نظم

تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں

تمھیں ایک راز بتانے لگی ہوں من ہی من تمھیں چاہنے لگی ہوں جوڑ کر نام اپنا تیرے نام سے میں تھوڑا سا اترانے لگی ہوں کھو کر تصور میں تیرے میں خود کو ہی بھول جانے لگی ہوں کہیں بھی کسی بھی محفل میں بیٹھوں خیالوں میں تجھے سنگ اپنے لیجانے لگی ہوں کروں جو کوئی لباس زیبِ تن ... Read More »

بدلا بہت ہے خود کو 

بدلا بہت ہے خود کو آج کے اطوار میں پھر بھی نا ڈھل سکی تہذیب جسکو کہتے ہیں ماڈرن ازم ہے دور جاہلیت کی اندھی تقلید وہ سب جدید تو اسلام ہے میرا رشتہ ازدواج کو اللہ نے اپنے ہونے کی نشانی بنا دیا ڈالکر فطری تقاضے بشر میں تکمیل کو نکاح کا حق دے دیا آزاد کیا مرد کو ... Read More »

یہ محبت کا سفر ہے

      ہم تو نکل پڑے ہیں یہ محبت کا سفر ہے منزل کی فکر نہیں یہ چاہت کا شہر ہے یک طرفہ محبت بھی عذابوں کا نگر ہے پھولوں کے نگر میں کانٹوں کا بھی ڈر ہے ملنے کی جستجو ہے کھونے کا بھی ڈر ہے آہستہ  ہیں قدم پر لمبا سفر ہے منزل ہے نا معلوم یہ ... Read More »

زرد گلابوں بھرا رستہ

 سنو اب کے جو تم ملنے آؤ گے بہت سی باتیں کرنی ہیں کچھ اپنی کہانی کہنی ہے کچھ قصے تمھارے سننے ہیں اس بار جو ملنے آؤ تو پھر لوٹ کے تنہا مت جانا کچھ شعر ہمارے لے جانا کچھ نغمے اپنے دے جانا دسمبر کی سرد شاموں میں لمبی کالی راتوں میں جب یاد تمھاری ستائے گی اور ... Read More »

تم اتنے مطمئن کیسے ہو صاحب

تم اتنے مطمئن کیسے ہو صاحب میرا جسم ہی نہیں روح بھی جل رہی ہے لگا تھا میلہ جواپنوں کا وہاں سے کچھ آگ ہم نے سمیٹی تھی نئی منزلوں کی جستجو میں زمانے کی خاک ہم نے سمیٹی ہے مگر وہ سب تو لعل و جواہر نکلے زمانے نے پتھر جو ہم پر اچھالے تھے کبھی کسی سے دل ... Read More »

میرے ہم نشیں میرے ہم سفر

میرے ہم نشیں میرے ہم سفر ہرگھڑی ہوں میں تیری منتظر نئی محبتوں کی تلاش میں کیوں بھٹک رہے ہو یوں در بدر گر ہوسکے تو اک کام کر اپنی بیقراری کو میرے نام کر تو ٹھہر میری محبتوں کے سائے میں تو کچھ دیر تو یہاں قیام کر چھوڑ کر دنیا کی رنگینیاں تو زندگی میں اپنی محبتوں کے ... Read More »

یاد ماضی

آزاد نثری نظم آؤ آگ کی باتیں کریں ملکر پیار کی باتیں کریں وہ جو کسی دور میں ہوتا تھا آج اس دور کی باتیں کریں کبھی شبنمی صبحیں کبھی سرمئی شامیں بھیگ کر جزبات میں برسات کی باتیں کریں گرمیوں کی دوپہریں کبھی سرد راتیں بھول کر عمررفتہ کو چاندنی رات کی باتیں کریں تھا قصور تیرا یاپھر میرا ... Read More »

وطن عزیز کے حالات

مجھے قلمزن کرنا ہے وطن عزیز کے حالات کو  مجھے رقم کرنا ہے وطن عزیز کے معاملات کو  میں ضرور لکھوں گا آزادی کا ا صل مقصد کیا تھا  بے بہا قربانیا ں ، جو اجنبی ٹھہریں ، پر اٹھنے والے سوالات کو  کس کس نے دو لخت کرکے پاکستان کو بنگلہ دیش بنا یا ہے کس کس نے غداری  ... Read More »

جلسہ جلوس

جلسہ جلسہ جلوس جلوس  واسکٹ میں لیڈر ملبوس  قوم کو بیوقوف بناتا ہے  نت نئے نعرے  لگاتا  ہے  اقتدار  میں جب بھی آتا ہے  قوم کا پیسہ مزے سے کھاتا ہے  عوام غریب سے غریب تر ہوئی  یہ ڈگڈی پہ ان کو  نچاتا  ہے  تعلیم صحت ، روٹی کپڑا مکان اور روزگار  خوشنما نعروں سے دلوں کو  للچاتا ہے  جنگ ... Read More »

تحفہ

آزاد نثری نظم اسکی محبت کے بدلے میں بہت سے تحفے میں نے بھیجے تھے وفا خلوص ایثار انسیت قربت جزبوں کی سرشاری پاکیزگی محبت کی بدلے میں اس نے ہجر مجھکو بھیجا ہے یہ کیسا تحفہ ہے؟ سب کچھ تو دے چکی ہوں اب کچھ تو لوٹانا ہے رسم تو نبھانا ہے ہجر کے بدلے میں کیا تجھ کو ... Read More »