکھائے انہوں نے تمہیں محروم کر رزق سے گودام اپنے یہ بھر رہے ہیں تعلیم سے محروم کردیا ہمیں انکے ... Read More »

ماڈرن ازم

بدلا بہت ہے خود کو آج کے اطوار میں پھر بھی نا ڈھل سکی تہذیب جسکو کہتے ہیں ماڈرن ازم ہے دور جاہلیت کی اندھی تقلید وہ سب سے جدید تو اسلام ہے میرا قرآن میں سورہ مریم نے عورت کو تکریم بخش دی سورہ النساء نے عورت کا مقام بتا دیا رشتہ ازدواج کو اللہ نے اپنے ہونے کی ... Read More »

ماں

جانتی  ہو ماں تمہیں میں  کتنا یاد کرتی ہوں جہاں تم تھی وہاں تم کو تلاش کرتی ہوں تیرا لمس ابھی تک بھولی نہیں ہوں ماں دور  نہیں ہو پر  نظر کیوں  نہیں آتی ہو ماں تجھے بچھڑے وقت مسلسل گزر رہا ہے ملنے کو تجھے دل میرا مچل رہا ہے تیرا چہرہ تیری باتیں بھولی کہاں ہوں ماں مگر ... Read More »

آرزو…

آج پھر رات کے پہلو میں تیری یادوں کا بسیرا ہے ہر لمحہ طویل ہو رہا ہے جیسے انتظار ہو رہا ہے ہجر کے آسیب میں ڈوبی رات کا تم بتاؤ… بھلا کب ہوا سویرا ہے چاند سے محو گفتگو اک ستارہ ہے جو ہنستا ہے میری بے بسی پہ شاید وہی اک ہمارا ہے چاند کی موجودگی میں بھی ... Read More »

میں روتی نہیں

میں روتی نہیں خاموش رہتی ہوں جتنے بھی ہوں غم ہنس کے سہتی ہوں میں ہوں عورت حوا کی بیٹی ہوں نکل کر جنت سے آدم تنہا زمین پر بہت رویا تھا مٹانے اسکی تنہائی زمین پر اللہ نے حوا کو بھیجا تھا پھر چلا سلسلہ معاشرت کا وجود آیا زمین پر جب عورت کا رکھی طاقت اللہ نے جو ... Read More »

سنو

اب کے جو تم ملنے آؤ گے بہت سی باتیں کرنی ہیں کچھ اپنی کہانی کہنی ہے کچھ قصے تمھارے سننے ہیں اس بار جو ملنے آؤ تو پھر لوٹ کے تنہا مت جانا کچھ شعر ہمارے لے جانا کچھ نغمے اپنے دے جانا دسمبر کی سرد شاموں میں لمبی کالی راتوں میں جب یاد تمھاری ستائے گی اور نیند ... Read More »

نور قلب کا مہینہ

رمضان کا جو ہے مہینہ آگیا۔۔۔ سنا ہے برکتوں کا خزینہ آ گیا۔۔۔ رحمتیں برکتیں سبھی کی بارش ہے۔۔۔ رب کی روزہ داروں پر بڑی نوازش ہے۔۔۔ سبھی اٹھاتے ہیں فائدہ اس سے۔۔۔ ہم نے بھی سیکھا ہے اک قائدہ اس سے۔۔۔ کہ دل کے بغض و کینہ کو مٹا لو اس بار۔۔۔ ابھی وہ وقت ہے، منور قلب کر ... Read More »

تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں

تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں من ہی من تمھیں چاہنے لگی ہوں جوڑ کر نام اپنا تیرے نام سے میں تھوڑا سا اترانے لگی ہوں کھو کر تصور میں تیرے میں خود کو ہی بھول جانے لگی ہوں کہیں بھی کسی بھی محفل میں بیٹھوں خیالوں میں تجھے سنگ اپنے لیجانے لگی ہوں کروں جو کوئی لباس زیبِ تن ... Read More »

بدلا بہت ہے خود کو 

بدلا بہت ہے خود کو آج کے اطوار میں پھر بھی نا ڈھل سکی تہذیب جسکو کہتے ہیں ماڈرن ازم ہے دور جاہلیت کی اندھی تقلید وہ سب جدید تو اسلام ہے میرا رشتہ ازدواج کو اللہ نے اپنے ہونے کی نشانی بنا دیا ڈالکر فطری تقاضے بشر میں تکمیل کو نکاح کا حق دے دیا آزاد کیا مرد کو ... Read More »

یہ محبت کا سفر ہے

      ہم تو نکل پڑے ہیں یہ محبت کا سفر ہے منزل کی فکر نہیں یہ چاہت کا شہر ہے یک طرفہ محبت بھی عذابوں کا نگر ہے پھولوں کے نگر میں کانٹوں کا بھی ڈر ہے ملنے کی جستجو ہے کھونے کا بھی ڈر ہے آہستہ  ہیں قدم پر لمبا سفر ہے منزل ہے نا معلوم یہ ... Read More »