قوم کی بیٹی کی تذلیل پر کیوں نہ جاگی غیرت..؟؟

تحریر . محسن رفیق
          اسلام نے عورت کو بہت اعلی مقام عطاء کیا ہے وہ ماں بہن بیٹی اور بیوی جس رشتے میں بھی ہے اس کی عزت احترام کے ساتھ اس کے حقوق کی ادائیگی کا حکم ہمیں ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔ دین اسلام عورتوں کو جائیدادوں میں حصہ دینے کا ہمیں پابند کرتا ہے جو دین اسلام سے پہلے ایسا نہ تھا اور ایسا نہ ہی کسی اور مذہب میں ہے۔ عرب میں اسلام کی روشنی پھیلنے سے پہلے عورتوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا تھا جبکہ کہ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کی بھیانک رسم بھی موجود تھی جس کا مقصد صرف بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہ تھا۔
      موجودہ دور میں خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ظلم اور ان کے حقوق کی پامالی ہر طرف جاری ہے ہماری دین اسلام سے دوری نے خاص کر خواتین معاملے میں موجودہ دور میں ہونے والی ناانصافیوں نے  جہالت کے رسم و رواج کو زندہ کر دیا ہے۔ پوری دنیا میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کے علاوہ ان کو تصب کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ہم صرف اپنے ملک اور معاشرے کو دیکھیں لیں تو ہرروز حوا کی بیٹی بے گناہ قتل بھی ہوتی ہے اور کسی کی حوص کا نشانہ بھی بنتی ہے تو کہیں بازاروں اور گلیوں میں رسوا بھی ہوتی ہے ہم اپنے معاشرے کے درجنوں واقعات اخبارات میں پڑھتے بھی ہیں اور خبروں میں سنتے اوردیکھتے بھی ہیں۔ معاشرے کی ایسی درناک داستانیں سن کر خون کھول اٹھتا ہے دین اسلام نے معاشرے میں ماں بہن بیٹی کو تو اعلی درجہ عطاء کیا تھا پر معاشرہ ان کے ساتھ کیا کر رہا ہے کیا مرد کی حاکمیت یہی ہے جب عورت اپنے جائز حقوق مانگ تو اسے قتل کر دو ۔ اپنے گناہوں کی معافی کے بدلے اپنی بہن اور بیٹی کو سولی چڑھا دو ۔ اور اپنے بدلے کی آگ بجانے کے لئے کسی کی بہن بیٹی کو سر بازار برہنہ کر کے گلیوں میں رسوا کرتے رہو.کیا ان کی کوئی عزت نہیں ہے کیا ان کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہے.؟
           جس ریاست میں عوام کی خدمت کے لئے وزیروں مشیروں کی ایک فوج موجود ہو جن کے ایک اشارے پر اور حکم کی بجاآوری کے لئے درجنوں ادارے ہوں اور ان اداروں میں لاکھوں کارکن موجودہ ہوں تو اسی ریاست میں 27 اکتوبر2017 کے دن کو ڈیرا اسماعیل خان کے گاؤں گرہ مٹ میں ایک سولہ سالہ لڑکی کو درندے پکڑ کر  جنسی حوص کا نشانہ بنانے کے بعد اسے برہنہ کر کے گلیوں کا چکر لگواتے ہیں۔ یہ دردناک کھیل اگر مرے ہوئے لوگوں کی بستی میں ہوتا تو مردے بھی غیرت سے اٹھ کھڑے ہوتے پر یہاں کے لوگ


صرف نام کے زندہ تھے یعنی زندہ لاشیں وہ بچاری ان زندہ لاشوں کے بیچ چلتی رہی کسی کی غیرت نے نہ تو ٹھاٹھے مارے اور نہ ہی غیرت جاگی غیرت جاگتی بھی کیسے وہ تو مردہ ہو چکی تھی جب انسان کی غیرت مرتی ہے تو غیرت کے ساتھ لفظ” بے ” لگ جاتا ہے جب غیرت کے ساتھ “بے” لگ جائے تو پھر انسان کی اپنی بہن بیٹی ہو یا دوسروں اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اس کے ساتھ جو بھی ہو رہا ہو ڈیرہ اسماعیل خان کی وہ بیٹی جس کے ساتھ یہ ظلم ہوا ہے وہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان یا خیبر پختونخواہ کی بیٹی نہیں تھی بلکہ وہ پنجاب سندھ بلوچستان گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی بھی بیٹی تھی بلکہ وہ تو عالم اسلام کی بیٹی تھی ۔ اتنے بڑے ظلم پر حکمرانوں ارباب اختیار کی


خاموشی ہماری اور معاشرے کی بے حسی ایک سوالیہ نشان ہے؟ وہ سوالیہ نشان ہمارے ضمیر سے پوچھتا ہے کہ یاد ہے نہ عرب سے ایک بہن کی پکار پر  سپہ سالار اعظم محمد قاسم نے لبیک کہتے ہوئے دایبل کی سلطنت کو الٹا کر رکھ دیا تھا وہ تھی مسلمانوں کی غیرت پر آج کے دور میں ایک قوم اور عالم اسلام کی بیٹی بازاروں میں رسوا ہوتی رہی پر ہم تماشا دیکھتے رہے اور اس تماشے نے معاشرے کے منہ پر تماچہ مار کے پوچھا ہے کیا تم سب سو رہے ہو ۔ کیا تمہاری غیرت کے ساتھ “بے” لگ گئی ہے؟ آپ سب کیوں نہیں بولتے آپ سب کیوں خاموش ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*