“وہ “ہے

از طرف :میمونہ صدف

(یہ افسانہ کتاب پلک بسیرا سےلیا گیا )
یہ جنگل کا قدرے سنسان حصہ تھا۔ اس حصے میں انسان باآسانی نہیں آپاتے تھے۔ اور شاید انسانوں کا جنگل کی تنہائیوں اور اداسیوں میں گزر بھی اب قصہء پارینہ بنتا جا رہا تھا ۔ہر طرف درخت اور ایک پر اسرار سی خاموشی تھی ایسی خاموشی جس میں کسی مظلوم کی سسکیاں تک ہوا کی سائیں سائیں میں گم ہو جاتی ہیں ۔اور شاید سسکیاں تو مقدر ہی مظلوم کا ہوا کرتی ہیں۔ کیوں کہ ظالم تو سسکیوں میں سے بھی اپنے لیے خوشیاں تلاش کر لیتے ہیں اور ہوا سائیں سائیں کی آواز کی صورت وہ سسکیاں اپنے سینے میں چھپائے کبھی اس درخت سے لپٹ کر روتی تھی کبھی اس درخت سے ۔ اس کا دل بھی بے بہاخاموش سسکیوں سے بوجھل تھا اس کا اپنا دکھ تو شاید کچھ نہ تھا لیکن وہ اس جنگل کے مکینوں کی خاموش سسکیوں کا بوجھ اپنے سینے سے





