..کتاب : کرب ِ محبت

تحریر و تبصرہ : نبیلہ خان
..کتاب : کرب ِ محبت
تحریر : مصنفہ فہمی فردوس
 جیسا کہ آپ سب کو ناول کے نام سے ہی اندازہ ہو رہا ہوگا کہ یہ داستان محبت پر مبنی ناول ہے لازوال عشق کی لازوال کہانی جس میں محبت کے الوہی جذبے کے ہر رنگ کو فہمی نے بہت ہی خوب صورت انداز میں پیش کیا کرب ِ محبت کو پڑھنے کا جتنا اشتیاق تھا اس ناول کے پہلے صفحے کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ میرا اشتیاق مذید بڑھتا گیا ، ہر سطر اپنے اندر ایک مکمل داستان رقم کئیے ہوئے ہے کرب محبت کا خود کلامیہ اور آپ بیتی والا انداز اس کی ایک ایسی خوبصورتی ہے جو پڑھنے والے کو مسحور کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی مجبور کرتا ہے کہ اس کتاب کو بغیر رکے پڑھا جائے فہمی کی کردار نگاری اور منظر کشی کا جواب نہیں وہ اپنے ہر کردار کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا ہنر جانتی ہے اور منظر کشی اس درجہ کمال کی کرتی ہے کہ انسان اسی منظر میں خود کو موجود پاتا ہے ناول کو پڑھتے ہوئے میرے رونگھٹے بار بار کھڑے ہوئے اور میں پڑھنے سے زیادہ خود کو رونے پر مجبور پاتی رہی بار ہا آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے ایک ایک پیرا گراف کو پڑھنا اس ناول کے مسحور کن ہونے کی واضح دلیل ہے
      اب آتی ہوں کرداروں کی طرف :۔
۱ ۔۔۔۔ نورین فلک ناز ۔۔۔ جس نے اپنی کہانی کو کچھ اس انداز میں بیان کیا کہ ہر حساس عورت کو اپنا وجود نورین فلک ناز کے وجود میں ضرور نظر آیا ہو گا پاکیزہ مگر عشق ِ ممنوع پر مبنی یہ کہانی اپنے اندر معاشرے کے ہر رویے کی خوبصورتی سے عکاسی کرتی نظر آتی ہے
۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جبار ۔۔۔۔۔۔ ایک ایسا فرد جو ہمارے معاشرے کے ہر گھر میں پایا جاتا ہے خود پسند انا پرست اور اپنی ذات کے علاوہ کسی کو کچھ نہ سمجھنے والا بہت خوبصورت انداز میں جبار کی شخصیت کے منفی پہلوووں کو اجاگر کرتی فہمی کی کردار نگاری نے جبار کے کردار میں ایسی جان ڈالی ، کہ مجھے تعریف کے لیے الفاظ کم پڑھ گئے ہیں ،
جیتا جاگتا حقیقت پت مبنی جبار کا کردار جہاں تکلیف دہ رہا وہاں فہمی کی فہم و فراست کا منہ بولتا ثبوت بھی رہا ، اور سب سے خوشی کی بات جو مجھے جبار کا کردار پڑھتے ہوئے ہوئی کہ فہمی مردوں کی نفسیات کو بھی بہت اچھی طرح لکھتی ہے ، ہر منفی اور مثبت پہلووں کے ساتھ ، ناول میں یوں تو بہت سارے کردار ہیں مگر مجھے جس کردار نے زیادہ متاثر کیا وہ جبار کا کردار رہا ، کیونکہ جبار کے کردار میں کوئی تشنگی کا احساس نہیں تھا ، وہ مکمل اور حقیقت پر مبنی کردار تھا ۔
۳۔۔۔ خاور۔۔۔۔   ناول کا ہیرو ایک بالکل عام سا شخص جس نے زندگی کی تلخیوں کو قریب سے دیکھا غیر ہموار عائلی زندگی کی مشکلات ، پہلی محبت کی شدت ، پھر محبت میں ناکامی ، یہ سب فہمی نے ایسے خوبصورت انداز میں تحریر کیا کہ ناول کی ہر سطر پر حقیقت کا گمان غالب رہا ، خاور اور روزینہ کی داستانِ محبت کو لکھتے وقت فہمی کے قلم نے جو بے باکی دکھائی وہ انسانی رویے کی حقیقی معنوں میں عکاسی کرتی ہے ، یہ حقیقت ہے ، عشق کے جذبے منہ زور ہوتے ہیں ، قید اور پابندیاں ، عشق اور محبت میں نہ مانی جاتی ہیں اور نہ عشق ان پابندیوں کو پسند کرتا ہے اگر ناول کے ہر کردار پر لکھنے بیٹھوں تو ایک کہانی کی صورت میں سامنے آئیں