لگائے روتی پھرتی تھی ۔سائیں سائیں کی آواز سننے والے ان خاموش سسکیوں کو سننے سے قاصر تھے ۔
اسی جنگل کے بیچوں بیچ وہ چڑیا ایک کمزور سی ٹہنی پر بیٹھی تھی ۔وہ ظلم کا شکار مظلومیت کی مکمل تصویر تھی۔ اس نے آنکھ اٹھا کے دیکھا اس کے چاروں جانب گدھ بیٹھے تھے ۔سرخ سرخ آنکھیں لیے اسے گھور رہے تھے۔ ان سب کے چہروں پر ایک مکارانہ مسکراہٹ رقصاں تھی ۔ سبھی کی نگاہیں اس کمزور سی چڑیا پر جمی تھی۔ و ہ اس کی طرف دیکھتے اور مسکراتے۔ان کی مسکراہٹ اس کی مظلومیت پہ تھی یا اس کی کمزوری پہ فیصلہ کرنا ذرا مشکل تھا لیکن دونوں صورتوں میں انجام شاید سامنے واضح تھا ۔ کمزور ، بے بس ۔ اس ننھی چڑیا کا دل ان کو مسکراتا دیکھ کر تیزی سے دھڑکنے لگتا ۔ اس نے نظریں جھکا کر کمزور ٹہنی کی جانب دیکھا یہ ٹہنی اسے کس حد تک سہارا دے سکتی تھی ۔یہ سوچ کر چڑیا کا دل خوف سے مزید دہل گیا ۔ ٹہنی ایک مظلوم کا بوجھ سہارنے کے لیے چنداں آمادہ نظر نہ آتی تھی۔ کیوں کہ ٹہنی مادیت کے اصول پہ کاربند اور از خود کمزور تھی۔ چاروں طرف موت کا رقص، قیامت خیز خاموشی، پتے بھی سرسراہنے سے شاید انکار کر چکے تھے۔ ایسا سناٹا ، جیسے موت، صرف موت۔بچ نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا ۔وہ کرے تو کرے کیا ؟؟یہاں بیٹھے رہنا بھی تو خطرے سے خالی نہیں اور وہ کب تک یہاں بیٹھ سکتی ہے ؟۔بیٹھے رہنا ممکن نہ تھا۔ اڑنے کی ہمت نہیں تھی۔ ٹہنی میں بوجھ سہارنے کی ہمت نہیں۔ ہوا زندہ اڑانے کے لیے تیار نہیں۔ موت یقینی سامنے تھی۔یہ گدھ اسے ہر حال میں اسے نوچ کھائیں گے ۔وہ جیسے جیسے سوچ رہی تھی ویسے ویسے اس کے خوف ، اور دکھ میں اضافہ ہو رہا تھا ۔ گویا موت کا رقص جاری ہونے ہی کو تھا۔ وہ خود کو بے انتہا بے بس محسوس کر رہی تھی ۔اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں تھا۔گدھ جس نظر سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اسے ان کے نوکیلے پنجے اپنے جسم کے آر پار چیرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ اور یہ تصور شاید حقیقت سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
“اﷲ” اس نے کرب میں آسمان کو دیکھ کر اس ہستی کو پکارا جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے ۔جو زندگی اور موت کا مالک ہے ۔وہ اس کے علاوہ پکارتی بھی تو کس کو ۔بادی النظر میں اسے لگا جیسے ہادی برحق بھی مدد کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن در اصل یہ اس کا امتحان تھا۔ وہ اپنی تخلیق کا امتحان لینا چاہ رہا تھا۔ اور وہ امتحان پہ سر تسلیم خم کی صورت بننے جا رہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں سے دو قطرے گرے اوراس کے چہرے کو بگھوتے ہوئے ہوا میں تحلیل ہو گئے ۔ اور وہ مایوسی چادر اوڑھے موت سے گلے ملنے کو مکمل تیار تھی کہ نمی کا احساس سا ہوا۔ اس کے آنسو جو اس کے خیال میں ہوا میں تحلیل ہو گئے تھے۔ وہ خدا کے بھیجے گئے تحفے یعنی بارش کی نمی میں مل گئے تھے۔ اور یہ نمی شاید اس کی مظلومیت کا انعام بن کے آئی تھی۔
اسی اثناء میں بارش کا ایک تیز ریلا آیا ۔بارش کا یہ تیز ریلا ۔ اس کے اور ٹہنی کے تعلق کو ہمیشہ کے لیے توڑنے کی خبر لایا۔ اس کا ٹہنی سے ساتھ شاید اتنا ہی تھا۔ جو کمزور ہوں ان کا ساتھ شاید کم ہی ہوتا ہے ۔ چڑیا کا گرنا تھا کہ چاروں طرف بیٹھے ہوئے گدھ اس کی جانب تیزی سے لپکے تاکہ اسے آن دبوچیں لیکن بارش اور ہوا کی تیزی نے چڑیا کوقریبی ندی میں لا پٹخااورگدھوں کوچڑیا تک پہنچنے نہ دیا۔ اس کا گرنا اور گدھوں کا اس پہ لپکنا۔ اب شاید قدرت کے ہاں اس کاامتحان سہنا قبولیت کی سند پا چکا تھا۔ اسی لیے طوفانی بارش گدھوں اور اس کے درمیان ایک مضبوط دیوار بن کے حائل ہو گئی۔ نہیں۔ بلکہ یہ تیز بارش یہ نوید لے کر آ ئی تھی کہ اس کا مقدر ابھی موت نہیں بلکہ ظلم کے خلاف جہدوجہد ہے۔چڑیا کو بارش نے گدھوں سے بچا کرپانی کے اس تند وتیز ریلے کے حوالے کر دیا تھا ۔وہ سوچنے لگی اس جنگل سے اس کا گہرا رشتہ تھا اس کی سانسوں اوراس کی زندگی کے ہر ہر لمحے سے یہ درخت ، یہ ہو ا ، یہ پتے ،یہ گھاس سبھی واقف رہے تھے۔ وہ اڑتی تھی تو اس کے پروں کی خوبصورتی کو سراہنے والے یہ درخت ، یہ پھول یہ پتے اسے دیکھا کرتے تھے ۔لیکن آج جب وہ زندگی اورموت کی بازی کھیل رہی تھی تو یہ سب کے سب خاموش تھے ۔ خاموش افسردہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے لیکن اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔وہ گومگو کی سی کیفیت میں تھی۔ جنگل جسے اس نے اپنا سمجھا تھا۔ مصیبیت میں اس سے بیگانہ ہو گیا تھا۔ اور بارش جسے وہ اپنے لیے وبال سمجھتی تھی اس کے لیے قدرت کی طرف سے مسیحا بنا دیا گیا تھا۔ آج شاید اسے مسیحا کا حیقی مطلب بھی سمجھ آ چکا تھا۔ ا اب اس کے آنسوؤں اور ندی کے تیز دھار پانی میں کوئی فرق باقی نہ رہا تھا ۔ وہ دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئی ، اسے موت کا تو شاید اتنا دکھ نہ تھا لیکن اس جنگل کی خاموشی کا افسوس ہر افسوس سے بڑھ کرتھا۔ وہ یاس و امید کی ایسی چکی میں پس رہی تھی۔ جس سے ایک نیا حوصلہ جنم لے رہا تھا۔ ایک ایسا جنم جو قدرت چاہتی ہے۔ ایسا جنم جس کے لیے اسے تخلیق کیا گیا تھا۔
۔گدھ اسے ڈوبتا دیکھ رہے تھے اور افسوس کر رہے تھے کہ ان کا شکار پانی کی نظر ہو گیا اور وہ کچھ نہ کرپائے ۔وہ غصے میں ایک دوسرے کو گھور رہے تھے کہ کوئی ایک بھی اس ننھی سی چڑیا کو پکڑ نہیں پایا تھا،لیکن کچھ کرنے سے قاصر تھے۔ پانی چڑیا کو بہائے لے جا رہا تھا ، چڑیا لہروں کے دوش پر کبھی پانی کے اوپر تو کبھی نیچے ۔ اس نے اب خود کو پانی کی نذر کر دیا تھا ۔ ندی کا پانی اس کو پٹختا ہوا اس کے اپنے جنگل سے کہیں دور لے آیا تھا