گے ، اس ناول کو لکھتے ہوئے مجھے نہیں پتہ کہ فہمی کی کیا سوچ کار فرما تھی اس نے اپنے ہر کردار کے ساتھ انصاف کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے ، اور اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہی ۔ مگر بعض جگہوں اور پہلووں سے فہمی نے نظریں چرائی ہیں معذرت کے ساتھ اگر میں یہ ناقدانہ تجزیہ نہ پیش کروں تو میری یہ اپنی قلم کے ساتھ ساتھ فہمی سے دوستی کے لئے بھی سود مند نہیں ہو گا ، کیونکہ سب اچھا ہے کی رپورٹ بہرحال سیاستدانہ اور منافقت پر مبنی ہوتی ہے ، اب میں آتی ہوں بنیادی پلاٹ کی طرف ، جو اس کہانی کا اصل موضوع ہے اور وہ ہے ایسے عشق کی داستان جو مجبوریوں اور حدود میں بندی ہوئی ہے ایک ایسی معاشعرتی سچائی جس میں نورین اور خاور جیسے ان گنت لوگ بندھے ہوں گے مگر مزہب اور معاشرتی حدود کی ان دیواروں کو توڑنا ان کے بس سے باہر کی بات ہوتی ہے ، فہمی نے جس خوبصورتی سے نورین کی نجی زندگی اور ان کی مشکلات کا احاطہ کیا وہاں اس نے اس کی محبت کی شدتوں کو پوری طرح اجاگر کرنے سے بھی گریز کیا ، نہ ہی خاور کے جذبوں کی شدتوں کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ۔ حالانکہ یہ وہ پہلو تھا جس پر اس ناول میں مزید چار چاند لگ سکتے تھے ، محبت وہ الوہی اور خوبصورت جذبہ ہے جو آپ کو پوری طرح لپیٹ




میں لیتا ہے ، محبت کرنے والے کے ہر انداز اور ہر احساس سے سر شاری خود بخود جھلکتی ہے ، مگر معذرت کے ساتھ فہمی نے اس پہلو سے پہلو تہی کی ہے ، وجہ کچھ بھی رہی ہو ، مگر محبت کی شدت کو نہ لکھ کر اس نے محبت کے جذبے اور ناول دونوں سے نا انصافی کی ، دوسری محوش کا رویہ بھی اس کے ساتھ کس وجہ سے ایسا تھا اس پر بھی فہمی نے کچھ خاص روشنی نہیں ڈالی ۔ بہنوں کے درمیان پائی جانے والی رقابت کا اصل پہلو بھی تشنہ رہا ، بلال اور جبار جیسے منتقم مزاج بھائی اور شوہر نے بھی نورین کو اس درجہ کی سزا نہیں دی ، جو کہ کہ مردوں کے اس معاشرہ میں عام طور پر رائج ہے ، یہ کچھ سوالات میرے ذہن میں ابھرے جن کو پوچھنے کی جسارت میں فہمی سے ایک دوست اور تبصرہ نگار ہونے کے ناطے پوچھنا چاہتی ہوں ، امید ہے کہ وہ تسلی بخش جواب سے نوازے گی ۔ آخر میں فہمی فردوس کے لیے بہت سی دعائیں اور محبت ، کامیابی ہمیشہ تمہارے قدم چومے ۔ آمین ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*