اور اس نے اسیاپنے جنگل سے دور کسی وادی میں ندی کے کنارے اگی لمبی لمبی گھاس پر پھینک دیا ۔وہ بے دم اس گھاس پر پڑی تھی ،سورج کی کرنیں اس ننھے وجود پر پڑ رہی تھی ۔
ہمت بندھی۔آنکھیں وا کیں۔ پر پھڑپھڑائے تو سامنے نئی منزلیں تھی۔ ایسی منزلیں جو تصور نہ تھا لیکن حقیقت بن گئی تھیں۔ سر سبز منزلیں۔ جنگل کے برعکس ۔ جہاں روشنی بلا تفریق زمین تک اپنی کرنیں نچھاور کر رہی تھی۔ جہاں روشنی اور زمین کے درمیان کوئی پرانا درخت حائل نہیں تھا۔ نہ ہی گھنے پتے۔ اس نئی وادی میں عجیب سی سرشاری تھی۔ ایسی سرشاری جیسے پوری وادی مسکرا رہی ہو ۔۔۔۔۔ ایک نئے آغاز پہ۔چاروں طرف لمبی گھاس۔ لہلاتی ہوئی کونپلیں۔ لیکن ان کونپلوں میں ایک اپنا پن تھا۔ ایک ایسا تعلق جس میں اجنبیت نہ تھی۔ نہ جانے کتنے ہی لمحے گزر جانے کے بعد چڑیا بالکل ہوش میں آ گئی ۔ اب اسے محسوس ہوا کہ اس کی بوجھل سانس اب بوجھل نہیں رہی اور اس کے پر بھی پانی کے بوجھ سے آزاد ہو چکے ہیں ۔اس نے اپنے پر پھیلائے ۔ اور سوچنے لگی
کیا وہ اڑ سکتی ہے ؟؟؟”
“ہاں ۔۔۔”وہ اڑانا نہیں بھولی تھی ۔ اس نے ایک کلکاری بھری اور ایک اڑان بھری ۔خوشی میں ایک اونچی اڑان بھری اور چہچہاتے ہوئے اڑنے لگی ۔اب اس کے سامنے ایک ہرا بھرا میدان تھا اورکھلا آسمان تھا۔ دیس اجنبی تھا لیکن وہ زندہ تھی ۔ وہ خوشی سے جھوم رہی تھی ۔
وادی نے اسے کھلے دل سے قبول کیا۔ اس کے پروں پہ جما نا امیدی کا پانی خشک ہونا شروع ہو گیا۔ اور اس کی نم آنکھوں کی نمی شاید خوشی کے آنسوؤں میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی تھی۔ جس وادی تک پہنچنے میں اسے دکھوں نے گھیرے رکھا تھا۔ اس میں پہنچ کر دکھ کی جگہ ایک نئے حوصلے نے لے لی تھی۔ اسی حوصلے نے اس کو بلند پرواز کی ترغیب دی۔ حوصلے کی پرواز نے اسے نئے ساتھیوں سے روشناس کروایا جنہوں نے اسے خوشی سے اپنا غول کا حصہ بنا لیا۔ کیوں کہ غول تو بنتے ہی حوصلے اور ہمت سے ہیں۔ اور اس کی پرواز میں حوصلہ اور ہمت ہی تو واضح دیکھا جا سکتا تھا۔
وہ اس بات پر خوش بھی کہ اس کے آنسو اوراس کی پکارربِ ذوالجلال کے ہاں منظور ہوئی ۔وہ
زبِ ذوالجلال جو دور ہرگز نہیں ۔بس ہمیں محسوس ہو تا ہے کہ وہ شاید دور ہے ۔





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*